کچھ مشکل آسان ہوئی، ارکان، مفاعلن، فعلاتن، مفاعلن، فاعلن:
ابھی اتار کے کاندھوں سے دھر رکھی ہے تھکن
لپٹ کے پیر سے میرے تو رو پڑی ہے تھکن
÷÷ میری نظر میں یہ مطلع کمزور نہیں، بے حد کمزور ہے۔۔آپ سےتو اس سے بہت زیادہ کی توقع کرنی چاہئے۔۔
اول تو دھر رکھی ہے میری سمجھ میں نہیں آیا، اگر یہ محاورہ درست ہے ۔۔۔ تب بھی مصرع درست نہیں لگتا۔۔۔شاید ’’ابھی اتار کے کاندھوں سے رکھ تو دی ہے تھکن‘‘ کرنے سے یہ درست ہو، لیکن پھر مصرع ثانی سے اس کا تال میل ایک سوالیہ نشان بن جائے گا۔۔۔ دوسرا مصرع اس سے بہتر لگتا ہے۔۔۔ پہلے پر حیران ہوں۔۔
برس رہا تھا لہو رات میری آنکھوں سے
سحر کے ہونے تلک آنکھ میں جلی ہے تھکن
÷÷درست
نشان وقت کے اس طرح نقش ہوتے گئے
غم حیات کے مانندجم گئی ہے تھکن
÷÷غم حیات تو ہر لحظہ متغیر ہے، لیکن اس کو آپ نظریاتی اختلاف کہہ سکتے ہیں۔۔ پہلے مصرعے کا دوسرے سے ربط پھر بھی قدرے کمزور لگتا ہے۔۔۔’’غم حیات کے مانند‘‘ میں’’کی مانند‘‘ لکھنا چاہئے تھا، لیکن ہوسکتاہے یہ علاقائی اختلاف ہو اور کچھ نہ ہو۔۔۔
نبھا رہی ہے مرا ساتھ لمحہ لمحہ وہ یوں
کہ آگے آگے مرے مجھ سے دوڑتی ہے تھکن
۔۔۔درست۔۔۔حالانکہ کام پہلے کرتے ہیں، تھکن بعد میں طاری ہوتی ہے۔ اگر پہلے ہوجائے تو کام کرنا محال ہو۔۔
تمہاری یاد بنی ایک ابر تر یوں اسد
سفر میں آنکھ رہی میری اور نمی ہے تھکن
÷÷درست۔۔۔