ابھی امکان میں کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ عارف عزیز

عین عین — دسمبر 2، 2010 11:13 صبح
ابھی امکان میں کچھ بھی نہیں ہے
ہمارے دھیان میں کچھ بھی نہیں ہے
مسافر ہوں، سوائے دھول مٹی
مرے سامان میں کچھ بھی نہیں ہے
تمھاری یاد میں نقصان تو ہے
مگر نقصان میں کچھ بھی نہیں ہے
ہمیں بھی آن کی پروا بہت ہے
اگرچہ آن میں کچھ بھی نہیں ہے
گلاب و موتیا، چنپا، چنبیلی !
مری پہچان میں کچھ بھی نہیں ہے
بہت دشوار کر لو زندگی کو
مزہ آسان میں کچھ بھی نہیں ہے
محمد وارث — دسمبر 2، 2010 12:10 شام
لاجواب۔
بہت شکریہ عارف صاحب خوبصورت غزل شیئر کرنے کیلیے۔
عین عین — دسمبر 2، 2010 12:26 شام
وارث بھائی اور سخنور شکریہ بعد کے لیے اٹھا رکھیں۔ غزل یہاں آپ کی رائے حاصل کرنے اور اپنی غلطیوں تک پہنچنے کے لیے پیش کی ہے۔ اس میں سقم دور کریں اور میری غلطی کی نشان دہی کریں۔ آپ کا ممنون رہوں گا۔ مجھے “مری“ میں مسئلہ معلوم ہو رہا ہے اور اسی طرح دوسرے شعر میں “مرے“ سے بھی مطمئن نہلیں ہو۔ ہو سکتا ہے درست باندھا ہو مگر آپ کچھ کہیں تو بات بنے ورنہ پریشان رہوں گا
فرخ منظور — دسمبر 2، 2010 1:31 شام
عارف، میں تو شکریہ ہی ادا کر سکتا ہوں۔ غزل کے بارے میں اساتذہ ہی رائے دے سکتے ہیں۔
محمد وارث — دسمبر 2، 2010 2:48 شام
وارث بھائی اور سخنور شکریہ بعد کے لیے اٹھا رکھیں۔ غزل یہاں آپ کی رائے حاصل کرنے اور اپنی غلطیوں تک پہنچنے کے لیے پیش کی ہے۔ اس میں سقم دور کریں اور میری غلطی کی نشان دہی کریں۔ آپ کا ممنون رہوں گا۔ مجھے “مری“ میں مسئلہ معلوم ہو رہا ہے اور اسی طرح دوسرے شعر میں “مرے“ سے بھی مطمئن نہلیں ہو۔ ہو سکتا ہے درست باندھا ہو مگر آپ کچھ کہیں تو بات بنے ورنہ پریشان رہوں گا

عارف صاحب اگر آپ یہ بھی لکھ دیتے کہ 'مرے' اور 'مری' سے مطمئن کیوں نہیں ہیں تو زیادہ وضاحت ہو جاتی۔ بہرحال حرفے چند:
یہ غزل بحر ہزج کی ایک ضمنی صورت مسدس محذوف میں ہے، اور اسکے افاعیل ہیں
مفاعیلن مفاعیلن فعولن
اب اگر ہر مصرع "مفاعیلن" کی "مَ" سے شروع ہوگا تو ہر مصرعے کے شروع میں لازماً یہی وزن آئے گا، اگر اشاری نظام آپ کے علم میں ہو تو 1 آئے گا۔ (الف وصل کے استثنا کے ساتھ)
اب مصرعوں پر غور کریں، کیسے شروع ہو رہے ہیں، ابھی، ہمارے، مسافر، بہت، ہمیں، اگرچہ، ہر لفظ مفاعیلن کی مَ کے وزن سے شروع ہو رہا، اَ، ہَ، مُ، بُ، ہَ، اَ وغیرہ سو 'مری' اور 'مرے' وزن چاہیئے بجائے میری اور میرے کے۔
یہ صورت نہ صرف مصرعے کے شروع میں چاہیئے بلکہ ہر مفاعیلن کے شروع میں چاہیئے، لیکن مصرعوں کے درمیان ضروری نہیں کہ لفظ آپ کو متحرک لگے وہ ساکن بھی ہو سکتا ہے، جیسے قافیوں کا نون دوسرے مفاعیلن کی مَ پر آ رہا ہے(یہ روایتی عروض کا نقص ہے، عروضی اسے بھی متحرک مان کر مَ کے وزن پر لے آتے ہیں، اشاری نظام میں مَ کو متحرک یا ساکن نہیں سمجھا جاتا، بس 1 ہے چاہے متحرک ہے یا ساکن)۔
تیسرے رکن 'فعولن' کی فَ پھر ہجائے کوتاہ یا 1 ہے سو یہ ردیف کی نہیں میں نَ سے شروع ہوتا ہے، یا دیگر الفاظ مثلاً دھول مٹّی میں 'ل' سے وغیرہ۔
امید ہے وضاحت ہو گئی ہوگی بصورتِ دیگر ضرور بتائیے گا۔
والسلام
عین عین — دسمبر 2، 2010 5:12 شام
وارث بھائی بہت شکریہ۔ میں عروض سے قطعی ناواقف ہوں اور آپ کی بات سمجھنے کے لیے کئی مرتبہ آپ کا جواب پڑھنا پڑے گا تب بھی کچھ حصہ ہی سمجھ پائوں گا۔ بہرحال اسی طرح سیکھا جائے گا اور سیکھنے سکھانے کا عمل جاری رہے گا۔ آئندہ بھی آپ سے مزید سیکھنے کے لیے حاضر ہوتا رہوں گا۔
الف عین — دسمبر 3، 2010 10:32 صبح
غزل تو اچھی ہے لیکن کچھ الفاظ کھٹکے اور کچھ لفظون کی کمی محسوس ہوئی۔ خاص کر ’گلاب و موتیا‘ مجھے ناگوار گزرا۔ یہ دونوں ہندی الفاظ ہیں، ان کے درمیان فارسی کا واو عطف جائز نہیں۔
ناعمہ عزیز — دسمبر 3، 2010 10:50 صبح
یہ شاعری کب سے شروع کر دی ہے آپ نے لالہ؟:rolleyes:
عین عین — دسمبر 3، 2010 4:51 شام
غزل تو اچھی ہے لیکن کچھ الفاظ کھٹکے اور کچھ لفظون کی کمی محسوس ہوئی۔ خاص کر ’گلاب و موتیا‘ مجھے ناگوار گزرا۔ یہ دونوں ہندی الفاظ ہیں، ان کے درمیان فارسی کا واو عطف جائز نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت شکریہ توجہ کے لیے۔ آپ نے جس کمی کی بات کی ہے اگر وہ معلوم ہو جاتی تو اچھا ہوتا۔ اور وائو عطف کی بات بہت اچھی ہے ۔ یہ یوں بھی ہو سکتا ہے:
گلاب اور موتیا، چنپا، چنبیلی۔۔۔۔۔
عین عین — دسمبر 3، 2010 4:53 شام
ایک مدت ہوئی اک زمانہ ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم نے ایک مرتبہ پہلے بھی داد دی تھی مجھے۔ بھول گئیں نظم پر۔ اب کہہ رہی ہو کب سے شروع کر دی ۔ افسوس کی بات ہے بہت۔ :)
الف عین — دسمبر 4، 2010 4:34 صبح
گلاب اور موتیا یقیناً بہتر ہیں۔
اس کے علاوہ جو باتیں کھٹکیں، وہ بھی بتا ہی دوں۔
کچھ اشعار میں مصرع اولیٰ میں بھی ’ہے‘ کا استعمال
تمھاری یاد میں نقصان تو ہے
مگر نقصان میں کچھ بھی نہیں ہے
ہمیں بھی آن کی پروا بہت ہے
اگرچہ آن میں کچھ بھی نہیں ہے
اس کے علاوہ
مسافر ہوں، سوائے دھول مٹی
مرے سامان میں کچھ بھی نہیں ہے
پہلے مصرع میں ’کے‘ کی کمی محسوس ہوتی ہے، درست محاورہ یوں ہے کہ ’سوائے دھول مٹی کے‘ سامان میں کچھ ۔۔۔۔، اس کو ’بجز کچھ‘ کیا جا سکتا ہے۔
بہت دشوار کر لو زندگی کو
مزہ آسان میں کچھ بھی نہیں ہے
یہاں قافیہ محل نظر ہے، آسان یا آسانی؟
مغزل — دسمبر 4، 2010 11:20 صبح
عارف عزیز ، غزل باصرہ نواز ہوئی رسید حاضر ہے۔ ماشا اللہ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
عین عین — دسمبر 4، 2010 4:30 شام
بہت شکریہ مغل !
ناعمہ عزیز — دسمبر 4، 2010 5:41 شام
ایک مدت ہوئی اک زمانہ ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم نے ایک مرتبہ پہلے بھی داد دی تھی مجھے۔ بھول گئیں نظم پر۔ اب کہہ رہی ہو کب سے شروع کر دی ۔ افسوس کی بات ہے بہت۔ :)
او او وووووووووووووووووو
مجھے بادام کھانے پڑیں گے:rolleyes:
ویسے لالہ بادام لے کر بجھوا ہی دیں میں آج کل غریب ہوئی ہوں:rolleyes:
ایم اے راجا — دسمبر 7، 2010 4:51 شام
بہت خوب ع ع صاحب، داد قبول ہو۔
عظیم — نومبر 4، 2014 1:07 صبح
کاش میں بھی ان دِنوں آیا ہوتا اصلاحِ سُخن میں ۔
عظیم — نومبر 4، 2014 11:45 صبح
خیر ہے بابا آپ ہیں نا ۔
خالد محمود چوہدری — نومبر 4، 2014 12:09 شام
کاش میں بھی ان دِنوں آیا ہوتا اصلاحِ سُخن میں ۔

خیر دیر آید درست آید
عظیم — نومبر 4، 2014 12:10 شام
خیر دیر آید درست آید

نہیں بھائی انیائے ہوا ہے میرے ساتھ بات ''دلی'' تک جائے گی ۔
خالد محمود چوہدری — نومبر 4، 2014 12:25 شام
نہیں بھائی انیائے ہوا ہے میرے ساتھ بات ''دلی'' تک جائے گی ۔
شانتی رکھئے نیائے بھی ہوگا اور دلّی جا کے کیا کیجئے گا
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%A7%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%81%DB%92-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81-%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2.32325/