اجازت دو اگر جاناں مجھے اک عرض کرنی ہے ۔۔۔! میری پہلی نظٍم برائے اصلاح و تنقید

متلاشی — دسمبر 30، 2013 1:49 شام
اجازت دو اگر جاناں مجھے اک عرض کرنی ہے
مجھے وہ بات کہنی ہے جسے تم سے چھپایا تھا
بہت بے چین ہو کر بھی جو تم سے کہہ نہ پایا تھا
بہت رنجور ہوں میں اب ، کہ غم سے چور ہوں میں اب
زباں کچھ کہہ نہیں پاتی ، بہت مجبور ہوں میں اب
کہ حالِ دل بھی اپنا میں تو اب کچھ کہہ نہیں سکتا
سکونِ جاں کہیں کھویا، قرارِ جاں نہیں ملتا
تری یادوں میں کٹتی ہیں مری صبحیں ، مری شامیں
گذرتی ہیں ترے خوابوں میں اب تو میری سب راتیں
ذرا اک پل مجھے بھی دو ، مری یہ بات تم سن لو
نہیں کچھ مانگتا تم سے ،سوائے تیری الفت کے
مجھے اظہار کرنا ہے ، یہی اقرار کرنا ہے
مجھے تم سے محبت ہے ، مجھے تم سے محبت ہے ۔۔۔
متلاشی ۔ 2013-12-27
محمد اسامہ سَرسَری — دسمبر 30، 2013 1:52 شام
خوب۔۔۔۔
اس پر نظر ثانی فرمالیں۔
کہ حالِ دل بھی اپنا میں اب تو کچھ کہہ نہیں سکتا
متلاشی — دسمبر 30، 2013 1:53 شام
مزمل شیخ بسمل الف عین محمد یعقوب آسی
متلاشی — دسمبر 30، 2013 1:56 شام
خوب۔۔۔ ۔
اس پر نظر ثانی فرمالیں۔
معذرت اسامہ بھائی ٹائپنگ کی غلطی ہو گئی تھی۔۔۔
محمد اسامہ سَرسَری — دسمبر 30، 2013 2:01 شام
معذرت اسامہ بھائی ٹائپنگ کی غلطی ہو گئی تھی۔۔۔
شامیں اور راتیں ہم قافیہ نہیں ہیں۔
ابن رضا — دسمبر 30، 2013 2:05 شام
شامیں اور راتیں ہم قافیہ نہیں ہیں۔
اسامہ بھائی یہاں قافیہ کی پابندی ضروری نہیں۔ کہ یہ معریٰ ہے
اچھی کوشش ہے ذیشان بھائی:)۔ مگر کہیں کہیں روانی میں خلل محسوس ہورہا ہے اور مزید یہ تم کے ساتھ تیری بھی مستعمل نہیں۔ تم کے ساتھ تمھاری
محمد اسامہ سَرسَری — دسمبر 30، 2013 2:27 شام
اسامہ بھائی یہاں قافیہ کی پابندی ضروری نہیں۔ کہ یہ معریٰ ہے
اچھی کوشش ہے ذیشان بھائی:)۔ مگر کہیں کہیں روانی میں خلل محسوس ہورہا ہے اور مزید یہ تم کے ساتھ تیری بھی مستعمل نہیں۔ تم کے ساتھ تمھاری
میں اصلاح کے خانے میں اپنی رائے اسی لیے پیش کرتا ہوں کہ اصل اپنی اصلاح مقصود ہوتی ہے۔
جزاکم اللہ خیرا۔ :)
مزمل شیخ بسمل — دسمبر 30، 2013 2:29 شام
اچھی نظم ہے جناب متلاشی صاحب۔
نایاب — دسمبر 30، 2013 2:59 شام
بہت خوب
دعاؤں بھری بہت سی داد
محمد محبوب — دسمبر 30، 2013 3:07 شام
اجازت دو اگر جاناں مجھے اک عرض کرنی ہے

صاحبان ! عرض کرنی ہوتا ہے یا کرنا ؟
محمد یعقوب آسی — دسمبر 30، 2013 6:48 شام
اجازت دو اگر جاناں مجھے اک عرض کرنی ہے
مجھے وہ بات کہنی ہے جسے تم سے چھپایا تھا
بہت بے چین ہو کر بھی جو تم سے کہہ نہ پایا تھا
بہت رنجور ہوں میں اب ، کہ غم سے چور ہوں میں اب
زباں کچھ کہہ نہیں پاتی ، بہت مجبور ہوں میں اب
اس بیت میں ’’میں اب‘‘ کی جگہ ’’اب کے‘‘ کر کے دیکھئے۔ اچھا لگے تو اپنا لیجئے۔
کہ حالِ دل بھی اپنا میں تو اب کچھ کہہ نہیں سکتا
سکونِ جاں کہیں کھویا، قرارِ جاں نہیں ملتا
ملتا، سکتا ۔۔۔ قافیے پر جناب مزمل شیخ بسمل کی رائے لے لیجئے گا۔
تری یادوں میں کٹتی ہیں مری صبحیں ، مری شامیں
گذرتی ہیں ترے خوابوں میں اب تو میری سب راتیں
تم اور تو۔۔۔ ان کو یوں ملا دینا کیسا؟ جناب الف عین بہتر بتا سکتے ہیں۔
ذرا اک پل مجھے بھی دو ، مری یہ بات تم سن لو
نہیں کچھ مانگتا تم سے ،سوائے تیری الفت کے
وہی تم اور تو والا مسئلہ یہاں کچھ زیادہ کھٹک رہا ہے۔
مجھے اظہار کرنا ہے ، یہی اقرار کرنا ہے
مجھے تم سے محبت ہے ، مجھے تم سے محبت ہے ۔۔۔
آخری مصرع بدل دیجئے، یہ بہت زیادہ وہ ہے جسے پیشِ پا افتادہ کہتے ہیں۔ اسی بات کو ہزار رنگ میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ فانی بدایونی کو دیکھئے۔
متلاشی ۔ 2013-12-27

اچھی کوشش ہے۔ ایک دو باتیں نوٹ فرما لیجئے میں نے آپ کے لکھے ہوئے متن میں شامل کر دی ہیں۔
بہت آداب۔
متلاشی — دسمبر 31، 2013 2:39 صبح
صاحبان ! عرض کرنی ہوتا ہے یا کرنا ؟
میرے خیال میں اک کے ساتھ عرض کرنی ہوتا ہے اور کچھ کے ساتھ عرض کرنا ۔۔۔یعنی مجھے اک عرض کرنی ہے ، اور مجھے کچھ عرض کرنا ہے۔۔۔! باقی اساتذہ ہی بہتر رہنمائی فرما سکتے ہیں۔۔۔!
متلاشی — دسمبر 31، 2013 2:40 صبح
اسامہ بھائی یہاں قافیہ کی پابندی ضروری نہیں۔ کہ یہ معریٰ ہے
اچھی کوشش ہے ذیشان بھائی:)۔ مگر کہیں کہیں روانی میں خلل محسوس ہورہا ہے اور مزید یہ تم کے ساتھ تیری بھی مستعمل نہیں۔ تم کے ساتھ تمھاری
پسندیدگی کے لئے شکریہ ۔۔۔ براہِ کرم جہاں خلل محسوس ہورہا ہے نشان زد کردیں تاکہ اسے درست کیا جا سکے۔۔۔ !
متلاشی — دسمبر 31، 2013 2:44 صبح
اچھی نظم ہے جناب متلاشی صاحب۔
پسندیدگی کے لئے شکر گذار ہوں ۔۔۔!
متلاشی — دسمبر 31، 2013 2:49 صبح
اچھی کوشش ہے۔ ایک دو باتیں نوٹ فرما لیجئے میں نے آپ کے لکھے ہوئے متن میں شامل کر دی ہیں۔
بہت آداب۔
شکریہ استاذ گرامی میں نظرِ ثانی کے بعد دوبارہ حاضر ہوتا ہوں۔۔۔۔!
شوکت پرویز — دسمبر 31، 2013 5:40 صبح
متلاشی بھائی!
اچھی نظم ہے۔ رہا مسئلہ تو اور تم کا، تو پوری نظم کو بآسانی 'تو' میں رکھا جا سکتا ہے۔ :)
اجازت دو دے اگر جاناں! مجھے اک عرض کرنی ہے
مجھے وہ بات کہنی ہے جسے تم تجھ سے چھپایا تھا
بہت بے چین ہو کر بھی جو تم تجھ سے کہہ نہ پایا تھا
بہت رنجور ہوں میں اب ، کہ غم سے چور ہوں میں اب
زباں کچھ کہہ نہیں پاتی ، بہت مجبور ہوں میں اب
کہ حالِ دل بھی اپنا میں تو اب کچھ کہہ نہیں سکتا
سکونِ جاں کہیں کھویا، قرارِ جاں نہیں ملتا
تری یادوں میں کٹتی ہیں مری صبحیں ، مری شامیں
گذرتی ہیں ترے خوابوں میں اب تو میری سب راتیں
ذرا اک پل مجھے بھی دو دے ، مری یہ بات تم تو سن لو لے
نہیں کچھ مانگتا تم تجھ سے ،سوائے تیری الفت کے
مجھے اظہار کرنا ہے ، یہی اقرار کرنا ہے
مجھے تم تجھ سے محبت ہے ، مجھے تم تجھ سے محبت ہے ۔۔۔
متلاشی — اگست 9، 2015 4:05 شام
arifkarim
نور وجدان — اگست 12، 2015 4:35 شام
اجازت دو اگر جاناں مجھے اک عرض کرنی ہے
مجھے وہ بات کہنی ہے جسے تم سے چھپایا تھا
بہت بے چین ہو کر بھی جو تم سے کہہ نہ پایا تھا
بہت رنجور ہوں میں اب ، کہ غم سے چور ہوں میں اب
زباں کچھ کہہ نہیں پاتی ، بہت مجبور ہوں میں اب
کہ حالِ دل بھی اپنا میں تو اب کچھ کہہ نہیں سکتا
سکونِ جاں کہیں کھویا، قرارِ جاں نہیں ملتا
تری یادوں میں کٹتی ہیں مری صبحیں ، مری شامیں
گذرتی ہیں ترے خوابوں میں اب تو میری سب راتیں
ذرا اک پل مجھے بھی دو ، مری یہ بات تم سن لو
نہیں کچھ مانگتا تم سے ،سوائے تیری الفت کے
مجھے اظہار کرنا ہے ، یہی اقرار کرنا ہے
مجھے تم سے محبت ہے ، مجھے تم سے محبت ہے ۔۔۔
متلاشی ۔ 2013-12-27
اس منظوم کی خوبی ۔۔بے ساختگی ہے
متلاشی — اگست 12، 2015 5:41 شام
اس منظوم کی خوبی ۔۔بے ساختگی ہے
شکریہ ٘۔۔۔۔ایک پرسنل بات بتاؤں ؟؟؟؟؟
میں نے یہ نظم لکھی بھی بے ساختگی میں اپنی fianceeکے لیے تھی :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%AC%D8%A7%D8%B2%D8%AA-%D8%AF%D9%88-%D8%A7%DA%AF%D8%B1-%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7%DA%BA-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%D8%A7%DA%A9-%D8%B9%D8%B1%D8%B6-%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%8C-%DB%81%DB%92-%DB%94%DB%94%DB%94-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C-%D9%86%D8%B8%D9%8D%D9%85-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF.70685/