اجنبی تھی ڈگر ، اجنبی ہم سفر

ابن رضا — اپریل 3، 2014 12:43 شام
نظم برائے اصلاح

اجنبی تھی ڈگر ، اجنبی ہم سفر
شوقِ آوارگی نے کیا دربدر
راستوں میں کہیں کھو گئی زندگی
نت نئے حادثوں میں کٹی زندگی
بے حِسی دیکھ کر رو پڑی زندگی
دم بخود ہی رہی ہر گھڑی زندگی
کچھ سہارا ہی دیتا سرِ غم سرا
کوئی اپنا ہمارا بھی ہوتا اگر
اجنبی تھی ڈگر ، اجنبی ہم سفر
شوقِ آوارگی نے کیا دربدر

ہو سکا جب تلک خوب آنسو پیے
خونِ دل پر کبھی خوب رو بھی لیے
دوستوں نے بھی احسان بے حد کیے
زخم ہدیے کیے غم کے تحفے دیے
اک غرض کا سہی، کچھ تعلق تو ہے
کوچۂ یار سے اُٹھ کے جائیں کدھر
اجنبی تھی ڈگر ، اجنبی ہم سفر
شوقِ آوارگی نے کیا دربدر
اجنبی راستوں پر بکھرتے رہے
روز جیتے رہے روز مرتے رہے
عزمِ نو پھر بھی ہر آن کرتے رہے
شام ڈھلتی رہی دن گزرتے رہے
حسرت و یاس سے تن بدن میں مرے
آگ ایسی لگی جل گئے بال و پر
اجنبی تھی ڈگر ، اجنبی ہم سفر
شوقِ آوارگی نے کیا دربدر

تقطیع یہاں ملاحظہ کریں۔
ابنِ رضا کی تُک بندیاں
ٹیگ: اساتذہ کرام جناب الف عین صاحب و جناب محمد یعقوب آسی صاحب و برادران
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 3، 2014 1:17 شام
ماشاءاللہ بہت عمدہ۔
سید عاطف علی — اپریل 3، 2014 1:46 شام
میرے خیال میں ڈگر کو مؤنث کیا جائے گا ۔رضا بھائی۔
غرض میں ر مفتوح ہو گا اور ۔نذر میں ذ ساکن ۔
ہر نئی صبح ہم عزمِ نو کرتے رہے۔ اس کا وزن ٹھیک نہیں۔ترتیب بہتر کریں۔
باقی نظم بہت اچھی ہے۔خوب داد ۔البتہ تراکیب پر غور کریں بہتری کی گنجائش ہے۔
مثلاً حسرتِ آتشیں سے سرِ تن بدن ۔۔۔کچھ اچھا نہیں لگ رہا ۔وغیرہ
ابن رضا — اپریل 3، 2014 2:52 شام
ماشاءاللہ بہت عمدہ۔
پسند آوری کا شکریہ۔ شاد رہیں
ابن رضا — اپریل 3، 2014 3:07 شام
میرے خیال میں ڈگر کو مؤنث کیا جائے گا ۔رضا بھائی۔
غرض میں ر مفتوح ہو گا اور ۔نذر میں ذ ساکن ۔
ہر نئی صبح ہم عزمِ نو کرتے رہے۔ اس کا وزن ٹھیک نہیں۔ترتیب بہتر کریں۔
باقی نظم بہت اچھی ہے۔خوب داد ۔البتہ تراکیب پر غور کریں بہتری کی گنجائش ہے۔
مثلاً حسرتِ آتشیں سے سرِ تن بدن ۔۔۔ کچھ اچھا نہیں لگ رہا ۔وغیرہ
عاطف بھائی حوصلہ افزائی کے لیے ممنون ہوں، ڈگر ، غرض اور نذر کی نشاندہی کے لے سپاس گزار ہوں
دیگر دو مصرے بھی دیکھتا ہوں۔جزاک اللہ
الف عین — اپریل 3، 2014 3:30 شام
عاطف کی نشان دہی کے علاوہ اس مصرع کا کیا مفہوم ہے، سمجھ نہیں سکا
کچھ سہارا ہی دیتا سرِ غم سرا
ابن رضا — اپریل 3، 2014 3:35 شام
عاطف کی نشان دہی کے علاوہ اس مصرع کا کیا مفہوم ہے، سمجھ نہیں سکا
کچھ سہارا ہی دیتا سرِ غم سرا
جی استاد محترم.
سرِ غم سرا سے مراد۔۔۔۔ اس(غموں سے بھری ہوئی) دنیا میں.... هے
الف عین — اپریل 4، 2014 3:19 صبح
جی استاد محترم.
سرِ غم سرا سے مراد۔۔۔ ۔ اس(غموں سے بھری ہوئی) دنیا میں.... هے
دنیا کے سر سے؟؟؟؟
ابن رضا — اپریل 4، 2014 4:46 صبح
جی جس طرح سرِ بزم یا سرِ عام یا سرِ راه یا سرِ محفل وغیره استعمال کرتے هیں اسی تناظر میں یہ ترکیب استعمال کی تھی(جیسے کوئی سر محفل سهارا هی دے دیتا). بصورتِ سقم رہنمائی فرما دیں. مزید براں نظم میں سرخ سطور بارِ دگر آپ کی توجہ و قبولیت کی خواہاں ہیں
نایاب — اپریل 4، 2014 8:23 صبح
واہہہہہہہہہہہہ
بہت خوب
بہت سی دعاؤں بھری داد
ابن رضا — اپریل 4، 2014 11:16 صبح
واہہہہہہہہہہہہ
بہت خوب
بہت سی دعاؤں بھری داد
تشکر!!! جناب
الف عین — اپریل 4، 2014 6:09 شام
سرخ الفاظ درست ہیں۔ لیکن یہ سر غم سرا عجیب سا لگ رہا ہے
ابن رضا — اپریل 4، 2014 7:48 شام
سرخ الفاظ درست ہیں۔ لیکن یہ سر غم سرا عجیب سا لگ رہا ہے
جی بهتر اس میں بھی تدوین کرتا هوں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%AC%D9%86%D8%A8%DB%8C-%D8%AA%DA%BE%DB%8C-%DA%88%DA%AF%D8%B1-%D8%8C-%D8%A7%D8%AC%D9%86%D8%A8%DB%8C-%DB%81%D9%85-%D8%B3%D9%81%D8%B1.73206/