احباب دانش سے اصلاح کی درخواست

Khaaki — اپریل 6، 2019 6:48 صبح
چلو کہ رسوائی پہ ناچتے ہیں
اس کی ہمنوائی پہ ناچتے ہیں
حقیقت کو کوئی نہیں جانتا
سب سنی سنائی پہ ناچتے ہیں
چھوڑ آیا سراب میں مجھ کو
اس کی رہنمائی پہ ناچتے ہیں
عشق کو مذاق کہتے ہیں
ان کی بینائی پہ ناچتے ہیں
قیمت لگاتے ہو تخیل کی
تیری دانائی پہ ناچتے ہیں
دھڑک رہا ہے آہوں کے سنگ
دل کی شہنائی پہ ناچتے ہیں
آج ضبط ٹوٹ ہی گیا آخر
ہائے پسپائی پہ ناچتے ہیں
اس کی دل سوز اداؤں پہ
اس کی انگڑائی پہ ناچتے ہیں
مطلب کے بعد سب غائب ہیں
اپنی تنہائی پہ ناچتے ہیں
موت ہے سکوں کی قیمت اب
رب کی مہنگائی پہ ناچتے ہیں
بشر رلا کر جو رب مناتے ہیں
ان کی پارسائی پہ ناچتے ہیں
اتنا سہہ کر بھی جی رہا خاکی
تیری توانائی پہ ناچتے ہیں
یاسر شاہ — اپریل 7، 2019 7:23 صبح
بھائی مجھے تو آپ کی تخلیق وزن و بحر کی پابند نہیں لگتی -

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%A7%D8%A8-%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%B4-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA.106289/