احباب دانش سے اصلاح کی درخواست ہے

Khaaki — مارچ 16، 2019 2:41 شام
یار جتنے بھی ملے
مطلب کے سوا نہ ملے
سب میسر ہے شہر میں
بس سچی وفا نہ ملے
یہاں ہر فرد ہی رہزن
کوئی رہنما نہ ملے
کہر ہر جا ہی دکھے
پر باد صبا نہ ملے
جو بھی راحت ہے ملے
غم سے جدا نہ ملے
کوئی ہمدرد ملے
کہ جو بکا نہ ملے
کوئی تو اہل سخن
جام پیا نہ ملے
حسن ہر تھاہ ہی دکھے
فقط حیا نہ ملے
وفا ملے نہ ملے
مگر دغا نہ ملے
جو ہوں غرور کے پتلے
اُنہیں خدا نہ ملے
سب یہاں اکڑے ہوئے
کوئی گرا نہ ملے
کاش اس در کے سوا
کہیں گدا نہ ملے
وہ بدنصیب بہت ہے
جسے خدا نہ ملے
کھوٹے سب اہلِ جہاں
اِک کھرا نہ ملے
آئے گی موت ہی خاکی
اب دوا نہ ملے
عبدالرحمن آزاد — مارچ 16، 2019 3:49 شام
احباب دانش کو ٹیگ کریں جناب
منذر رضا — مارچ 16، 2019 5:41 شام
الف عین
Khaaki — مارچ 17، 2019 5:37 صبح
احباب دانش کو ٹیگ کریں جناب
ازراہ کرم آپ کر دیں مجھے نام نہیں معلوم
عظیم — مارچ 17، 2019 2:45 شام
میرے خیال میں آپ کو عروض کے بارے میں تھوڑی معلومات حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
یار جتنے بھی ملے
فاعلاتن فاعلن پر تقطیع ہو رہا ہے
اور
یہاں ہر فرد ہی رہزن
مفاعیلن مفاعیلن پر تقطیع ہو رہا ہے۔
اس کے علاوہ آپ کے تمام اشعار میں قافیہ اور ردیف درست ہے صرف وزن کا مسئلہ ہے کسی ایک بحر میں نہیں ہیں اشعار۔
Khaaki — مارچ 20، 2019 1:43 صبح
میرے خیال میں آپ کو عروض کے بارے میں تھوڑی معلومات حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
یار جتنے بھی ملے
فاعلاتن فاعلن پر تقطیع ہو رہا ہے
اور
یہاں ہر فرد ہی رہزن
مفاعیلن مفاعیلن پر تقطیع ہو رہا ہے۔
اس کے علاوہ آپ کے تمام اشعار میں قافیہ اور ردیف درست ہے صرف وزن کا مسئلہ ہے کسی ایک بحر میں نہیں ہیں اشعار۔
جی اس بارے میں کچھ خاص علم نہیں میرا از راہ کرم کوئی ذریعہ ہی بتا دیں
عظیم — مارچ 20، 2019 6:41 صبح
جی اس بارے میں کچھ خاص علم نہیں میرا از راہ کرم کوئی ذریعہ ہی بتا دیں
انٹرنیٹ پر ہی عروض کے متعلق بہت سا مواد مل جائے گا، ایک لنک یہ ہے
Khaaki — مارچ 20، 2019 7:31 صبح
انٹرنیٹ پر ہی عروض کے متعلق بہت سا مواد مل جائے گا، ایک لنک یہ ہے
بہت بہت شکریہ آپ کا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%A7%D8%A8-%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%B4-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA-%DB%81%DB%92.105990/