احباب دانش سے اصلاح کی درخواست ہے

Khaaki — اپریل 2، 2019 1:38 صبح
درد میں بھی اک مزا ہوتا ہے
عشق والوں کو پتا ہوتا ہے
اپنے زخموں پہ مسکرا دینا
یہ ہنر سب میں کہا ہوتا ہے
پوچھتے ہو کہ کیا ہے محبت
ہر انگ سلگتا ہے اور کیا ہوتا ہے
اک سرور ملتا ہے تنہائی میں
بندہ ہوتا ہے اور خدا ہوتا ہے
عشق کر کے محبوب کیا ملنا
انسان تو خود سے جدا ہوتا ہے
جو بکے ہوتے ہیں نہیں بکتے
جو نہیں بکتا وہ بکا ہوتا ہے
رِند سبھی ہوش میں ہوتے ہیں
یہاں ہر زاہد جام پیا ہوتا ہے
فقیر مست ہیں ہواؤں میں
ہر شاہ ہی مگر گدا ہوتا ہے
سنتیں ادا کرتے ہیں جوش سے
فرض جو ہو رکن قضا ہوتا ہے
ارشد چوہدری — اپریل 2، 2019 3:15 صبح
بہت اچھے خیالات ہیں مگر دوسرے شعر میں دراصل آپ کہنا چاہتے ہیں (یہ ہنر سب میں کہاں ہوتا ہے) لیکن آپ نے کہا سے جگہ پُر کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ دو مختلف الفاظ ہیں ۔کہا--کہنے کے معانی میں آتا ہے ۔ کوئی اور لفظ سوچیں یہ ویسے بھی وزن میں پورا نہیں۔۔ایک متبادل یہ ہے( اپنے زخموں پہ مسکرا دینا------اس میں بھی اک مزا ہوتا ہے )
محمد عدنان اکبری نقیبی — اپریل 2، 2019 5:58 صبح
اپنے زخموں پہ مسکرا دینا
یہ ہنر سب میں کہا ہوتا ہے
بھیا ہماری بھی ایک رائے ہے ،اگر اس شعر کو کچھ اس طرح بیاں کریں تو شاید زیادہ بامعنی ہو ۔
اپنے زخموں پر مسکرا دینا
یہ ہنر سب سے جدا ہوتا ہے
باقی استاد محترم الف عین ہی بہتر اصلاح فرمائیں گے ۔
عظیم — اپریل 2، 2019 10:30 صبح
بھیا ہماری بھی ایک رائے ہے ،اگر اس شعر کو کچھ اس طرح بیاں کریں تو شاید زیادہ بامعنی ہو ۔
اپنے زخموں پر مسکرا دینا
یہ ہنر سب سے جدا ہوتا ہے
باقی استاد محترم الف عین ہی بہتر اصلاح فرمائیں گے ۔
شعر بحر میں نہیں رہے گا
پہلا مصرع اگر بحر فاعلاتن فعِلاتن فعلن ہے تو بحر سے خارج ہو جائے گا
عظیم — اپریل 2، 2019 10:35 صبح
درد میں بھی اک مزا ہوتا ہے
عشق والوں کو پتا ہوتا ہے
اپنے زخموں پہ مسکرا دینا
یہ ہنر سب میں کہا ہوتا ہے
پوچھتے ہو کہ کیا ہے محبت
ہر انگ سلگتا ہے اور کیا ہوتا ہے
اک سرور ملتا ہے تنہائی میں
بندہ ہوتا ہے اور خدا ہوتا ہے
عشق کر کے محبوب کیا ملنا
انسان تو خود سے جدا ہوتا ہے
جو بکے ہوتے ہیں نہیں بکتے
جو نہیں بکتا وہ بکا ہوتا ہے
رِند سبھی ہوش میں ہوتے ہیں
یہاں ہر زاہد جام پیا ہوتا ہے
فقیر مست ہیں ہواؤں میں
ہر شاہ ہی مگر گدا ہوتا ہے
سنتیں ادا کرتے ہیں جوش سے
فرض جو ہو رکن قضا ہوتا ہے
مطلع کا دوسرا مصرع فاعلاتن فعلاتن فعلن پر تقطیع ہو رہا ہے جب کہ بقیہ اشعار کسی ایک بحر میں معلوم نہیں ہوتے۔ ایک آدھ مصرع فاعلاتن مفاعلن فعلن پر ہے
تمام اشعار کسی ایک بحر میں ڈھالنے کی کوشش کریں
مثال کے طور پر
درد میں جو بھی مزا ہوتا ہے
عشق والوں کو پتا ہوتا ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%A7%D8%A8-%D8%AF%D8%A7%D9%86%D8%B4-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA-%DB%81%DB%92.106224/