تفسیر صاحب،
السلام علیکم!
سب سے پہلے تو یہ خوبصورت اور فیضرساں سلسلہ آگے بڑھانے پر آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ بعد ازاں درج ذیل دو نظریات سے کچھ اختلاف بھی ظاہر کروں گا:
میری سوچ یہ تھی کہ شعر پڑھنے میں 'ہ' کی آواز نہیں آتی۔ اس لیےمیں نے یہاں ‘ہ ‘ کو مکتوبی سمجھا ہے۔
اس معاملے میں میری سوچ آپ سے کچھ مختلف ہے کہ یہاں 'ہ' کی آواز ظاہر ہو رہی ہے اور میں اسے 'ملفوظی و مکتوبی' سمجھتا ہوں۔ گو کہ 'ہ' "مکتوبی غیر ملفوظی" حروف میں شمار ہوتا ہے لیکن مندرجہ بالا مثال میں 'ہ' کو گرا کر 'ے' کا اضافہ درست نہیں کیونکہ ہر دو صورتوں میں وزن ایک ہی رہے گا تو یہ ترمیم کیونکر کی جائے؟
' موت آ ' کو میں نے 'موتا' بنانا اس لئے نہیں مناسب سمجھا کہ دوسرے اشعار کو دیکھنے یہ پتہ چلا کہ یہ بحر رمل مثمن مخبون محذوب مقطوع ہے۔ اس بحر کا صدراور ابتدا ، میں سالم یا مخبون آسکتا ہے لیکن دوسرا اور تیسرا رکن (حشو) لازماً مخبون آتا ہے۔ اس وجہ سے یہاں میں' آ' کو سالم رکھا۔ ' موتا، کرنے سے پہلے حشو میں خامی پیدا ہوجاتی۔ ہوسکتا ہے کہ میری یہ سوچ غلط ہو ۔
'مخبون' کا مطلب ہے خَبن کے زحاف کے تحت بنایا گیا رکن۔ 'خَبن' کا شمار زحافات میں ہوتا ہے یعنی کسی رکن کے پہلے سبب خفیف (فا) کے دوسرے حرف کو گرانا مثلآ فَاعِلَاتُن کے فا کا الف گرا کر اسے فَعِلَاتُن بنا دیا گیا۔
لیکن 'ہَ کِ مَو آ' اور 'ہَ کِ مَوتَا' دونوں ہی فَاعِلَاتُن کی مخبون شکل یعنی 'فَعِلَاتُن' کے وزن پر پر ہیں لہٰذا 'ت' کو گرانے کا جواز ہی نہیں بچتا۔
یوں بھی 'ت' کا شمار 'مکتوبی غیر ملفوظی' حروف (ا،ن،و،ہ،ی) میں کسی صورت نہیں کیا جا سکتا یا یوں کہا جا سکتا ہے کہ تقطیع میں 'ت' کا گرانا نا جائز ہے۔
ایک مرتبہ پھر عرض کر دوں کہ میں نے وہ لکھا ہے جو آج تک عروض کی کتابوں میں پڑھا ہے۔ اور اس تنقید کا مقصد محض تبادلہ خیال ہے نا کہ دل شکنی۔
والسلام،