احوال ِغریباں ہے کہ سوزِ رواں ہے

ابن رضا — جنوری 28، 2014 6:38 شام
تازہ غزل برائے اصلاح حاضرِ خدمت ہے
احوال ِغریباں ہے یا سوزِ رواں ہے
صد حیف کہ خون ارزاں اور آب گراں ہے
جائے تو کہاں جائے نادارِ زمانہ
یاں پیشِ نظر سب کے اب سُود و زِیاں ہے
نایا ب ہوئے جب سے ایثار و محبت
ہر آنکھ میں آنسو ہیں ہر لب پہ فُغاں ہے
مفقود تھی پہلے ہی کردار کی عظمت
گفتار کا غازی بھی اب شعلہ فِشاں ہے
کیوں بھول گئے ہم وہ الفاظ سنہری
وہ بابِ اخوّت جو قرآں میں بیاں ہے

ٹیگ: اساتذہ کرام و برادران
مفعول مفاعیلن مفعول فَعولن یا مفاعیل
شیرازخان — جنوری 28، 2014 8:40 شام
بہت اعلیٰ جناب۔۔۔۔
ابن رضا — جنوری 29، 2014 5:14 صبح
بہت اعلیٰ جناب۔۔۔ ۔
شکریہ، شاد رہیں
محمد اسامہ سَرسَری — جنوری 29، 2014 5:19 صبح
غزل اچھی ہے۔
میرے لیے نامانوس وزن ہے، اس لیے پڑھنے میں مزہ نہیں آرہا۔
سید عاطف علی — جنوری 29، 2014 10:35 صبح
بحر تو واقعی بڑی منفرد اختیار کی ہے ابن رضا بھاءی۔جیسا کہ اسامہ بھاءی صاحب نے فرمایا۔کچھ گزارشات بطور تبصرہ پیش ہیں۔
آب کا استعمال اردو مین بطور نامکمل ترکیب تک روا سمجھا جاتا ہے۔مثلاۛ ۔آبِ رواں۔ فقرے کی صورت میں مجرد استعمال بہت عجیب لگتا ہے۔اسی طور سے فارسی الفاظ محل کے حساب سے برتے جاءیں۔مثلاً از قبل وغیرہ بھی فقرے کی شکل میں لہجے کو متاثر کر رہاہے۔۔۔کہیں کہیں لہجہ کچھ غیر واضح بھی ہے اور توجہ مرکوز نہیں کر پارہا مثلاً مسءول عمر ۔۔۔
نادار زمانہ کے لیے مفرد صیغہ زیادہ موزوں ہوگا۔۔۔
لیکن مجموعی طور پر بحر کا تجربہ اچھا ہے۔یہ سب ذاتی راءے ہے۔
سید عاطف علی — جنوری 30، 2014 5:32 صبح
ابن رضا بھائی اس بحر کی کوئی اور(مشہور) غزل (یا نظم) اگر مہیا ہو تو عنایت کریں ۔خواہ کسی شاعر کی بھی ہو ۔
محمد اسامہ سَرسَری — جنوری 30، 2014 6:11 صبح
میرے خیال میں اس سے ملتا جلتا مشہور وزن اس کے آخر میں ایک سبب خفیف کے اضافے کے ساتھ یہ ہے:
مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن
یارب! دل مسلم کو
وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے
جو روح کو تڑپا دے
ارکان ممکن ہے یوں ہوں یا یوں ہوں: مفعول فعولن مفعولات مفاعیلن
ابن رضا — جنوری 30، 2014 6:15 صبح
ابن رضا بھائی اس بحر کی کوئی اور(مشہور) غزل (یا نظم) اگر مہیا ہو تو عنایت کریں ۔خواہ کسی شاعر کی بھی ہو ۔
بڑا مشکل کام سونپ دیا ہے آپ نے۔ کوشش کرتا ہوں شاید مل جائے ۔ ویسے ایک اور بہتر حل ہے کہ اس کو دوبارہ اس وزن پر پیش کرتا ہوں
مفعول مَفاعیل مَفاعیل فَعولن
کیا خیال ہے؟:)
سید ذیشان — جنوری 30، 2014 6:21 صبح
بہت خوب۔ (y)
الف عین — جنوری 30، 2014 6:40 صبح
خوب بحر ہے، ویسے میں نے اس کی تقطیع اس طرح کی
مفعول مفاعیلن مفعول فعولن یا مفاعیل
احوال ِغریباں ہے کہ سوزِ رواں ہے
صد حیف کہ خون ارزاں اور آب گراں ہے
÷÷پہلے مصرع میں کہ بر وزن کے اچھا نہیں لگتا، یاں ’یا‘ کہنے میں کیا قباحت ہے؟
جائے تو کہاں جائے نادارِ زمانہ
کہ پیشِ نظر سب کے اب سُود و زِیاں ہے
÷÷یہاں بھی وہی ’کہ‘ بر وزن ’کے‘
مرتے ہیں یہاں پل پل، افلاس کے مارے
مسئول عُمَر ہے؟ تو بولے وہ کہاں ہے؟
۔۔واضح نہیں ہو سکا، روانی بھی مار لھا رہی ہے ‘تو بولے وہ‘ میں،
نایا ب ہوئے جب سے ایثار و محبت
ہر آنکھ میں آنسو ہیں ہر لب پہ فُغاں ہے
÷÷درست
مفقود تھی پہلے ہی کردار کی عظمت
گفتار کا غازی بھی اب شعلہ فِشاں ہے
۔۔ درست
ہم بھول کیوں بیٹھے ہیں وہ حرف سنہری
وہ بابِ اخوّت جو قرآں میں بیاں ہے
÷÷پہلے مصرع میں کیوں‘ محض ’کُ‘ تقطیع ہو رہا ہے جو نا گوار لگتا ہے۔ اور پھر ایک ہی حرف؟
محمد اسامہ سَرسَری — جنوری 30، 2014 6:44 صبح
کیوں بھول گئے ہم وہ حرف سنہری
محمد اسامہ سَرسَری — جنوری 30، 2014 6:45 صبح
بڑا مشکل کام سونپ دیا ہے آپ نے۔ کوشش کرتا ہوں شاید مل جائے ۔ ویسے ایک اور بہتر حل ہے کہ اس کو دوبارہ اس وزن پر پیش کرتا ہوں
مفعول مَفاعیل مَفاعیل فَعولن
کیا خیال ہے؟:)
نہیں، رہنے دیں، اب تو اصلاح بھی ہوچکی ہے اور مانوس بھی لگنے لگا ہے۔ :)
الف عین — جنوری 30، 2014 6:50 صبح
کیوں بھول گئے ہم وہ حرف سنہری

تقطیع؟
کیوں بھول گئے ہم وہ الفاظ سنہری
ابن رضا — جنوری 30، 2014 6:56 صبح
تقطیع؟
کیوں بھول گئے ہم وہ الفاظ سنہری
کیوں بھول گئے ہم وہ الفاظ سنہری
مفعول: کو بھول
مفاعیلن: گئے ہم وہ
مفعول: الفاظ
فعولن: سنہری
ابن رضا — جنوری 30، 2014 6:58 صبح
شکریہ ذیشان بھائی ، خوش رہیں
الشفاء — جنوری 30، 2014 7:10 صبح
ہائیں۔۔۔۔ ابن رضا بھائی۔۔۔ آپ بھی۔۔۔۔:eek:
اچھا لکھتے ہیں۔۔۔:)
ابن رضا — جنوری 30، 2014 7:14 صبح
ہائیں۔۔۔ ۔ ابن رضا بھائی۔۔۔ آپ بھی۔۔۔ ۔:eek:
اچھا لکھتے ہیں۔۔۔ :)
بس چھوٹی موٹی تک بندی کر ہی لیتےہیں ;)
شکریہ عزیزم شاد رہیں۔
محمد اسامہ سَرسَری — جنوری 30، 2014 7:54 صبح
تقطیع؟
کیوں بھول گئے ہم وہ الفاظ سنہری
دماغ میں ”الفاظ“ تھا اور ٹائپ ”حرف“ کردیا۔
سبقتِ ”ٹائپنگ“ :)
مزمل شیخ بسمل — جنوری 30، 2014 9:42 صبح
درست افاعیل وہی ہیں جو استاد محترم الف عین نے بتائے۔
یہ وزن یہاں سے آیا:
مفعولُ مفاعیلُ مفاعیلُ فعولن
مفعولُ مفاعیل مفاعیلُ فعولن
اان دونوں اوزان کا خلط بھی جائز ہے۔
اس میں ایک سبب خفیف بڑھا دیں تو بنے گا:
مفعولُ مفاعیل مفاعیل مفاعیلن
جس سے یہ وزن بھی بنتا ہے جیسا اوپر بتایا گیا:
مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن
اور اس میں ایک سبب خفیف کم کیا جائے تو بنتا ہے:
مفعولُ مفاعیلُ مفاعیلُ فعل
یہ رباعی کا بنیادی وزن ہے۔
ان میں ہر ایک وزن سے سولہ 16 اوزان بنتے ہیں۔ :)
ابن رضا — جنوری 30، 2014 10:15 صبح
درست افاعیل وہی ہیں جو استاد محترم الف عین نے بتائے۔
یہ وزن یہاں سے آیا:
مفعولُ مفاعیلُ مفاعیلُ فعولن
مفعولُ مفاعیل مفاعیلُ فعولن
اان دونوں اوزان کا خلط بھی جائز ہے۔
اس میں ایک سبب خفیف بڑھا دیں تو بنے گا:
مفعولُ مفاعیل مفاعیل مفاعیلن
جس سے یہ وزن بھی بنتا ہے جیسا اوپر بتایا گیا:
مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن
اور اس میں ایک سبب خفیف کم کیا جائے تو بنتا ہے:
مفعولُ مفاعیلُ مفاعیلُ فعل
یہ رباعی کا بنیادی وزن ہے۔
ان میں ہر ایک وزن سے سولہ 16 اوزان بنتے ہیں۔ :)

شکریہ شیخ صاحب اگر مذکور افاعیل درست ہیں تو پھر جو تقطیع عروض ڈاٹ کام کر رہا ہے وہ غیر حقیقی ہے تو سید ذیشان صاحب کو رپورٹ کرنا چاہیےیہ مسئلہ؟؟
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول فَعولن مفعولاتُ فَعولن
http://www.aruuz.com/Create/Output/21383#
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%AD%D9%88%D8%A7%D9%84-%D9%90%D8%BA%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA-%DB%81%DB%92-%DA%A9%DB%81-%D8%B3%D9%88%D8%B2%D9%90-%D8%B1%D9%88%D8%A7%DA%BA-%DB%81%DB%92.71632/