متلاشی — اپریل 21، 2012 6:41 شام
السلام علیکم!
مجھے اردو میں مستعمل تمام بحور کے نام بمعہ ارکان چاہئیں ۔۔۔!
استاذ گرامی جناب
الف عین صاحب، جناب
محمد وارث صاحب اور
محمد خلیل الرحمٰن صاحب پلیز میری مدد کریں ۔۔ شکریہ۔۔۔
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 21، 2012 6:51 شام
جناب ہم بھی آپ کے ساتھ سوال کرنے میں شامل ہیں۔اساتذہء کرام کی توجہ کے منتظر۔
محمد وارث — اپریل 22، 2012 4:21 شام
یہ بہت مشکل کام بتایا آپ نے ذیشان صاحب، اس کیلیے بہتر ہے کہ آپ کوئی عروض کی کتاب خرید لیں،
ویسے ایک ربط یہ رہا
محمد وارث — اپریل 22، 2012 5:09 شام
فاتح صاحب کے متفق ہونے سے یاد آیا
متلاشی ذیشان صاحب کہ فاتح صاحب نے بحور کی ایک فہرست بنائی ہوئی ہے، آپ ان سے بھی گذارش کر سکتے ہیں کہ وہ آپ کو یہ فہرست بھیج دیں۔
نبیل — اپریل 22، 2012 9:06 شام
دخل در معقولات کی معذرت چاہتا ہوں، کیا
یعقوب آسی صاحب کی کتاب فاعلات میں مطلوبہ معلومات دستیاب نہیں ہیں؟
فاتح — اپریل 22، 2012 9:35 شام
فاتح صاحب کے متفق ہونے سے یاد آیا
متلاشی ذیشان صاحب کہ فاتح صاحب نے بحور کی ایک فہرست بنائی ہوئی ہے، آپ ان سے بھی گذارش کر سکتے ہیں کہ وہ آپ کو یہ فہرست بھیج دیں۔
جی بجا فرمایا۔۔۔ میں نے جب عروض پر اپنی کتاب "مفتاح العروض" لکھنا شروع کی تھی تب تمام بحور کی فہرست بھی شامل کی تھی لیکن مفتاح العروض کا کام بیچ میں ہی رک گیا دیگر مصروفیات کے باعث۔ میں نے اس غیر مکمل کتاب کا مسودہ شاید آپ کو بھی ارسال کیا تھا۔۔۔ میں اپنے پاس بھی دیکھتا ہوں۔
محمد وارث — اپریل 22، 2012 9:35 شام
دخل در معقولات کی معذرت چاہتا ہوں، کیا
یعقوب آسی صاحب کی کتاب فاعلات میں مطلوبہ معلومات دستیاب نہیں ہیں؟
کیا خوب اور معقول دخل دیا آپ نے قبلہ

بالکل دستیاب ہیں۔
متلاشی — اپریل 23، 2012 6:23 صبح
یہ بہت مشکل کام بتایا آپ نے ذیشان صاحب، اس کیلیے بہتر ہے کہ آپ کوئی عروض کی کتاب خرید لیں،
ویسے ایک ربط یہ رہا
شکریہ محمد وارث صاحب۔۔۔ مگر یہاں ارکان نہیں بتائے گئے ۔۔۔۔!
متلاشی — اپریل 23، 2012 6:25 صبح
دخل در معقولات کی معذرت چاہتا ہوں، کیا
یعقوب آسی صاحب کی کتاب فاعلات میں مطلوبہ معلومات دستیاب نہیں ہیں؟
نبیل بھائی دے گئے ربط سے میں ایک ایک صفحہ کو کیسے کاپی پیسٹ کروں ۔۔۔ اکھٹی ڈاؤن لوڈ نہیں ہو سکتی کہیں سے ؟
متلاشی — اپریل 23، 2012 6:25 صبح
جی بجا فرمایا۔۔۔ میں نے جب عروض پر اپنی کتاب "مفتاح العروض" لکھنا شروع کی تھی تب تمام بحور کی فہرست بھی شامل کی تھی لیکن مفتاح العروض کا کام بیچ میں ہی رک گیا دیگر مصروفیات کے باعث۔ میں نے اس غیر مکمل کتاب کا مسودہ شاید آپ کو بھی ارسال کیا تھا۔۔۔ میں اپنے پاس بھی دیکھتا ہوں۔
فاتح بھائی اگر آپ مجھے وہ فہرست ارسال کر سکیں تو میں آپ کا بہت ممنون ہوں گا۔۔۔!
سید ذیشان — اپریل 23، 2012 6:40 صبح
نبیل بھائی دے گئے ربط سے میں ایک ایک صفحہ کو کیسے کاپی پیسٹ کروں ۔۔۔ اکھٹی ڈاؤن لوڈ نہیں ہو سکتی کہیں سے ؟
اس لنک سے حاصل کر سکتے ہیں۔
http://goo.gl/x22fE
محمد وارث — اپریل 23، 2012 6:53 صبح
شکریہ محمد وارث صاحب۔۔۔ مگر یہاں ارکان نہیں بتائے گئے ۔۔۔ ۔!
جی ارکان تو لکھے ہیں لیکن علامتوں میں، جیسے میں ون ٹو میں لکھتا ہوں پروفیسر صاحبہ نے ١ کی جگہ - اور 2 کی جگہ = کا نشان استعمال کیا ہے گویا
= = = کا مطلب 2 2 2 یا مفعولن ہے
= - = 2 1 2 یعنی فاعلن ہے
و علی ھذا القیاس
باسم — اپریل 23، 2012 2:41 شام
یہ سب خزانہ
اصلاح سخن نامی زمرے کے آخر میں چھپا ہوا ہے گردش زمانہ سے ریزہ ریزہ ہوکر بکھر چکا ہے
آج جب اس کی کمپیوٹر پر محفوظ فائلیں تلاش کی تو پتہ چلا حذف ہوچکی ہیں اور ساتھ میں استاذ محترم (محمد وارث) کا علم عروض کے ابتدائی مضامین پر مشتمل وہ کتابچہ بھی جسے میں نے جمع کرکے پرنٹ کیا تھا اور کچھ ساتھیوں کو بھی دیا تھا اس کتابچہ کی ہارڈ کاپی تو موجود ہے مگر سوفٹ کاپی غائب
الف عین — اپریل 23، 2012 4:22 شام
یونی کوڈ فاعلات میں بھی نہیں ہے کیا؟ دیکھتا ہوں کہ میں نے سبب اور وتد کوکیا نوٹیشن دیا ہے ۔ میری برقی کتابوں میں شامل ہے، کتنی بار لنک دوں؟
سعدیہ زندگی — اپریل 30، 2012 7:11 صبح
سلام ۔۔۔۔
مفعولن (222)کی اوپر مثال دی گئی ہے تو کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ اس کی کوئی ایک مثال کے ساتھ کوئی ایک شعر
کیوں کہ مجھ کو مفعولن کے بارے میں پتہ نہیں ہے شکریہ
سعدیہ زندگی — اپریل 30، 2012 7:16 صبح
اور مفعولاتن کے بھی بارے میں بھی کہ پوری غزل میں ہم مفعولاتن مفعولاتن مفعولاتن کا استعمال کر سکتے ہیں اور کیا
اسی طرح سے مفعولن مفعولن مفعولن کو بھی ۔۔شکریہ
محمد وارث — اپریل 30، 2012 2:34 شام
اور مفعولاتن کے بھی بارے میں بھی کہ پوری غزل میں ہم مفعولاتن مفعولاتن مفعولاتن کا استعمال کر سکتے ہیں اور کیا
اسی طرح سے مفعولن مفعولن مفعولن کو بھی ۔۔شکریہ
یہ دونوں اسطرح استعمال نہیں ہوتے۔
مفعولاتن تو کوئی رکن ہے ہی نہیں، یہ اصل میں فعلن فعلن ہے، اور یہی شکل فعلن فعلن کی بحر میں استعمال ہوتی ہے۔
مفعولن ایک رکن ہے جو مفاعیلن سے بنتا ہے اور کئی بحروں میں استعمال ہوتا ہے، لیکن چار بار مفعولن بھی کوئی بحر نہیں ہے بلکہ مفعولن مفعولن بھی فعلن فعلن والی بحر بنے گی۔
محمد اسامہ سَرسَری — مارچ 27، 2014 5:06 صبح
السلام علیکم!
مجھے اردو میں مستعمل تمام بحور کے نام بمعہ ارکان چاہئیں ۔۔۔ !
استاذ گرامی جناب
الف عین صاحب، جناب
محمد وارث صاحب اور
محمد خلیل الرحمٰن صاحب پلیز میری مدد کریں ۔۔ شکریہ۔۔۔
امید ہے اب آپ کی اس تلاش کو
منزل مل گئی ہوگی۔
