Arshad khan — اپریل 9، 2016 4:16 شام
سب سے پہلے ایک حمد
نعمتیں سب ہوئیں عطا مولا
جو نہ مانگا تها وہ ،ملا مولا
گر چہ آتے نہیں نظر لیکن
ہو حقیقت میں ہر جگہ مولا
سر اگر سجدہ سے اٹھائیں ہم
بندگی میں بچا ہے کیا مولا
تم مرے بن گئے محافظ جب
عدو ناکام ہو گیا مولا
اس لیے تو زبان پر ہے حمد
ہے فقط ایک آسرا مولا
ارشد خان خٹک ؔ
محمد تابش صدیقی — اپریل 9، 2016 4:30 شام
سبحان اللہ
شاعری کی اصلاح تو اساتذہ ہی کریں گے۔
ایک دو الفاظ کی طرف توجہ
سر اگر
سجدہ سے
اٹھائیں ہم
گئے
Arshad khan — اپریل 9، 2016 4:38 شام
توجہ دلانے کا شکریہ بهائی
الف عین — اپریل 9، 2016 4:43 شام
درست ہے نعت۔
گر چہ دکھتے نہیں ہو تم لیکن
’دکھتے‘ کی جگہ ’نظر آتے‘ استعمال کیا جائے تو بہتر ہے
Arshad khan — اپریل 9، 2016 4:47 شام
درست ہے نعت۔
گر چہ دکھتے نہیں ہو تم لیکن
’دکھتے‘ کی جگہ ’نظر آتے‘ استعمال کیا جائے تو بہتر ہے
گر چہ آتے نہیں نظر لیکن
ہو حقیقت میں ہر جگہ مولا
الف عین — اپریل 9، 2016 4:50 شام
یہ بہترہے
Arshad khan — اپریل 9، 2016 4:54 شام
شکریہ بابا جانی
Arshad khan — اپریل 9، 2016 5:45 شام
دل میں رہتا ہے ایک ڈر تنہا
التجا ہے مجھے نہ کر تنہا
ساتھ اس کے کبھی نکلتا تھا
اب نکلتا ہوں بام پر تنہا
کوئی میرے قریب آیا نہیں
سوچ کر مجھ کو اک بشر تنہا
ہوں طلب گار ان نگاہوں کا
کر دیا جن نے در بدر تنہا
میرا سایہ بهی چھین لیتی ہے
مجھ کو اے شام تو نہ کر تنہا
تیری یادیں اداس رکھتی ہیں
میں جو روتا ہوں رات بھر تنہا
کوئی صدمہ اٹھا لیا ہوگا
ورنہ ارشد اور اس قدر تنہا
ارشد خان خٹک ؔ
سلمان دانش جی — اپریل 9، 2016 7:25 شام
مصرع میں ' جو" کی موجودگی کے بعد " وہ" کا ہونا بہتر ہو گا۔ لہذا میرے خیال میں جو نہ مانگا کبھی، ملا مولا سے بہتر جو نہ مانگا وہ بھی، ملا مولا ۔یا ۔ جو نہ مانگا تھا وہ ، ملا مولا ۔ ہے
Arshad khan — اپریل 9، 2016 9:41 شام
شکریہ سلمان دانش جی آپ کی قیمتی رائے کا بہت بہت شکریہ
آپ کی تجویز پسند آئی
الف عین — اپریل 10، 2016 5:15 صبح
وہ بھی ملا، میں وُبی تقطیع ہونا بھی درست نہیں۔
جو نہ مانگا تھا وہ ، ملا مولا
بہتر ہے۔
دوسری غزل ایک نئے دھاگے میں شروع کریں تو بہتر ہے۔ ورنہ ہر بار ایک ہی دھاگے میں کون آتا ہے!! داد کے ڈونگرے برستے رہتے ہیں!!
مطلع میں بیانیہ عجیب ہے۔ ایک ڈر کی بات تو ہوئی نہیں، اور التجا بھی کرنے لگے! اس کے علاوہ تنہا کرنا محاورہ نہیں، تنہا چھوڑ نا محاورہ ہے۔
ساتھ اس کے کبھی نکلتا تھا
اب نکلتا ہوں بام پر تنہا
کوئی میرے قریب آیا نہیں
سوچ کر مجھ کو اک بشر تنہا
ان دونوں اشعار میں محض ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے۔
میرا سایہ بهی چھین لیتے ہو
مجھ کو اے شام! یوں نہ کر تنہا
سب سے اچھا شعر ماشاء اللہ، لیکن غلط گرامر۔ اے شام کو ’تُو‘ سے مخاطب کرنا بہتر ہے
میرا سایہ بھی چھین لیتی ہے۔
یا اس سے بہتر
میرا سایہ بھی چھین لے گی تو
باقی درست ہیں
Arshad khan — اپریل 10، 2016 9:09 صبح
وہ بھی ملا، میں وُبی تقطیع ہونا بھی درست نہیں۔
جو نہ مانگا تھا وہ ، ملا مولا
بہتر ہے۔
دوسری غزل ایک نئے دھاگے میں شروع کریں تو بہتر ہے۔ ورنہ ہر بار ایک ہی دھاگے میں کون آتا ہے!! داد کے ڈونگرے برستے رہتے ہیں!!
مطلع میں بیانیہ عجیب ہے۔ ایک ڈر کی بات تو ہوئی نہیں، اور التجا بھی کرنے لگے! اس کے علاوہ تنہا کرنا محاورہ نہیں، تنہا چھوڑ نا محاورہ ہے۔
ساتھ اس کے کبھی نکلتا تھا
اب نکلتا ہوں بام پر تنہا
کوئی میرے قریب آیا نہیں
سوچ کر مجھ کو اک بشر تنہا
ان دونوں اشعار میں محض ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے۔
میرا سایہ بهی چھین لیتے ہو
مجھ کو اے شام! یوں نہ کر تنہا
سب سے اچھا شعر ماشاء اللہ، لیکن غلط گرامر۔ اے شام کو ’تُو‘ سے مخاطب کرنا بہتر ہے
میرا سایہ بھی چھین لیتی ہے۔
یا اس سے بہتر
میرا سایہ بھی چھین لے گی تو
باقی درست ہیں
بہت بہت شکریہ استادِ محترم آپ کی قیمتی رائے کا بہت بہت شکریہ