ارضِ وطن پہ خوں کے، دریا بہا رہے ہیں

ابن رضا — اپریل 10، 2014 3:18 شام
برائے اصلاح و اظہارِ افسوس بر حالیہ خون ریزی
ارضِ وطن پہ خُوں کے، دریا بہا رہے ہیں
یہ کون ہیں درندے اور کیوں ستا رہے ہیں
معصوم اور نہتّے لوگوں پہ وار کر کے
کیا سسکیوں سے دیکھو ، وہ حَظ اُٹھا رہے ہیں
پل پل بکھر رہے ہیں ، اعضا بشر کے ہر جا
نعشوں کے دے کے تحفے ، وہ کیا جتا رہے ہیں
ایسے کبھی نہ مولا ، حالات ہو ں کہیں بھی
سہرے سجے وہ لے کر ، تربت میں جارہے ہیں
آئے کوئی مسیحا ، لاٹھی خدا کی بن کر
کوئی تو ان کو روکے ، کیا ظلم ڈھا رہے ہیں
مستی میں ڈوبے لوگو ، اُجڑے گھروں میں جاکر
دیکھو کہ لوگ کیسے ، ماتم منا رہے ہیں
کل جو ہوا دھماکہ ، سب نے رضا سنا تھا
اب بھول کر اُسے ، گام آگے بڑھا رہے ہیں

:cry::cry::cry:
تقطیع یہاں ملاحظہ کریں۔
ابنِ رضا کی تُک بندیاں
ٹیگ: اساتذہ کرام جناب الف عین صاحب و جناب محمد یعقوب آسی صاحب و برادران
ابن رضا — اپریل 11، 2014 4:40 صبح
.
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 11، 2014 8:35 صبح
بہت اچھی نظم ہے۔
ماتم منانے پر نظر ثانی فرمالیجیے۔
ابن رضا — اپریل 11، 2014 10:02 صبح
بہت اچھی نظم ہے۔
ماتم منانے پر نظر ثانی فرمالیجیے۔
تشکر!!!
متبادل تو ہے "دیکھو کہ لوگ کیسے آنسو بہا رہے ہیں" مگر اس میں کیا حرج ہے؟
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 11، 2014 1:11 شام
تشکر!!!
متبادل تو ہے "دیکھو کہ لوگ کیسے آنسو بہا رہے ہیں" مگر اس میں کیا حرج ہے؟
خلاف محاورہ ہے۔
محمد اسامہ سَرسَری — اپریل 11، 2014 1:12 شام
۔
ابن رضا — اپریل 14، 2014 7:18 صبح
استادِ محترم

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B1%D8%B6%D9%90-%D9%88%D8%B7%D9%86-%D9%BE%DB%81-%D8%AE%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%92%D8%8C-%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7-%D8%A8%DB%81%D8%A7-%D8%B1%DB%81%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA.73424/