جی یہی سوال ہے. مس تفع لن منفصل سے مفاعلان کون کونسے زحافات کا مجموعہ ہے؟ تھوڑی تحقیقی نظر کریں اس جانب.
محمد وارث
فاتح
مس تفع لن (منفصل) "سبب خفیف"، "وتد مفروق" اور "سبب خفیف" کا مجموعہ ہے۔ اور اس رکن یعنی "مس تفع لن" پر یکے بعد دیگرے دو منفردہ زحافات "خبن" اور "تسبیغ" لگنے سے "مفاعلان" کی فرع تشکیل پاتی ہے جو "مس تفع لن" کی "مخبون مسبغ" شکل ہے۔
اب دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں زحافات کیا کرتے ہیں:
"خبن" وہ زحاف ہے جو کسی رکن کے پہلے سبب خفیف کے ساکن حرف کا اسقاط کر دیتا ہے اور اس سے وجود میں آنے والی فرع کو "مخبون" کہا جاتا ہے۔
"تسبیغ" وہ زحاف ہے جو کسی مصرع کے آخری رکن کے آخری سبب خفیف کے درمیان ایک الف کا اضافہ کر دیتا ہے اور اس زحاف کے استعمال سے وجود میں آنے والی فرع کو "مسبغ" کہا جاتا ہے۔
اور اب ان دو زحافات (خبن اور تسبیغ) کو آپ کے دیے ہوئے رکن (مس تفع لن ۔ منفصل) کے اصول سہگانہ پر استعمال کر کے دیکھتے ہیں:
رکن "مُس تَفعِ لُن" پر "خبن" استعمال کریں تو اس کے پہلے سبب خفیف یعنی "مُس" کا ساکن حرف "س" گر گیا اور محض "م" بچا۔۔۔ اب اس رکن کی "مخبون" شکل "مُ تَفعِ لُن" (جسے مُفَاعِلُن سے ظاہر کیا جاتا ہے) بنتی ہے۔
اگر یہ رکن "مُس تَفعِ لُن" مصرع کے آخر میں آ رہا ہو تو اس پر "تسبیغ" کا زحاف لگایا جا سکتا ہے جو اس کے آخری سبب خفیف "لُن" کے دو حروف کے درمیان ایک حرف الف شامل کر دیتا ہے۔
اب "مُس تَفعِ لُن" کی مخبون شکل "مُ تَفعِ لُن"کا "لُن" تبدیل ہو کر "لَان" ہو گیا۔
یوں اس کی مخبون مسبغ شکل "مُ تَفعِ لَان" بنی جسے ہم "مُفَاعِلَان" سے ظاہر کرتے ہیں۔
یہاں یہ بھی یاد رہے کہ جدید عروض کے مطابق دس ارکان یا "ارکانِ دہگانہ" کے آخری دو ارکان یعنی "مس تفع لن" (منفصل) اور "فاع لاتن" (منفصل) ضروری شمار نہیں کیے جاتے اور پہلے آٹھ ارکان جنھیں "ہشت گانہ ارکان" کہا جاتا ہے سے ہی تمام کام کر لیا جاتا ہے۔