ارے یہ وسعتیں، ہم تنگئی داماں میں رکھتے ہیں - غزل برائے اصلاح

کاشف اسرار احمد — جولائی 5، 2015 9:36 صبح
السلام علیکم
ایک غزل اصلاح کے لئے پیش ہے۔
بحر ہے :
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
بحر ہزج مثمن سالم
اساتذہء کِرام بالخصوص
محترم جناب الف عین صاحب
دیگر اساتذہ اور احباب محفل سے توجہ اور اصلاح کی درخواست ہے۔
-------------------------------------
حسیں رُخ، ابروِ خمدار، وہ عنواں میں رکھتے ہیں
تو ہم اب گردشِ پرکار کو امکاں میں رکھتے ہیں
فراخی کیا بتاتا ہے، عدن کے باغ کی واعظ
ارے یہ وسعتیں، ہم تنگئی داماں میں رکھتے ہیں
مرے سوزِ دروں کا حال کیا پوچھو، وہ حالت ہے
تپش ایسی تو شعلے آتشِ جولاں میں رکھتے ہیں
نفس یک دو نفس کی زندگانی کا بھروسہ کیا
طلب دنیا کی کیوں بندے دلِ ناداں میں رکھتے ہیں
مجھے دے لذّتِ آشوب وہ لطفِ فُغاں، جس کو
چھپا کر چشمِ آدم سے مَلَک داماں میں رکھتے ہیں
گرہ رشتوں میں ہے، پر دائرہ در دائرہ ہم بھی
تمھاری یاد، اطرافِ شبِ حجراں میں رکھتے ہیں
سیّد کاشف
--------------------------------
شکریہ۔
فاروق احمد بھٹی — جولائی 5، 2015 9:29 شام
بہت خوب ۔۔کیا کہنے۔۔۔
الف عین — جولائی 6، 2015 12:09 صبح
خوب غزل ہے، بس ایک دو باتیں۔
مطلع میں محض ابروئے خمدار لانے کی کوشش کرو، گردش پرکار کی مناسبت سے محض ابرو ہونا چاہئے۔ جیسے
وہ اپنی ابروئے خمدار کو۔۔۔
ارے‘ کا استعال نا گوار گزر رہا ہے۔ اس کی جگہ
ہم ایسی وسعتیں تو ۔۔۔ کر دیں تو کیسا رہے؟
آخری شعر بدلنے کی ضرورت ہے۔ شب ہجراں کہیں تب بھی واضح نہیں ہوتا۔
ادب دوست — جولائی 6، 2015 1:22 صبح
بہت خوب کاشف اسرار احمد بھائی، اچھی غزل ہے
داد قبول ہو ۔
کاشف اسرار احمد — جولائی 6، 2015 7:05 صبح
بہت خوب ۔۔کیا کہنے۔۔۔
نوازش فاروق بھائی
جزاک اللہ
کاشف اسرار احمد — جولائی 6، 2015 7:06 صبح
خوب غزل ہے، بس ایک دو باتیں۔
مطلع میں محض ابروئے خمدار لانے کی کوشش کرو، گردش پرکار کی مناسبت سے محض ابرو ہونا چاہئے۔ جیسے
وہ اپنی ابروئے خمدار کو۔۔۔
ارے‘ کا استعال نا گوار گزر رہا ہے۔ اس کی جگہ
ہم ایسی وسعتیں تو ۔۔۔ کر دیں تو کیسا رہے؟
آخری شعر بدلنے کی ضرورت ہے۔ شب ہجراں کہیں تب بھی واضح نہیں ہوتا۔
بہت بہت شکریہ استاد محترم۔ جزاک اللہ
میں ان تصحیحات کے بعد دوبارہ حاضر ہوتا ہوں۔ ان شا اللہ
کاشف اسرار احمد — جولائی 6، 2015 7:12 صبح
بہت خوب کاشف اسرار احمد بھائی، اچھی غزل ہے
داد قبول ہو ۔
نوازش ادب دوست بھائی۔
ابھی اور کانٹ چھانٹ باقی ہے۔:)
کاشف اسرار احمد — جولائی 6، 2015 10:56 صبح
غزل اصلاح کے بعد پیش ہے۔
استاد محترم جناب الف عین صاحب سے خصوصی توجہ کی درخواست ہے۔
دو اشعار میں تبدیلی کی ہے اور آخری شعر کی جگہ اب مقطع نے لے لی ہے۔
شکریہ۔
وہ اپنی ابروِ خمدار کو عنواں میں رکھتے ہیں
تو ہم اب گردشِ پرکار کو امکاں میں رکھتے ہیں
فراخی کیا بتاتا ہے، عدن کے باغ کی واعظ
ہم ایسی وسعتیں تو تنگئی داماں میں رکھتے ہیں
مرے سوزِ دروں کا حال کیا پوچھو، وہ حالت ہے
تپش ایسی تو شعلے آتشِ جولاں میں رکھتے ہیں
نفس یک دو نفس کی زندگانی کا بھروسہ کیا
طلب دنیا کی کیوں بندے دلِ ناداں میں رکھتے ہیں
مجھے دے لذّتِ آشوب وہ لطفِ فُغاں، جس کو
چھپا کر چشمِ آدم سے مَلَک داماں میں رکھتے ہیں
گرہ رشتوں میں ہے کاشف، مگر حیرت ہے ہم پھر بھی
اُسے شامل دعاؤوں میں ، ہر اک امکاں میں رکھتے ہیں

سیّد کاشف
شکریہ۔
الف عین — جولائی 7، 2015 12:22 صبح
مقطع اب بھی بہتری چاہتا ہے۔ امکاں کا قافیہ کچھ جم نہیں رہا ہے
کاشف اسرار احمد — جولائی 7، 2015 8:23 صبح
مقطع اب بھی بہتری چاہتا ہے۔ امکاں کا قافیہ کچھ جم نہیں رہا ہے
بہت بہتر استاد محترم۔ جزاک اللہ
میں دوبارہ کوشش کرتا ہوں۔
درستی کے بعد حاضر ہوتا ہوں۔ ان شا اللہ
کاشف اسرار احمد — جولائی 9، 2015 11:52 صبح
استاد محترم جناب الف عین صاحب
مقطع میں تبدیلی کی ہے۔ شاید یہ کچھ بہتر صورت ہو؟
گرہ رشتوں میں ہے کاشف، مگر حیرت ہے ہم پھر بھی
اُسے شامل دعاؤوں میں ، ہر اک پیماں میں رکھتے ہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B1%DB%92-%DB%8C%DB%81-%D9%88%D8%B3%D8%B9%D8%AA%DB%8C%DA%BA%D8%8C-%DB%81%D9%85-%D8%AA%D9%86%DA%AF%D8%A6%DB%8C-%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%A7%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.83268/