ازل نے کی ابد کی جستجو مقامِ ھو تلک

نور وجدان — ستمبر 11، 2016 2:35 شام
ازل نے کی ابد کی جستجو مقامِ ھو تلک
جنون کو ملے گی آبرو مقامِ ھو تلک
فلک کا نور جب وجود میں سما رہا تھا تب
خودی میں آئنہ تھا روبرو مقام ھو تلک
نبی کی میم کی کہانی الف کی مثال ہے
ْخلق جو آئنے ہوئے ھو سے مقامِ ھو تلک
حسن ، حسین یہ علی کے ہیں چمن کے لالہ زار
انہی سے ہستی کی ہوئی نمو مقامِ ھو تلک
دریچے دل کے جوں جوں وا ہوئے ، صدائیں بکھری ہیں
درود کی، ملا ہے رنگ و بو مقام ھو تلک
جو عفو کی مثال ہیں وہ فاطمہ کمال ہیں
ملا ہے ان سے اوج نورؔ کو مقامِ ھو تلک
مجھے ہے زعمِ شعر گوئی وہ کہ مسکرائے جائے
قلم چلے کبھو رسا نہ ہو مقام ھو تلک
نور وجدان — ستمبر 12، 2016 5:02 شام

ازل نے کی ابد کی جستجو مقامِ ھو تلک
جنوں کو مل ہے جائے آبرو مقامِ ھو تلک
فلک کا نور جب وجود میں سما رہا تھا تب
خودی میں آئنہ تھا روبرو مقام ھو تلک​

نبی کی میم کی کہانی الف کی مثال ہے
وہ عکسِ ھو خلق ہوا، ہے جو مقام ھو تلک
حسن ، حسین یہ علی کے ہیں چمن کے لالہ زار
انہی سے ہستی کی ہوئی نمو مقامِ ھو تلک​

دریچے دل کے وا ہوئے ہےبکھرا سحر چار سو
درود سے ملا ہے رنگ و بو مقامِ ھو تلک
جو عفو کی مثال ہیں وہ فاطمہ کمال ہیں
ملا ہے ان سے اوج نورؔ کو مقامِ ھو تلک
مجھے ہے زعمِ شعر گوئی وہ کہ مسکرائے جائے
قلم ہے چلتا جب رسائی ہو مقامِ ھو تلک​
فاخر رضا — ستمبر 12، 2016 6:29 شام
ازل نے کی ابد کی جستجو مقامِ ھو تلک
جنوں کو مل ہے جائے آبرو مقامِ ھو تلک
فلک کا نور جب وجود میں سما رہا تھا تب
خودی میں آئنہ تھا روبرو مقام ھو تلک​

نبی کی میم کی کہانی الف کی مثال ہے
خلق جو آئنہ ہوا ہےھو مقام ھو تلک
حسن ، حسین یہ علی کے ہیں چمن کے لالہ زار
انہی سے ہستی کی ہوئی نمو مقامِ ھو تلک​

دریچے دل کے وا ہوئے ہےبکھرا سحر چار سو
درود سے ملا ہے رنگ و بو مقامِ ھو تلک
جو عفو کی مثال ہیں وہ فاطمہ کمال ہیں
ملا ہے ان سے اوج نورؔ کو مقامِ ھو تلک
مجھے ہے زعمِ شعر گوئی وہ کہ مسکرائے جائے
قلم ہے چلتا جب رسائی ہو مقامِ ھو تلک​
لاجواب. ماشاءاللہ. الفاظ اور ان کا وزن تو اساتذہ تولیں، ہمیں تو (ھو) سے کام ہے اور ھو کے انوار مقدسہ پنجتن علیہم السلام سے
عباد اللہ — ستمبر 12، 2016 8:52 شام
بہت عمدہ استانی جی
چمن اور لالہ زار ہم معنی ہیں شاید یہ استعمال درست نہیں اساتذہ بہتر بتا سکتے ہیں
نور وجدان — ستمبر 13، 2016 3:57 صبح
بہت عمدہ استانی جی
چمن اور لالہ زار ہم معنی ہیں شاید یہ استعمال درست نہیں اساتذہ بہتر بتا سکتے ہیں

چمن بھی باغ ہے لالہ زار بھی مگر دونوں کے معانی میں فرق ہے ۔چمن درختوں ، سبزے اور پھولوں اور اس قسم کے لوازمات سے بھرپور ہوتا ہے جبکہ لالہ زار سے مراد لالہ کے پھولوں کا باغ ہے
نور وجدان — ستمبر 13، 2016 4:21 صبح
لاجواب. ماشاءاللہ. الفاظ اور ان کا وزن تو اساتذہ تولیں، ہمیں تو (ھو) سے کام ہے اور ھو کے انوار مقدسہ پنجتن علیہم السلام سے
شکریہ پسند آوری پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نایاب — ستمبر 13، 2016 5:18 صبح
دریچے دل کے وا ہوئے ہےبکھرا سحر چار سو
درود سے ملا ہے رنگ و بو مقامِ ھو تلک
سبحان اللہ
بلاشک رحمتوں سے بھرپور ہوتا ہے ذکر درود شریف
بہت دعائیں
نور وجدان — ستمبر 13، 2016 8:48 صبح
چمن سے اک اور چمن نہیں بن سکتا ...؟ یعنی حضرت علی کے بیٹے بھی خود میں اتنی وسعت رکھتے ہیں کہ پھول کے بجائے ان کو کھیت یا باغ کہا جائے ...یا بحر کی موجیں بھی بحر کی وسعت رکھتیں ہیں ..
عباد اللہ — ستمبر 13، 2016 9:04 صبح
چمن سے اک اور چمن نہیں بن سکتا ...؟ یعنی حضرت علی کے بیٹے بھی خود میں اتنی وسعت رکھتے ہیں کہ پھول کے بجائے ان کو کھیت یا باغ کہا جائے ...یا بحر کی موجیں بھی بحر کی وسعت رکھتیں ہیں ..
عین ممکن ہے کہ آپ کا کہا درست ہو ہم زیادہ نہیں جانتے
اساتذہ کی رائے لے لیتے ہیں
ابن رضا
الف عین
کعنان — ستمبر 13، 2016 11:16 صبح

اللہ ھو
ابن رضا — ستمبر 13، 2016 12:36 شام
عین ممکن ہے کہ آپ کا کہا درست ہو ہم زیادہ نہیں جانتے
اساتذہ کی رائے لے لیتے ہیں
ابن رضا
الف عین
مری دانست میں چمن کے پھول بوٹے پیڑ کانٹے تو ہوتے ہیں چمن کے لالہ زار درست استعمال نہیں
الف عین — ستمبر 13، 2016 1:35 شام
متفق؛ چمن کے لالہ زار غلط استعمال ہے۔
الف کی مثال۔؟ اس تلفظ میں الف کا مطلب ہزار ہوتا ہے حرف الِف نہیں
باقی مجھے تو ردیف کا استعمال بھی ہر جگہ درست محسوس نہیں ہوا۔ یوں بھی تصوف میری عقل سے پرے ہے
نور وجدان — ستمبر 13، 2016 1:38 شام
متفق؛ چمن کے لالہ زار غلط استعمال ہے۔
الف کی مثال۔؟ اس تلفظ میں الف کا مطلب ہزار ہوتا ہے حرف الِف نہیں
باقی مجھے تو ردیف کا استعمال بھی ہر جگہ درست محسوس نہیں ہوا۔ یوں بھی تصوف میری عقل سے پرے ہے
حرف الف کے تلفظ کے بارے میں کچھ آگہی دیجیئے ۔۔۔۔۔ ردیف کا حق جہاں پر پورا نہیں لگ رہا ہے وہاں بھی مطلع کیجئے ۔۔ اصلاح سخن میں اس لیے پوسٹ کی ہے تاکہ اغلاط کا ادراک ہوسکے
الف عین — ستمبر 13، 2016 1:52 شام
الف فعوکے وزن پر ہے۔
اب دوبارہ غور کیا کیا تو معلوم ہوا کہ قوافی بھی غلط ہیں؛ جو، کو، ہو بو اور نمو کے ساتھ قوافی غلط ہیں۔
خلق بر وزن درد یا فعل ہے لام پر جزم، زبر نہیں
معذرت کہ مجھے زیادہ تر اشعار مفہوم سے عاری یا دو لخت محسوس ہوئے
کعنان — ستمبر 13، 2016 2:34 شام
جتھے الف (اللہ) تے میم محمد ہووے
اتھے اَن بَن اِن بِن اُن بُن کیا
جتھے مینہ فضل دا وسدا روے
اتھے كَن كَن كِن كِن كُن كُن کیا
محمد ریحان قریشی — ستمبر 13، 2016 4:33 شام
خلق جو آئنے ہوئے ہو سے مقام ہو تلک
اس کی تقطیع کیسے ہوگی؟

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B2%D9%84-%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D8%A8%D8%AF-%DA%A9%DB%8C-%D8%AC%D8%B3%D8%AA%D8%AC%D9%88-%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D9%90-%DA%BE%D9%88-%D8%AA%D9%84%DA%A9.91862/