اس حال میں حضور ترے نام کیا کروں

سعید احمد سجاد — جولائی 21، 2019 3:39 شام
افاعیل: مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن
سر الف عین صاحب اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذارش ہے
مَیں ہجر میں سسکتی ہوئی، شام کیا کروں
خالی ہے اب جو مے سے، مَیں وہ جام کیا کروں
بستر کی ہر شکن میں ہیں کانٹے جدائی کے
بے چینیوں کی سیج پہ ،آرام کیا کروں
دامن میں ہیں مرے تو زمانے کی کلفتیں
اس حال میں حضور ترے نام کیا کروں
مبہم سی یاد دل میں بدلتی ہے کروٹیں
اک جان ہے اور اتنے ، ہیں آلام کیا کروں
اجڑی رتوں کا ٹھہری ہے مسکن یہ زندگی
لَوٹا ہوں ہر جگہ سے مَیں ناکام، کیا کروں
چہرے تھے آئینے سے جو دیکھے تو سنگ تھے
دل میں سجا کے ایسے مَیں اصنام کیا کروں
شکریہ
انیس جان — جولائی 21، 2019 6:08 شام
مطلع کا مصرع ثانی میرے خیال سے یوں بہتر رہے گا
""خالی ہے جو شراب سے میں جام کیا کروں""
سعید احمد سجاد — جولائی 21، 2019 6:12 شام
مطلع کا مصرع ثانی میرے خیال سے یوں بہتر رہے گا
""خالی ہے جو شراب سے میں جام کیا کروں""
شکریہ انیس صاحب بالکل بجا فرمایا آپ نے
الف عین — جولائی 22، 2019 2:16 صبح
مَیں ہجر میں سسکتی ہوئی، شام کیا کروں
خالی ہے اب جو مے سے، مَیں وہ جام کیا کروں
... دو لختی کی کیفیت ہے، دوسرا مصرع انیس جان کے مشورے مطابق کیا جا سکتا ہے لیکن
خالی ہے جو شراب سے، وہ جام کیا کروں
بہتر ہو گا۔ پہلے مصرع میں کاما کی ضرورت نہیں
بستر کی ہر شکن میں ہیں کانٹے جدائی کے
بے چینیوں کی سیج پہ ،آرام کیا کروں
.. درست
دامن میں ہیں مرے تو زمانے کی کلفتیں
اس حال میں حضور ترے نام کیا کروں
.. واضح نہیں ہوا
حضور اگر محبوب کو تخاطب ہے تو اس عزت و اکرام کے ساتھ 'تو' اچھا نہیں
مبہم سی یاد دل میں بدلتی ہے کروٹیں
اک جان ہے اور اتنے ، ہیں آلام کیا کروں
.. دو لخت ہے، کوما بھی غلط جگہ مزید کنفیوژن پیدا کر رہا ہے
اجڑی رتوں کا ٹھہری ہے مسکن یہ زندگی
لَوٹا ہوں ہر جگہ سے مَیں ناکام، کیا کروں
.. دو لختی اس میں بھی لگتی ہے
چہرے تھے آئینے سے جو دیکھے تو سنگ تھے
دل میں سجا کے ایسے مَیں اصنام کیا کروں
.. دیکھے بغیر آئینے سے لگ رہے تھے؟ کچھ یوں کہا جائے کہ دور سے جو آئینہ لگ رہے تھے، نزدیک سے دیکھا تو سنگ نکلے!
سعید احمد سجاد — جولائی 22، 2019 2:32 صبح
مَیں ہجر میں سسکتی ہوئی، شام کیا کروں
خالی ہے اب جو مے سے، مَیں وہ جام کیا کروں
... دو لختی کی کیفیت ہے، دوسرا مصرع انیس جان کے مشورے مطابق کیا جا سکتا ہے لیکن
خالی ہے جو شراب سے، وہ جام کیا کروں
بہتر ہو گا۔ پہلے مصرع میں کاما کی ضرورت نہیں
بستر کی ہر شکن میں ہیں کانٹے جدائی کے
بے چینیوں کی سیج پہ ،آرام کیا کروں
.. درست
دامن میں ہیں مرے تو زمانے کی کلفتیں
اس حال میں حضور ترے نام کیا کروں
.. واضح نہیں ہوا
حضور اگر محبوب کو تخاطب ہے تو اس عزت و اکرام کے ساتھ 'تو' اچھا نہیں
مبہم سی یاد دل میں بدلتی ہے کروٹیں
اک جان ہے اور اتنے ، ہیں آلام کیا کروں
.. دو لخت ہے، کوما بھی غلط جگہ مزید کنفیوژن پیدا کر رہا ہے
اجڑی رتوں کا ٹھہری ہے مسکن یہ زندگی
لَوٹا ہوں ہر جگہ سے مَیں ناکام، کیا کروں
.. دو لختی اس میں بھی لگتی ہے
چہرے تھے آئینے سے جو دیکھے تو سنگ تھے
دل میں سجا کے ایسے مَیں اصنام کیا کروں
.. دیکھے بغیر آئینے سے لگ رہے تھے؟ کچھ یوں کہا جائے کہ دور سے جو آئینہ لگ رہے تھے، نزدیک سے دیکھا تو سنگ نکلے!
شکریہ سر کوشش کرتا ہوں
سعید احمد سجاد — جولائی 22، 2019 8:37 شام
مَیں ہجر میں سسکتی ہوئی، شام کیا کروں
خالی ہے اب جو مے سے، مَیں وہ جام کیا کروں
... دو لختی کی کیفیت ہے، دوسرا مصرع انیس جان کے مشورے مطابق کیا جا سکتا ہے لیکن
خالی ہے جو شراب سے، وہ جام کیا کروں
بہتر ہو گا۔ پہلے مصرع میں کاما کی ضرورت نہیں
بستر کی ہر شکن میں ہیں کانٹے جدائی کے
بے چینیوں کی سیج پہ ،آرام کیا کروں
.. درست
دامن میں ہیں مرے تو زمانے کی کلفتیں
اس حال میں حضور ترے نام کیا کروں
.. واضح نہیں ہوا
حضور اگر محبوب کو تخاطب ہے تو اس عزت و اکرام کے ساتھ 'تو' اچھا نہیں
مبہم سی یاد دل میں بدلتی ہے کروٹیں
اک جان ہے اور اتنے ، ہیں آلام کیا کروں
.. دو لخت ہے، کوما بھی غلط جگہ مزید کنفیوژن پیدا کر رہا ہے
اجڑی رتوں کا ٹھہری ہے مسکن یہ زندگی
لَوٹا ہوں ہر جگہ سے مَیں ناکام، کیا کروں
.. دو لختی اس میں بھی لگتی ہے
چہرے تھے آئینے سے جو دیکھے تو سنگ تھے
دل میں سجا کے ایسے مَیں اصنام کیا کروں
.. دیکھے بغیر آئینے سے لگ رہے تھے؟ کچھ یوں کہا جائے کہ دور سے جو آئینہ لگ رہے تھے، نزدیک سے دیکھا تو سنگ نکلے!

یہ ہجر میں سسکتی ہوئی شام کیا کروں
خالی ہے اب جو یاد سے وہ جام کیا کروں
بستر کی ہر شکن میں ہیں کانٹے جدائی کے
بے چینیوں کی سیج پہ آرام کیا کروں
دامن میں ہیں مرے تو جہاں بھر کی کلفتیں
اس حال میں بتا تُو ترے نام کیا کروں
یہ دردِ عشق اور زمانے کی ٹھوکریں
اک جان ہے اور اتنے ہیں آلام کیا کروں
شیشے لگے وہ دُور سے، دیکھے تو سنگ تھے
دل میں سجا کے ایسے مَیں اصنام کیا کروں
سجاد آبلوں سے نہ آنکھیں ملا سکا
لَوٹا ہوں ہر جگہ سے مَیں ناکام کیا کروں
سر الف عین نظر ثانی فرمائیے گا
الف عین — جولائی 23، 2019 2:36 صبح
اب درست ہو گئی ہے غزل، مقطع میں ابہام ضرور ہے مگر قبول کیا جا سکتا ہے
سعید احمد سجاد — جولائی 23، 2019 2:44 صبح
اب درست ہو گئی ہے غزل، مقطع میں ابہام ضرور ہے مگر قبول کیا جا سکتا ہے

شکریہ سر

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B3-%D8%AD%D8%A7%D9%84-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AD%D8%B6%D9%88%D8%B1-%D8%AA%D8%B1%DB%92-%D9%86%D8%A7%D9%85-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA.107745/