اس غزل کی اصلاح درکار ہے۔۔۔۔۔

مہدی نقوی حجاز — جون 22، 2012 12:40 شام
غزل
کچھ تکلف نہ ہوا ہاتھ بڑھا یار ہوا
چند لمحوں میں ہی پھر شامل اغیار ہوا​
نرمیِ دل پہ رقیبوں کی چھری چل ہی گئی
ریشمی قلب مرا سنگ ہوا خار ہوا​
اب تلک خواب میں تھے خواب یہ بیداری کے
اب جو بیدار ہوا خواب میں بیدار ہوا​
گر پریشاں ہے نہ کر ہم سے شکایت مہدی​
تیری غلطی ہے کہ تو شاعر و فنکار ہوا​
محمد خلیل الرحمٰن — جون 22، 2012 2:38 شام
بہت عمدہ کلام ہے حجاز صاحب۔ داد قبول فرمائیے
تیری غلطی ہے کہ تو شاعر و فنکار ہوا​
اس مصرع کو اگر یوں کردیا جائے؟
دوش تیرا ہے کہ توشاعر و فنکار ہوا​
الف عین — جون 22، 2012 3:18 شام
بعد مین دیکھتا ہوں۔ ابھی وقت نہیں
مہدی نقوی حجاز — جون 22، 2012 4:04 شام
جناب بہت شکریہ، آپ کی اصلاح سر آنکھوں پر۔
محمد خلیل الرحمٰن — جون 22، 2012 4:51 شام
جناب بہت شکریہ، آپ کی اصلاح سر آنکھوں پر۔
بھائی اگر یہ ہمارے لیے کہا ہے تو یقین کیجیے کہ اصلاح ہمارا کام نہیں ، یہ اساتذہ کو ہی زیبا ہے، ہم البتہ صلاح دیتے ہیں۔ ویسے ہماری صلاح کو پسند کرنے پرشکریہ قبول کیجیے۔
مہدی نقوی حجاز — جون 22، 2012 4:59 شام
اس دور میں صلاح کیا اگر کوئی بندہ نا خدا ادبی کلام ایک نظر دیکھ بھی لے تو ہم خوشی سے پھولے نہیں سماتے، خدا جانے ادب کے ساتھ کیا سوتیلاپن اتر آیا ہے قوم میں!
نایاب — جون 22، 2012 5:07 شام
واہہہہہہہہہہ
یہ ذکر تو کچھ اپنا اپنا سا لگتا ہے ۔
کچھ تکلف نہ ہوا ہاتھ بڑھا یار ہوا​
چند لمحوں میں ہی پھر شامل اغیار ہوا​
مہدی نقوی حجاز — جون 22، 2012 5:14 شام
فارسی میں کہنا ہے "دست شما درد نہ کنہ"! اس کے لغوی معنی تو عجیب ہی نکلتے ہیں لیکن استعمال "شکریہ" کی منزل پر ہوتا ہے۔ سو ہم بھی آپ سے یہی کہیں گے :)
الف عین — جولائی 21، 2012 10:40 صبح
کچھ تکلف نہ ہوا ہاتھ بڑھا یار ہوا
چند لمحوں میں ہی پھر شامل اغیار ہوا
//شعر مبہم ہے، شاید یوں واضح ہو جائے
کچھ تکلف نہ کیا اس نے، مرا یار ہوا
چند لمحوں میں ہی پھر شامل اغیار ہوا
نرمیِ دل پہ رقیبوں کی چھری چل ہی گئی
ریشمی قلب مرا سنگ ہوا خار ہوا
///دوسرا مصرع رواں نہیں، سنگ اور خار دو الگ الگ جنس ہیں۔
پھول سا دل جو تھا میرا، وہی اب خار ہوا
حالانکہ مکمل مطمئن میں اب بھی نہیں، تم بھی سوچو متبادل مصرع
اب تلک خواب میں تھے خواب یہ بیداری کے
اب جو بیدار ہوا خواب میں بیدار ہوا
//درست
گر پریشاں ہے نہ کر ہم سے شکایت مہدی
تیری غلطی ہے کہ تو شاعر و فنکار ہوا
// پہلا مصرع یوں کر دو تو بہتر ہے:
اب پریشاں ہے اگر، کیوں یہ گلہ ہے مہدی
مہدی نقوی حجاز — جولائی 21، 2012 10:58 صبح
کچھ تکلف نہ ہوا ہاتھ بڑھا یار ہوا
چند لمحوں میں ہی پھر شامل اغیار ہوا
//شعر مبہم ہے، شاید یوں واضح ہو جائے
کچھ تکلف نہ کیا اس نے، مرا یار ہوا
چند لمحوں میں ہی پھر شامل اغیار ہوا
نرمیِ دل پہ رقیبوں کی چھری چل ہی گئی
ریشمی قلب مرا سنگ ہوا خار ہوا
///دوسرا مصرع رواں نہیں، سنگ اور خار دو الگ الگ جنس ہیں۔
پھول سا دل جو تھا میرا، وہی اب خار ہوا
حالانکہ مکمل مطمئن میں اب بھی نہیں، تم بھی سوچو متبادل مصرع
اب تلک خواب میں تھے خواب یہ بیداری کے
اب جو بیدار ہوا خواب میں بیدار ہوا
//درست
گر پریشاں ہے نہ کر ہم سے شکایت مہدی
تیری غلطی ہے کہ تو شاعر و فنکار ہوا
// پہلا مصرع یوں کر دو تو بہتر ہے:
اب پریشاں ہے اگر، کیوں یہ گلہ ہے مہدی
بہت شکریہ۔۔ استاد محترم۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B3-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%AF%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%DB%81%DB%92%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94.52200/