محسن اعوان — جنوری 14، 2021 4:09 صبح
ہوئے آدمی یہ پیدا تو انسان مر گئے
جو تھے جان سے پیارے مری جان مر گئے
مجھے تب سمِ بشر سے بہت خوف آیا تھا
کہ جب آدمی کے ڈسنے سے حیوان مر گئے
تجھے دیکھتے ہی دل یہ مرا صاف ہو گیا
مرے ذہن کے بڑے بڑے شیطان مر گئے
تُو نے آ کے مجھ کو اپنے گلے سے لگایا جب
جہاں کے تو خود پہ سارے ہی ابھمان مر گئے
مجھے تو سوالِ زیست پہ ہر ایک نے کہا
پریشان آئے اور پریشان مر گئے
مرے ہم نوا یاں دیکھ کیا حال ہو گیا
میں تو مر رہا کُجا یہ ترے دھیان مر گئے
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 14، 2021 7:40 صبح
پہلے اپنی مزعومہ بحر بتائیے، کیونکہ یہاں کئی بحور کا اختلاط نظر آ رہا ہے۔
محسن اعوان — جنوری 15، 2021 2:42 صبح
پہلے اپنی مزعومہ بحر بتائیے، کیونکہ یہاں کئی بحور کا اختلاط نظر آ رہا ہے۔
مفاعیل فاعلان مفاعیل فاعلن
مضارع مثمن مکفوف مخذوف
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 15، 2021 8:52 شام
اماں، کہاں ان شاذ بحروں کے چکر پڑ رہے ہو! آخر کوئی تو وجہ ہوگی نا کہ اس قسم کی بحریں اردو میں مقبول عام نہیں ہو سکیں.
مطلع ہی اتنا کھینچ تان کے وزن میں آتا ہے. پیدا کی الف گرانی پڑ رہی ہے، پیارے کی ی یائے مخلوط ہوتی ہے، مگر اس کو "پ+یا+رِ" تقطیع کرنا پڑ رہا ہے!!!
بحر مضارع میں ہی لکھنا ہے تو معروف بحر استعمال کرو جیسے
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 15، 2021 8:55 شام
محسن اعوان — جنوری 16، 2021 2:47 صبح
اماں، کہاں ان شاذ بحروں کے چکر پڑ رہے ہو! آخر کوئی تو وجہ ہوگی نا کہ اس قسم کی بحریں اردو میں مقبول عام نہیں ہو سکیں.
مطلع ہی اتنا کھینچ تان کے وزن میں آتا ہے. پیدا کی الف گرانی پڑ رہی ہے، پیارے کی ی یائے مخلوط ہوتی ہے، مگر اس کو "پ+یا+رِ" تقطیع کرنا پڑ رہا ہے!!!
بحر مضارع میں ہی لکھنا ہے تو معروف بحر استعمال کرو جیسے
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
شکریہ سر جی آپ نے نے مزید باتیں بتائیں جو مرے علم میں نہیں تھیں۔
محمد خلیل الرحمٰن — جنوری 16، 2021 3:02 صبح
اماں، کہاں ان شاذ بحروں کے چکر پڑ رہے ہو! آخر کوئی تو وجہ ہوگی نا کہ اس قسم کی بحریں اردو میں مقبول عام نہیں ہو سکیں.
مطلع ہی اتنا کھینچ تان کے وزن میں آتا ہے. پیدا کی الف گرانی پڑ رہی ہے، پیارے کی ی یائے مخلوط ہوتی ہے، مگر اس کو "پ+یا+رِ" تقطیع کرنا پڑ رہا ہے!!!
بحر مضارع میں ہی لکھنا ہے تو معروف بحر استعمال کرو جیسے
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
زبردست راحل بھائی!