اس غزل کی اصلاح فرمائیں

محسن اعوان فائقؔ — مئی 25، 2021 5:22 صبح
پہل وعدہ ، اور پھر نبھانے کا وعدہ
سو ایسے کیا اُس نے آنے کا وعدہ
وہ جس طرح سے دل میں آ جا رہا ہے
نہ کرتا کوئی آنے جانے کا وعدہ
محبت وہ مجھ سے جو رکھی گئی تھی
تھا غیروں سے اُس کا ستانے کا وعدہ
مری آنکھوں نے آنسو اِیسے بہائے
کیا ہو جیسے آنسو بہانے کا وعدہ
میں فائقؔ اُسے کس طرح بھول جاؤں
میں نے کیا ہی کب ہے بُھلانے کا وعدہ
محسن اعوان فائقؔ — مئی 26، 2021 5:08 صبح
اساتذہ کی رائے کا منتظر ہوں,,,

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B3-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA.116365/