اس قدر زندگی بے ثمر تو نہیں ۔۔۔ برائے تنقید

شاہد شاہنواز — دسمبر 2، 2012 3:16 صبح
اس قدر زندگی بے ثمر تو نہیں
زندگی گردِ راہِ سفر تو نہیں
زندگی زہرِ آفات کا نام ہے
زندگی زہرِ تیرِ نظر تو نہیں
زندگی مثلِ بادِ صبا، مثلِ گُل
زندگی مثلِ دردِ جگر تو نہیں
بن کے انجان پھرتی ہے بے شک مگر
زندگی موت سے بے خبر تو نہیں
اس میں تکرارِ شام و سحر ہے مگر
زندگی صرف شام و سحر تو نہیں
موت آجائے یہ خواہشِ زندگی
خواہشِ اہلِ علم و ہنر تو نہیں
یہ ہے شاہد مقدر سے ملنے کی شے
زندگی کوششوں کا ثمر تو نہیں ۔۔
آپ سب سے اس غزل پر تنقید کی درخواست ہے۔
الف عین صاحب
محمد یعقوب آسی صاحب
محمد خلیل الرحمٰن صاحب
عبدالرزاق قادری صاحب
اسد قریشی بھائی
مزمل شیخ بسمل بھائی
طارق شاہ بھائی
محمد اظہر نذیر بھائی
محمد بلال اعظم بھائی
سارہ بشارت گیلانی صاحبہ
مدیحہ گیلانی صاحبہ
قیصرانی صاحب
زندگی
محمد بلال اعظم — دسمبر 2، 2012 3:30 صبح
شاہد بھائی اس کو ہم کیا "مسلسل غزل" بھی کہہ سکتے ہیں؟
محمد اظہر نذیر — دسمبر 2، 2012 3:52 صبح
بن کے انجان پھرتی ہے بے شک مگر​
زندگی موت سے بے خبر تو نہیں​
واہ واہ کیا کہنے جناب​
شاہد شاہنواز — دسمبر 2، 2012 3:59 صبح
شاہد بھائی اس کو ہم کیا "مسلسل غزل" بھی کہہ سکتے ہیں؟
میں نے اس کو ’’زندگی کی غزل‘‘ لکھ کر پوسٹ کیا تھا فیس بک پر تو کسی نے کہا شاہد غزل کا عنوان نہیں ہوتا۔۔۔ آپ نے اس کو عنوان کیوں دیا؟ اس لیے یہاں بغیر عنوان کے پوسٹ کی ہے۔ چونکہ سارے اشعار ایک ہی موضوع پر ہیں تو غزل مسلسل کا تو علم نہیں، ہاں موضوعاتی غزل کہہ سکتے ہیں۔۔۔
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 2، 2012 4:51 صبح
زندگی زہرِ آفات کا نام ہے
زندگی زہرِ تیرِ نظر تو نہیں
زندگی مثلِ بادِ صبا، مثلِ گُل
زندگی مثلِ دردِ جگر تو نہیں
اس میں تکرارِ شام و سحر ہے مگر
زندگی صرف شام و سحر تو نہیں
زندگی

بہت خوب جناب۔ ڈھیر ساری داد قبول فرمائیے
عبدالرزاق قادری — دسمبر 2، 2012 7:53 صبح
بن کے انجان پھرتی ہے بے شک مگر
زندگی موت سے بے خبر تو نہیں
اس میں تکرارِ شام و سحر ہے مگر
زندگی صرف شام و سحر تو نہیں

خودی ميں ڈوب جا غافل! يہ سر زندگانی ہے​
نکل کر حلقہ شام و سحر سے جاوداں ہو جا​
بلاشبہ بلند تخیل ہے۔ مثال کے طور پر اقبال کا ملتا جلتا تخیل پیش کیا ہے۔ جی شاہد شاہنواز صاحب عمدہ کلام ہے۔ فنی محاسن کے بارے استاد ہی فرمائیں گے​
محمدکامران اختر صاحب کو بھی دعوتِ قرات دیتا ہوں
محمد بلال اعظم — دسمبر 2، 2012 4:17 شام
میں نے اس کو ’’زندگی کی غزل‘‘ لکھ کر پوسٹ کیا تھا فیس بک پر تو کسی نے کہا شاہد غزل کا عنوان نہیں ہوتا۔۔۔ آپ نے اس کو عنوان کیوں دیا؟ اس لیے یہاں بغیر عنوان کے پوسٹ کی ہے۔ چونکہ سارے اشعار ایک ہی موضوع پر ہیں تو غزل مسلسل کا تو علم نہیں، ہاں موضوعاتی غزل کہہ سکتے ہیں۔۔۔

غزل کا عنوان تو بے شک نہیں ہوتا۔
لیکن اگر اس کا عنوان رکھ لیا جائے تو پھر یہ نظم کہلانے کی بھی حقدار ہو گی یا نظم کی کچھ اور شرائط ہیں؟
غ۔ن۔غ — دسمبر 2، 2012 4:22 شام
بن کے انجان پھرتی ہے بے شک مگر
زندگی موت سے بے خبر تو نہیں
اس میں تکرارِ شام و سحر ہے مگر
زندگی صرف شام و سحر تو نہیں

بہت خوب ۔ ۔ ۔۔:)
داد پیشِ خدمت ہے ۔ ۔ ۔ ۔
شاہد شاہنواز — دسمبر 2، 2012 5:55 شام
غزل کا عنوان تو بے شک نہیں ہوتا۔
لیکن اگر اس کا عنوان رکھ لیا جائے تو پھر یہ نظم کہلانے کی بھی حقدار ہو گی یا نظم کی کچھ اور شرائط ہیں؟
نظم کی فضا میرے خیال میں کچھ الگ ہوتی ہے۔ صرف عنوان رکھ لینے سے غزل نظم نہیں بن سکتی۔۔۔اس کے علاوہ میں نے جس طرح یہ اشعار لکھے ہیں، اس میں باقاعدہ ایک مطلع ہے، ایک مقطع ہے، مقطعے میں تخلص لایا گیا ہے اور درمیان کے جتنے اشعار ہیں، سب ایک ہی قافیے کی پیروی کر رہے ہیں، ان سب باتوں کی توقع صرف غزل سے کی جاسکتی ہے، نظم سے نہیں۔ محض ایک ہی چیز ہے جو اس کو نظم کہنے پر اکساتی ہے ، وہ یہ ہے کہ شاعر اپنے موضوع سے ہٹا نہیں، اس کا موضوع اول مصرعے سے لے کر آخر تک صرف زندگی رہا ہے۔ تاہم میرا خیال اس ضمن میں یہی ہے کہ صرف اتنا اس غزل کو نظم کہنے کے لیے کافی نہیں۔
الف عین — دسمبر 3، 2012 9:19 صبح
یہ مسلسل غزل ہی ہے، اگر عنوان بھی دو تو یہ لکھ دیا جائے کہ یہ ایک مسلسل غزل ہے۔
یہ اشعار واضح نہیں
اس قدر زندگی بے ثمر تو نہیں
زندگی گردِ راہِ سفر تو نہیں
زندگی زہرِ آفات کا نام ہے
زندگی زہرِ تیرِ نظر تو نہیں
موت آجائے یہ خواہشِ زندگی
خواہشِ اہلِ علم و ہنر تو نہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B3-%D9%82%D8%AF%D8%B1-%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C-%D8%A8%DB%92-%D8%AB%D9%85%D8%B1-%D8%AA%D9%88-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF.56848/