محسن اعوان — جنوری 12، 2021 2:24 صبح
تم نے ایسا کیوں کہا
مرد سب ہیں بے وفا
لیلیٰ پر جو مر گیا
پھر وہ مجنوں کون تھا
تم نے ایسا کیوں کہا
عورتیں ہیں با وفا
عیسٰیؑ نے جو زندہ کی
سوچ اُس زن کو ذرا
مجھ کو چاہت مت سکھا
اپنے بارے میں بتا
تم نے جو دھوکہ دیا
اس کا بھی کچھ ہو گا کیا
بحث میں اب ہار جا
بات میری مان جا
تم نے مجھ کو جو کہا
سب کا سب ہے بے تکا
محمد خلیل الرحمٰن — جنوری 12، 2021 2:43 صبح
لیلیٰ پر جو مر گیا
پھر وہ مجنوں کون تھا
لیلیٰ کی ی گررہی ہے
عیسٰیؑ نے جو زندہ کی
سوچ اُس زن کو ذرا
عیسیٰ کی ی اور ژندہ کی ہ گر رہی ہے۔
تم نے جو دھوکہ دیا
اس کا بھی کچھ ہو گا کیا
ہوگا کا الف گر رہا ہے
محسن اعوان — جنوری 12، 2021 3:25 صبح
سر اس بارے میں ذرا تفصیل سے بتائیں یہ حرف کیسے گر رہے ہیں اور اس سے کیا فرق پڑے گا
محسن اعوان — جنوری 12، 2021 4:48 صبح
سر ان الفاظ کو گرا کر ہی شعر وزن میں آئے گا
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 12، 2021 11:17 صبح
سر ان الفاظ کو گرا کر ہی شعر وزن میں آئے گا
بیٹا ایک تو ہر حرف کو گرانے کی اجازت نہیں ہوتی. مثلا عربی اور فارسی الفاظ میں تو حروف علت کا اسقاط بالکل جائز نہیں. ہاں، ہائے خفی کو تقطیع میں شمار نہیں کیا جاتا.
دیسی الفاظ میں محض حروف علت، یعنی الف، واؤ اور یائے کو بوقت ضرورت گرایا جا سکتا ہے، الا یہ کہ روانی میں زیادہ فرق نہ پڑے.
حروف ناطق خواہ دیسی الفاظ کے ہوں یا عربی فارسی، ان کا تقطیع میں بہرصورت شمار کیا جائے گا.
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 12، 2021 11:22 صبح
مجھ کو چاہت مت سکھا
اپنے بارے میں بتا
نظم آپ نے "تم" کے صیغے سے شروع کی، اس لیے تاآخر آپ کو یہی ضمیر استعمال کرنا پڑے گی، بیچ بیچ میں تو کا صیغہ نہیں آ سکتا جیسے محولہ بالا مصرعوں میں ہے.
محسن اعوان — جنوری 13، 2021 11:32 صبح
نظم آپ نے "تم" کے صیغے سے شروع کی، اس لیے تاآخر آپ کو یہی ضمیر استعمال کرنا پڑے گی، بیچ بیچ میں تو کا صیغہ نہیں آ سکتا جیسے محولہ بالا مصرعوں میں ہے
بہت شکریا سر جی آپ کا میں اس کو درست کرنے کی کوشش کروں گا
محسن اعوان — جنوری 13، 2021 11:33 صبح
بیٹا ایک تو ہر حرف کو گرانے کی اجازت نہیں ہوتی. مثلا عربی اور فارسی الفاظ میں تو حروف علت کا اسقاط بالکل جائز نہیں. ہاں، ہائے خفی کو تقطیع میں شمار نہیں کیا جاتا.
دیسی الفاظ میں محض حروف علت، یعنی الف، واؤ اور یائے کو بوقت ضرورت گرایا جا سکتا ہے، الا یہ کہ روانی میں زیادہ فرق نہ پڑے.
حروف ناطق خواہ دیسی الفاظ کے ہوں یا عربی فارسی، ان کا تقطیع میں بہرصورت شمار کیا جائے گا
بہت شکریہ سر جی
محسن اعوان — جنوری 13، 2021 11:40 صبح
ہائے خفی کو تقطیع میں شمار نہیں کیا جاتا
سر جی اس کے بارے میں تھوڑا بتا دیجے
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 13، 2021 11:44 صبح
سر جی اس کے بارے میں تھوڑا بتا دیجے
ہائے خفی کو عرفِ عام میں سلسلہ والی ہ بھی کہتے ہیں ۔۔۔ یعنی سلسلہ، رشتہ، روپیہ، پیسہ، آہستہ، شائستہ وغیرہ کے آخر میں جو ہ آتی ہے۔
اسی طرح ہائے مخلوط یعنی دو چشمی ھ کو بھی تقطیع میں شمار نہیں کیا جاتا۔ مثلا تقطیع میں دھول کو دول لکھیں گے۔
محسن اعوان — جنوری 13، 2021 11:47 صبح
ہائے خفی کو عرفِ عام میں سلسلہ والی ہ بھی کہتے ہیں ۔۔۔ یعنی سلسلہ، رشتہ، روپیہ، پیسہ، آہستہ، شائستہ وغیرہ کے آخر میں جو ہ آتی ہے۔
اسی طرح ہائے مخلوط یعنی دو چشمی ھ کو بھی تقطیع میں شمار نہیں کیا جاتا۔ مثلا تقطیع میں دھول کو دول لکھیں گے۔
سر لفظ زندہ میں اس کی کون سی قسم ہے
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 13، 2021 11:48 صبح
۔
محسن اعوان — جنوری 13، 2021 11:56 صبح
سر ایک اور بات کے باوقتِ ضرورت ہم گا، گی،گے یا کا کی کے کو فَ کے وزن پر لے سکتے ہیں یعنی الف کو گرا سکتے ہیں اور بعض دفعہ نہ، کہ وغیرہ کو ہم فا کے وزن پر لیتے ہیں اور کبھی ف کے وزن پر اس کے بارے بتا دیں اس بات نے مجھے بہت پریشان کر رکھا ہے
محمد احسن سمیع راحلؔ — جنوری 13، 2021 12:37 شام
سر ایک اور بات کے باوقتِ ضرورت ہم گا، گی،گے یا کا کی کے کو فَ کے وزن پر لے سکتے ہیں یعنی الف کو گرا سکتے ہیں اور بعض دفعہ نہ، کہ وغیرہ کو ہم فا کے وزن پر لیتے ہیں اور کبھی ف کے وزن پر اس کے بارے بتا دیں اس بات نے مجھے بہت پریشان کر رکھا ہے
زندہ کی بابت میرا پچھلا مراسلہ غلط رائے پر مبنی تھا، اسی لیے حذف کر دیا۔ میرے خیال میں زندہ کی ہ، ہائے خفی ہے اور اس کا اسقاط ہو سکتا ہے۔
گا، گے، گی یا کا کی کے وغیرہ کے الف اور یائے کا اسقاط جائز ہے، اگر روانی میں خلل نہ آئے۔ روانی متاثر ہونے کا کوئی فارمولا نہیں، یہ پہچان تجربے اور مطالعے سے ہی بالاستیعاب ممکن ہے۔
نہ اور کہ کو فا کے وزن پر نہیں لے سکتے۔ ان کا وزن یک حرفی ہی ہوتا ہے۔
محسن اعوان — جنوری 13، 2021 12:48 شام
زندہ کی بابت میرا پچھلا مراسلہ غلط رائے پر مبنی تھا، اسی لیے حذف کر دیا۔ میرے خیال میں زندہ کی ہ، ہائے خفی ہے اور اس کا اسقاط ہو سکتا ہے۔
گا، گے، گی یا کا کی کے وغیرہ کے الف اور یائے کا اسقاط جائز ہے، اگر روانی میں خلل نہ آئے۔ روانی متاثر ہونے کا کوئی فارمولا نہیں، یہ پہچان تجربے اور مطالعے سے ہی بالاستیعاب ممکن ہے۔
نہ اور کہ کو فا کے وزن پر نہیں لے سکتے۔ ان کا وزن یک حرفی ہی ہوتا ہے۔
بہت شکریہ سر جی آپ کا