اس نے زلفوں کو ہواؤں میں اچھالا ہو گا

سعید احمد سجاد — اگست 12، 2019 7:57 شام
محترم سر الف عین
عظیم
محمد ریحان قریشی
اور دیگر احباب سے اصلاح کی درخواست ہے
فیصلہ کر، کہ مرے غم کا مداوا ہو گا
یا سرِ بزم کوئی اور تماشا ہو گا
روح تک زخم لگے جب کبھی رستے ہونگے
کون اس وقت بھلا میرا مسیحا ہو گا
آج خوشبو سے معطر ہیں فضائیں کتنی
اس نے زلفوں کو ہواؤں میں اچھالا ہو گا
بس تری نام کی مجھ سے ہے شناسائی بھی
کل تلک میں نے بھرم یہ بھی گنوایا ہو گا
ایک بار اپنی زباں سے بھی گواہی دے دے
مجھ سے نفرت کا بہانہ کوئی ڈھونڈا ہو گا
شکریہ
الف عین — اگست 13، 2019 4:35 صبح
بس ان اشعار کو پھر دیکھیں
روح تک زخم لگے جب کبھی رستے ہونگے
کون اس وقت بھلا میرا مسیحا ہو گا
... پہلا مصرع واضح نہیں، شاید یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ روح تک زخم لگے ہیں اور یہ زخم جب رِستے (اسے رستے بھی پڑھا جا سکتا ہے) ہوں گے۔
آج خوشبو سے معطر ہیں فضائیں کتنی
اس نے زلفوں کو ہواؤں میں اچھالا ہو گا
زلفیں اچھالی جاتی ہیں؟ محترمہ وِگ لگاتی ہوں تو بات دوسری ہے!
باقی درست لگ رہی ہے
سعید احمد سجاد — اگست 13، 2019 6:59 صبح
بس ان اشعار کو پھر دیکھیں
روح تک زخم لگے جب کبھی رستے ہونگے
کون اس وقت بھلا میرا مسیحا ہو گا
... پہلا مصرع واضح نہیں، شاید یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ روح تک زخم لگے ہیں اور یہ زخم جب رِستے (اسے رستے بھی پڑھا جا سکتا ہے) ہوں گے۔
آج خوشبو سے معطر ہیں فضائیں کتنی
اس نے زلفوں کو ہواؤں میں اچھالا ہو گا
زلفیں اچھالی جاتی ہیں؟ محترمہ وِگ لگاتی ہوں تو بات دوسری ہے!
باقی درست لگ رہی ہے

فیصلہ کر، کہ مرے غم کا مداوا ہو گا
یا سرِ بزم کوئی اور تماشا ہو گا
روح تک زخم لگے جو وہ اگر رِسنے لگے
کون اس وقت بھلا میرا مسیحا ہو گا

آج خوشبو سے معطر ہیں فضائیں کتنی
اس نے زلفوں کو ہواؤں میں سنوارا ہو گا

بس تری نام کی مجھ سے ہے شناسائی بھی
کل تلک میں نے بھرم یہ بھی گنوایا ہو گا
ایک بار اپنی زباں سے بھی گواہی دے دے
مجھ سے نفرت کا بہانہ کوئی ڈھونڈا ہو گا
سر دونوں اشعار بہتر کرنے کی کوشش کی ہے
عظیم — اگست 13، 2019 8:59 صبح
پہلے شعر کے پہلے مصرع میں ابھی بھی 'ہیں' کی کمی محسوس ہو رہی ہے
روح تک زخم لگے ہیں جو، اگر رِسنے لگے
بہتر رہے گا
دوسرے شعر میں 'ہواؤں' کی وجہ سے یوں لگتا ہے کہ اس نے زلفوں کو ہواؤں میں اڑتے ہوئے سنوارا ہو گا۔
اس نے زلفوں کو کہیں پھر سے سنوارا ہو گا
بہتر ہو سکتا ہے
سعید احمد سجاد — اگست 13، 2019 11:58 صبح
پہلے شعر کے پہلے مصرع میں ابھی بھی 'ہیں' کی کمی محسوس ہو رہی ہے
روح تک زخم لگے ہیں جو، اگر رِسنے لگے
بہتر رہے گا
دوسرے شعر میں 'ہواؤں' کی وجہ سے یوں لگتا ہے کہ اس نے زلفوں کو ہواؤں میں اڑتے ہوئے سنوارا ہو گا۔
اس نے زلفوں کو کہیں پھر سے سنوارا ہو گا
بہتر ہو سکتا ہے
شکریہ عظیم بھائی مشورے دونوں اشعار میں بہت بہتر ہیں
سعید احمد سجاد — اگست 13، 2019 12:00 شام
پہلے شعر کے پہلے مصرع میں ابھی بھی 'ہیں' کی کمی محسوس ہو رہی ہے
روح تک زخم لگے ہیں جو، اگر رِسنے لگے
بہتر رہے گا
دوسرے شعر میں 'ہواؤں' کی وجہ سے یوں لگتا ہے کہ اس نے زلفوں کو ہواؤں میں اڑتے ہوئے سنوارا ہو گا۔
اس نے زلفوں کو کہیں پھر سے سنوارا ہو گا
بہتر ہو سکتا ہے

عظیم بھائی کو کہیں سے تنافر آ جائےگا
الف عین — اگست 14، 2019 3:17 صبح
اس نے زلفوں کو کہیں پھر سے سنوارا ہو گا
الفاظ بدل کر تنافر دور کیا جا سکتا ہے
سعید احمد سجاد — اگست 14، 2019 4:24 صبح
اس نے زلفوں کو کہیں پھر سے سنوارا ہو گا
الفاظ بدل کر تنافر دور کیا جا سکتا ہے

فیصلہ کر، کہ مرے غم کا مداوا ہو گا
یا سرِ بزم کوئی اور تماشا ہو گا
روح تک زخم لگے ہیں جو اگر رِسنے لگے
کون اس وقت بھلا میرا مسیحا ہو گا

آج خوشبو سے معطر ہیں فضائیں کتنی
ہاں کہیں زلفوں کو پھر اس نے سنوارا ہو گا

بس تری نام کی مجھ سے ہے شناسائی بھی
کل تلک میں نے بھرم یہ بھی گنوایا ہو گا
ایک بار اپنی زباں سے بھی گواہی دے دے
مجھ سے نفرت کا بہانہ کوئی ڈھونڈا ہو گا
سر الف عین نظر ثانی کیجیے گا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B3-%D9%86%DB%92-%D8%B2%D9%84%D9%81%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D9%88-%DB%81%D9%88%D8%A7%D8%A4%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%DA%86%DA%BE%D8%A7%D9%84%D8%A7-%DB%81%D9%88-%DA%AF%D8%A7.108005/