Arshad Khan khattak — مئی 20، 2014 3:12 شام
اپنی عادت سے مجبور
دونوں اک دوجے سے دور
لب سے نکلا ہائے ہائے
کیسی ہو گی مری حور
جناب اس کے اوزان ہیں فعلن مستفعلن فعل
سید ذیشان — مئی 22، 2014 9:02 صبح
یہ اشعار بحرِ ہندی میں ہیں اگر آخری مصرعے میں مری کو میری کر دیا جائے۔
اس کا وزن ہے: فعلن فعلن فعلن فعل
آصف شفیع — مئی 22، 2014 9:58 صبح
Syed Zeeshan is at right.
محمد حسین — مئی 24، 2014 1:22 شام
مجھے تو اس کی بحر فعلن فعلن لگ رہی ہے
Arshad Khan khattak — مئی 25، 2014 8:07 صبح
یہ اشعار بحرِ ہندی میں ہیں اگر آخری مصرعے میں مری کو میری کر دیا جائے۔
اس کا وزن ہے: فعلن فعلن فعلن فعل
shukriyah janab wese maine jo awzan bayan keye hai us par kuch nazar sani kare to banda mamnoon.......
Arshad Khan khattak — مئی 25، 2014 8:10 صبح
مجھے تو اس کی بحر فعلن فعلن لگ رہی ہے
اچھا جی مگر کیسے ذرہ نظر دوڑائیں آخری الفاظ پر
سید ذیشان — مئی 25، 2014 6:05 شام
shukriyah janab wese maine jo awzan bayan keye hai us par kuch nazar sani kare to banda mamnoon.......
فعلن مستفعلن فعل
اس وزن سے میں بے بہرہ ہوں۔ ہاں
مزمل شیخ بسمل صاحب آپ کی اس سلسلے میں مدد کر سکیں گے۔

مزمل شیخ بسمل — مئی 25، 2014 6:32 شام
فعلن مستفعلن فعل
اس وزن سے میں بے بہرہ ہوں۔ ہاں
مزمل شیخ بسمل صاحب آپ کی اس سلسلے میں مدد کر سکیں گے۔
اس بحر کا یہ وزن نہیں ہے۔
اس مصرعے کو کیسے تقطیع کرتے ہیں؟
لب سے نکلا ہائے ہائے
سید ذیشان — مئی 25، 2014 6:49 شام
اس بحر کا یہ وزن نہیں ہے۔
اس مصرعے کو کیسے تقطیع کرتے ہیں؟
لب سے نکلا ہائے ہائے
میں نے تو اس کو فعلن فعلن فعلن فعل میں تقطیع کیا ہے جو کہ بحر ہندی کا وزن بنتا ہے۔ لیکن خٹک صاحب کا سوال تھا کہ یہ فعلن مستفعلن فعل میں تقطیع ہوتا ہے ان کے مطابق۔ اسی لئے آپ کو بلایا کہ میرے خیال میں یہ درست نہیں ہے۔
مزمل شیخ بسمل — مئی 25، 2014 9:16 شام
میں نے تو اس کو فعلن فعلن فعلن فعل میں تقطیع کیا ہے جو کہ بحر ہندی کا وزن بنتا ہے۔ لیکن خٹک صاحب کا سوال تھا کہ یہ فعلن مستفعلن فعل میں تقطیع ہوتا ہے ان کے مطابق۔ اسی لئے آپ کو بلایا کہ میرے خیال میں یہ درست نہیں ہے۔
درست ہے آپ کی بات۔ میری بھی یہی رائے ہے۔
الف عین — مئی 26، 2014 2:37 صبح
فعلن فعلن کہا جائے یا فعل فعولن، بحر تو وہی ہے۔
Arshad Khan khattak — مئی 26، 2014 4:28 شام
تو جناب اب نتیجہ کیا نکلا؟ بحر ہندی؟
arifkarim — مئی 26، 2014 4:32 شام
بحرالکاہل؟
Arshad Khan khattak — مئی 26، 2014 4:33 شام
Arshad Khan khattak — مئی 26، 2014 4:36 شام
یہ اشعار بحرِ ہندی میں ہیں اگر آخری مصرعے میں مری کو میری کر دیا جائے۔
اس کا وزن ہے: فعلن فعلن فعلن فعل
بحر ہندی پر کچھ مواد پلیز
سید عاطف علی — مئی 26، 2014 4:36 شام
بھائی۔ جب پانی والا بحر ہو تو مذکر ہوتا ہے ۔اور عروضی وزن کا ہو تو بحر ہوتا نہیں بلکہ ہوتی ہے۔

مزمل شیخ بسمل — مئی 26، 2014 4:40 شام
بھائی۔ جب پانی والا بحر ہو تو مذکر ہوتا ہے ۔اور عروضی وزن کا ہو تو بحر ہوتا نہیں بلکہ ہوتی ہے۔
بعض وقت مجنوں نظر آتی ہے جناب عاطف صاحب۔

Arshad Khan khattak — مئی 26، 2014 4:43 شام
بھائی۔ جب پانی والا بحر ہو تو مذکر ہوتا ہے ۔اور عروضی وزن کا ہو تو بحر ہوتا نہیں بلکہ ہوتی ہے۔
shukriyah
سید ذیشان — مئی 26، 2014 4:46 شام
بحر ہندی پر کچھ مواد پلیز
یہاں پر انگریزی میں اس بحر کے بارے میں ضروری معلومات دی گئی ہیں۔
بحرِ ہندی میں کچھ غزلیں:
http://aruuz.com/Examples/Meters?meter=بحرِ ہندی/ متقارب مثمن مضاعف
اس میں ہر غزل کی تقطیع، تقطیع کا بٹن دبا کر دیکھی جا سکتی ہے۔