اس کی نظروں کو بھی آواز کا جادو آئے!۔۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے

کاشف اسرار احمد — جنوری 26، 2016 4:38 شام
ایک غزل کے چند اشعار اصلاح کے لئے پیش کر رہا ہوں ۔
بحر رمل مثمن مخبون محذوف
فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن
استاد محترم جناب الف عین سر سے اصلاح کی درخواست ہے دیگر احباب کے مشوروں اور تبصروں کا بھی منتظر ہوں۔
*******............********............********
صندلی ہاتھ بھی مَس کر دے تَو مہکوں ایسے
پاس سے گزروں تو سب کو تری خوشبو آئے!
نرم حلقے میں گرفتار ہوا ، میرا وجود
پشت سے میری لپٹتے، ترے بازو آئے!
حسن ہے شِعر کا مصرع، تو مکمل یوں ہو
جب تُو بولے، تَو زباں پر تری اردو آئے !

اختیاری ہے تصوّر، جو یہ چاہو تو تمھیں
اک نِبولی میں پکے آم کی خُو بُو آئے!

خامشی چہرے کی ، بڑھ کر مرا رستہ روکے
اس کی نظروں کو بھی آواز کا جادو آئے!

دل نے کچھ سوچ کے، خوشیوں کی اجازت دی ہے
ترے آنے پہ مری آنکھ میں آنسو آئے!
بن سنور کر ، وہ نکل آیا تھے مجھ سے ملنے
دشت بھر کے اسے پھر دیکھنے آہو آئے!
بہتے پانی میں تُو پیروں کو جو دھوئے آ کر
دیکھنے ، تیرتی مچھلی بھی، لبِ جُو آئے!
خوبصورت سا جو اک حادثہ دل پر گزرا
اس غزل کے مری جانب ،کھلے بازو آئے!

سید اسد معروف — جنوری 27، 2016 4:24 صبح
بہت خوب کاشف بھائی
دل نے کچھ سوچ کے، خوشیوں کی اجازت دی ہے
ترے آنے پہ مری آنکھ میں آنسو آئے!
اس زمین میں ایک اور خوبصورت غزل پسندیدہ کلام میں بھی ہے
http://www.urduweb.org/mehfil/threads/رنگ-باتیں-کریں-اور-باتوں-سے-خوشبو-آئے-ضیا-جالندھری.54621/
جو عابدہ پروین کی آواز میں سن کر آپ اپنی غزل بھی اسی دھن میں گنگنا سکتے ہیں :)
الف عین — جنوری 27، 2016 6:33 صبح
ماشاء اللہ، میرے خیال میں اصلاح کی ضرورت نہیں۔
کاشف اسرار احمد — جنوری 27، 2016 4:54 شام
بہت خوب کاشف بھائی
دل نے کچھ سوچ کے، خوشیوں کی اجازت دی ہے
ترے آنے پہ مری آنکھ میں آنسو آئے!
اس زمین میں ایک اور خوبصورت غزل پسندیدہ کلام میں بھی ہے
http://www.urduweb.org/mehfil/threads/رنگ-باتیں-کریں-اور-باتوں-سے-خوشبو-آئے-ضیا-جالندھری.54621/
جو عابدہ پروین کی آواز میں سن کر آپ اپنی غزل بھی اسی دھن میں گنگنا سکتے ہیں :)
شکریہ اسد بھائی۔ نوازش
کاشف اسرار احمد — جنوری 27، 2016 4:54 شام
ماشاء اللہ، میرے خیال میں اصلاح کی ضرورت نہیں۔
جزاک اللہ استاد محترم۔
کاشف اسرار احمد — جنوری 28، 2016 10:47 صبح
جناب الف عین سر
استاد محترم اگر شعر یوں کر دیا جائے:
خامشی چہرے کی اس کے ، مرا رستہ روکے
اس کی نظروں کو بھی آواز کا جادو آئے!
الف عین — جنوری 29، 2016 7:07 صبح
بہتر یوں ہو گا
اس کے چہرے کی خموشی مرا رستہ روکے
یوں زیادہ رواں ہو جاتا ہے، البتہ دوسرا مصرع بھی ’اس کی‘ سے شروع ہوتا ہے۔ لیکن یہ سقم اتنا واضح نہیں۔
محمد وارث — جنوری 29، 2016 10:14 صبح
نرم حلقے میں گرفتار ہوا ، میرا وجود
پشت سے میری لپٹتے، ترے بازو آئے!

کیا بازو آئے ہیں جناب، ساتھ میں "مزا" بھی آ گیا نرم حلقے کا۔
کاشف اسرار احمد — جنوری 29، 2016 6:51 شام
کیا بازو آئے ہیں جناب، ساتھ میں "مزا" بھی آ گیا نرم حلقے کا۔
کیا بات ہے وارث بھائی
خوب ذہنی قلابازیاں کھائی جا رہیں ہیں۔:p
کاشف اسرار احمد — جنوری 29، 2016 6:53 شام
بہتر یوں ہو گا
اس کے چہرے کی خموشی مرا رستہ روکے
یوں زیادہ رواں ہو جاتا ہے، البتہ دوسرا مصرع بھی ’اس کی‘ سے شروع ہوتا ہے۔ لیکن یہ سقم اتنا واضح نہیں۔
بہت بہتر استاد محترم۔
جزاک اللہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B3-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%D8%B8%D8%B1%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D9%88-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%A2%D9%88%D8%A7%D8%B2-%DA%A9%D8%A7-%D8%AC%D8%A7%D8%AF%D9%88-%D8%A2%D8%A6%DB%92-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D8%A6%DB%92.87501/