محمد اظہر نذیر — اپریل 3، 2011 3:31 شام
بحر رمل مثمن محزوف جس کے افاعیل ہیں
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلُن
کیا اسے
فاعلات فاعلات فاعلات فاعلُن
لیا جا سکتا ہے
شمشاد — اپریل 4، 2011 3:21 صبح
وارث بھائی متوجہ ہوں۔
محمد وارث — اپریل 4، 2011 6:17 صبح
اظہر صاحب اس بحر کے ساتھ کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی بجز یہ کہ آخری فاعلن کو فاعلان کر لیں، وگرنہ یہ بحر ایسے ہی استعمال ہوتی ہے یعنی فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن/فاعلان (مزید کسی تغیر کی اجازت نہیں)۔
جو افاعیل (فاعلات فاعلات۔۔۔۔۔۔۔۔) آپ نے لکھے ہیں ہو سکتا ہے وہ کوئی علیحدہ بحر ہو لیکن میری نظر سے ایسی کوئی بحر نہیں گزری اور غالباً ہے بھی نہیں۔
والسلام