اساتذہ کی توجہ کیلیے ایک گنگناتی غزل،'' اُس کی گلی سے گزرنا پڑا''

محمد اظہر نذیر — اگست 2، 2012 12:37 شام
اُس کی گلی سے گزرنا پڑا
مرنا نہیں تھا، پہ مرنا پڑا
گُل سب ہوا پھر چرا لے گئی
خوشبو کا تاوان، بھرنا پڑا
ہجراں میں اُس کے پئے ہی گئے
کرنا پڑا، یہ بھی کرنا پڑا
مجنوں بنے پھر رہے تھے کہیں
اُس نے کہا تو سنورنا پڑا
ڈوبے تھے آنکھوں میں اُسکی مگر
گرنے لگے، توابھرنا پڑا
اعلان اپنی ہی رسوائیوں کا
چاہا نہیں ، پھر بھی کرنا پڑا
مرضی خدا نے بھی پوچھی نہیں
اظہر ہمیں بس اُترنا پڑا
مزمل شیخ بسمل — اگست 2، 2012 1:44 شام
اچھی غزل ہے جناب.
مزمل شیخ بسمل — اگست 2، 2012 1:46 شام
پہلے شعر میں لفظ"پہ" بمعنی "پر" اب متروکات میں سے ہے. خیر دیکھیں استاد جی کیا کہتے ہیں.
احمد بلال — اگست 2، 2012 9:02 شام
اس مصرعے کی تقطیع کر دیں
اعلان اپنی ہی رسوائیوں کا
@محمد اظہر نذیر ، مزمل شیخ بسمل
مزمل شیخ بسمل — اگست 2، 2012 9:10 شام
اعلان کا "ن" متحرک کر کے اگلے لفظ سے ملائیں. تقطیع ہو جائے گی.
احمد بلال — اگست 2، 2012 9:14 شام
اعلان کا "ن" متحرک کر کے اگلے لفظ سے ملائیں. تقطیع ہو جائے گی.
اور رسوائیوں کا ؟
مزمل شیخ بسمل — اگست 2، 2012 9:16 شام
رس وا ایو ک
مزمل شیخ بسمل — اگست 2، 2012 9:21 شام
سوال یہ ہے کہ یہ بحر کونسی ہے؟ محمد وارث
الف عین — اگست 3، 2012 7:47 صبح
یہ تو وارث ہی بتائیں گے، ویسے افاعیل تو مجھے
فعلن فعولن فعولن فعول یا فعو
نظر آ رہے ہیں۔
بلال کی بات درست ہے، اگر رسوائیوں مکمل تقطیع کیا جائے تو آخری رکن فعولن ہو جاتا ہے۔ رسوائی کا‘ ہی کافی ہے۔ باقی بعد میں
محمد اظہر نذیر — اگست 3، 2012 8:27 صبح
بہت شکریہ محمد بلال اعظم
نمرہ
مزمل شیخ بسمل
محمد اظہر نذیر — اگست 3، 2012 8:33 صبح
پہلے شعر میں لفظ"پہ" بمعنی "پر" اب متروکات میں سے ہے. خیر دیکھیں استاد جی کیا کہتے ہیں.
جناب دور حاضر میں جب قوامیس مرتب کی جاتی ہیں تو ،''متروکات'' حذف کر دیے جاتے ہیں، لیکن لفظ"پہ" بمعنی "پر" ابھی تک جمیع لغات یا قوامیس میں موجود ہے( کم سے کم جو میرے پاس دوحہ میں ملتی ہیں :angel:) ، واللہ عالم بالثواب۔ میں ذاتی طور پر بیک جنبش قلم اسےرد نہیں کر سکتا، اساتذہ کی رائے کا انتظار کرتے ہیں۔
محمد اظہر نذیر — اگست 3، 2012 8:49 صبح
اس مصرعے کی تقطیع کر دیں
اعلان اپنی ہی رسوائیوں کا
@محمد اظہر نذیر ، مزمل شیخ بسمل
محترم احمد بلال صاحب میں تو لکھتا گیا تھا ، جیسے جیسے مصرع وارد ہوتے رہے
کچھ
مفعول مفعول مفعول فع
یا
فعلن فعولن فعولن فعو سی صورتحال بنتی ہے
مزمل شیخ بسمل — اگست 3، 2012 9:03 صبح
یہ غزل کسی بحر میں ہے یا نہیں اسکی تصدیق تو نہیں کر سکتا مگر اسکے افاعیل
فعلن فعولن فعولن فعل
بنتے ہیں.
جس میں رسوائیوں کا پورا وزن تقطیع میں آسکتا ہے.
محمد اظہر نذیر — اگست 3، 2012 9:05 صبح
یہ غزل کسی بحر میں ہے یا نہیں اسکی تصدیق تو نہیں کر سکتا مگر اسکے افاعیل
فعلن فعولن فعولن فعل
بنتے ہیں.
جس میں رسوائیوں کا پورا وزن تقطیع میں آسکتا ہے.
معذرت مین یہی لکھنا چاہ ریا تھا، ابھی تدوین کی ہے جی ، شکریہ
مزمل شیخ بسمل — اگست 3، 2012 10:22 صبح
جناب دور حاضر میں جب قوامیس مرتب کی جاتی ہیں تو ،''متروکات'' حذف کر دیے جاتے ہیں، لیکن لفظ"پہ" بمعنی "پر" ابھی تک جمیع لغات یا قوامیس میں موجود ہے( کم سے کم جو میرے پاس دوحہ میں ملتی ہیں :angel:) ، واللہ عالم بالثواب۔ میں ذاتی طور پر بیک جنبش قلم اسےرد نہیں کر سکتا، اساتذہ کی رائے کا انتظار کرتے ہیں۔

حضرت میں نے یہ کہاں کہا کے زبان سے ہی متروک ہوگیا؟
شاعروں کے متروکات میں ہے یہ. لفظ بالکل ٹھیک ہے.
شعرا اسے اب استعمال نہیں کرتے . اکا دکا کوئی مثال ہو تو ہو.
جیسے میر حسن کا ایک شعر.
ہر ایک دل و جاں کے مرغوب نظر آئے
میں خوب تمھیں دیکھا تم خوب نظر آئے.
لفظ "نے" کا حذف متروک.
محمد اظہر نذیر — اگست 3، 2012 10:32 صبح
حضرت میں نے یہ کہاں کہا کے زبان سے ہی متروک ہوگیا؟
شاعروں کے متروکات میں ہے یہ. لفظ بالکل ٹھیک ہے.
شعرا اسے اب استعمال نہیں کرتے . اکا دکا کوئی مثال ہو تو ہو.
جیسے میر حسن کا ایک شعر.
ہر ایک دل و جاں کے مرغوب نظر آئے
میں خوب تمھیں دیکھا تم خوب نظر آئے.
لفظ "نے" کا حذف متروک.
جناب من ہم تو مبتدی ٹہرے متقدمین کے نقش پا پہ چلنا مقدر ٹہرا، اب اُن کی اقتدا میں اتنا حق تو ملنا ہی چاہیے نا؟
مزمل شیخ بسمل — اگست 3، 2012 10:44 صبح
جناب من ہم تو مبتدی ٹہرے متقدمین کے نقش پا پہ چلنا مقدر ٹہرا، اب اُن کی اقتدا میں اتنا حق تو ملنا ہی چاہیے نا؟

جی جناب. چلیں ٹھیک ہی ہے. باقی استاد جی کی رائے کا انتظارطہے الف عین
احمد بلال — اگست 3، 2012 12:28 شام
یہ غزل کسی بحر میں ہے یا نہیں اسکی تصدیق تو نہیں کر سکتا مگر اسکے افاعیل
فعلن فعولن فعولن فعل
بنتے ہیں.
جس میں رسوائیوں کا پورا وزن تقطیع میں آسکتا ہے.
تقطیع کر دیں تو مہربانی ہو گی
الف عین — اگست 4، 2012 7:41 صبح
پہ کا استعمال درست ہے، اب بھی بہت لوگ استعمال کرتے ہیں، اگرچہ کمیاب ہے۔
رسوائیوں کو بارے میں میں خیال ظاہر کر چکا ہوں
مزمل شیخ بسمل — اگست 4، 2012 9:45 صبح
پہ کا استعمال درست ہے، اب بھی بہت لوگ استعمال کرتے ہیں، اگرچہ کمیاب ہے۔
رسوائیوں کو بارے میں میں خیال ظاہر کر چکا ہوں

جی استاد جی آپ ٹھیک ہیں. میں تو پتا نہیں کیا سوچ کر اس مصرعے کو درست کہہ گیا ہوں.
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B3%D8%A7%D8%AA%D8%B0%DB%81-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D9%88%D8%AC%DB%81-%DA%A9%DB%8C%D9%84%DB%8C%DB%92-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%DA%AF%D9%86%DA%AF%D9%86%D8%A7%D8%AA%DB%8C-%D8%BA%D8%B2%D9%84%D8%8C-%D8%A7%D9%8F%D8%B3-%DA%A9%DB%8C-%DA%AF%D9%84%DB%8C-%D8%B3%DB%92-%DA%AF%D8%B2%D8%B1%D9%86%D8%A7-%D9%BE%DA%91%D8%A7.53182/