استادِ محترم سے گزارش ہے کہ اصلاح فرمائیں

توصیف یوسف مغل — جنوری 19، 2016 1:07 شام
وہ گلے مل کے ترا مجھ سے خفا ہو جانا
پھر اچانک ترا پتھر کا خدا ہو جانا
وہ مرے خواب میں آئے بھی تو آئے ایسے
آنکھ کھلتے ہی مرا ان سے جدا ہو جانا
میری آنکھوں میں الم ناک ہے منظر یارو
پھول کھلنے سے ذرا پہلے فنا ہو جانا
لوگ واقف ہیں مرے طرزِ محبت سے سبھی
ہاتھ اٹھتے ہی ترے حق میں دعا ہو جانا
یہ کرامت ہے کوئی یاں کہ قیامت توصیف
"اس قدر دشمنِ اربابِ وفا ہو جانا"
توصیف یوسف......
سید اسد معروف — جنوری 20، 2016 4:25 صبح
بہت خوب۔
عثمان قادر — جنوری 20، 2016 4:55 صبح
الف عین ظہیراحمدظہیر
محمد عسکری — جنوری 20، 2016 5:08 صبح
بہت خوب
محمد عسکری — جنوری 20، 2016 5:13 صبح
لوگ واقف ہیں سبھی طرزِ محبت سے مِری کر دیجئے زیادہ بہتر ہوگا۔
محمد عسکری — جنوری 20، 2016 5:17 صبح
مطلع میں ترا کی تکرار ہو رہی ہے۔
آپ یوں کہ سکتے ہیں-
وہ گلےمل کے ترا مجھ سے خفا ہو جانا۔
پھر اچانک سے ہی پتھر کا خدا ہو جانا۔
ظہیراحمدظہیر — جنوری 20، 2016 3:36 شام
وہ گلے مل کے ترا مجھ سے خفا ہو جانا
پھر اچانک ترا پتھر کا خدا ہو جانا
وہ مرے خواب میں آئے بھی تو آئے ایسے
آنکھ کھلتے ہی مرا ان سے جدا ہو جانا
میری آنکھوں میں الم ناک ہے منظر یارو
پھول کھلنے سے ذرا پہلے فنا ہو جانا
لوگ واقف ہیں مرے طرزِ محبت سے سبھی
ہاتھ اٹھتے ہی ترے حق میں دعا ہو جانا
یہ کرامت ہے کوئی یاں کہ قیامت توصیف
"اس قدر دشمنِ اربابِ وفا ہو جانا"
توصیف یوسف......

توصیف بھائی ! بہت خوب ! اچھی غزل ہے ۔
ایک دو اشعار کو پھر سے دیکھ لیجئے ۔
مطلع کا دوسرا مصرع اچھا نہین لگ رہا ۔ معنی فی بطن شاعر والی بات لگ رہی ہے۔
دوسرے شعر میں شتر گربہ ہے ۔پہلے مصرع مین وہ واحد کا صیغہ ہے اس لئے دوسرے مصرع میں ان کے بجائے اس رکھئے ۔
چوتھے شعر کا پہلا مصرع عسکری صاحب نے یوں تجویز کیا ہے: ’’لوگ واقف ہیں سبھی طرزِ محبت سے مری‘‘۔ یہ بہتر مصرع ہے لیکن اس میں مری کے بجائے مرے ہونا چاہیئے ۔ مری درست نہیں ہے۔ مقطع میں گرہ ٹھیک سے نہیں لگی۔ اس میں کرامت کا قیامت سے تقابل سمجھ میں نہین آیا ۔ یاں بھی اچھا نہیں لگ رہا ۔
توصیف یوسف مغل — جنوری 21، 2016 1:30 صبح
لوگ واقف ہیں سبھی طرزِ محبت سے مِری کر دیجئے زیادہ بہتر ہوگا۔

بہت شکریہ
توصیف یوسف مغل — جنوری 21، 2016 2:27 صبح
بہت شکریہ آپ کا اصلاح کے لیے
توصیف یوسف مغل — جنوری 21، 2016 2:30 صبح
توصیف بھائی ! بہت خوب ! اچھی غزل ہے ۔
ایک دو اشعار کو پھر سے دیکھ لیجئے ۔
مطلع کا دوسرا مصرع اچھا نہین لگ رہا ۔ معنی فی بطن شاعر والی بات لگ رہی ہے۔
دوسرے شعر میں شتر گربہ ہے ۔پہلے مصرع مین وہ واحد کا صیغہ ہے اس لئے دوسرے مصرع میں ان کے بجائے اس رکھئے ۔
چوتھے شعر کا پہلا مصرع عسکری صاحب نے یوں تجویز کیا ہے: ’’لوگ واقف ہیں سبھی طرزِ محبت سے مری‘‘۔ یہ بہتر مصرع ہے لیکن اس میں مری کے بجائے مرے ہونا چاہیئے ۔ مری درست نہیں ہے۔ مقطع میں گرہ ٹھیک سے نہیں لگی۔ اس میں کرامت کا قیامت سے تقابل سمجھ میں نہین آیا ۔ یاں بھی اچھا نہیں لگ رہا ۔

محترم جناب ظہیر احمد ظہیر بہت شکریہ نشاندہی کرنے کے لیے دلی دعا
الف عین — جنوری 22، 2016 9:35 صبح
اچھی غزل ہے، کچھ خامیوں کی نشان دہی کی جا چکی ہے مزید اتنا کہوں گا کہ ردیف ’ہو جانا‘ درست طریقے پر نباہی نہیں جا سکی۔ بطور خاص تیسرے اور چوتھے شعر میں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%AF%D9%90-%D9%85%D8%AD%D8%AA%D8%B1%D9%85-%D8%B3%DB%92-%DA%AF%D8%B2%D8%A7%D8%B1%D8%B4-%DB%81%DB%92-%DA%A9%DB%81-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA.87321/