اسد یوسف

ا۔س۔د — نومبر 6، 2017 3:47 صبح
دریا کو خوف ہے اپنے ہی نشیمن سے
یہ میری ناو میں نہ آئے تو کہاں جائے۔
رہے نہ جائے باغ عدن میں کوئی کمی
وہ تیرا نقش نہ بنائے توط کہاں جائے
یوں بند نہ کر دیاں کریں در رات کو
کوچاء جاں کو نہ جائے تو کہاں جائے
آئیے حضور آپ ہی کا انتظار تھا ہمیں
ہر بشر سے نہ کہے تو کہاں جائے
وہ نہیں جو بخشتا خداداد صلاحیت
اسد اُلٹے جملے نہ بنائے تو کہاں جائے
ا۔س۔د
الف عین — نومبر 21، 2017 7:16 صبح
عروض کی شد بد پیدا کریں تو اچھی غزلیں کہہ سکتے ہیں۔ ورنہ نثری نظمیں کہیں
ا۔س۔د — نومبر 21، 2017 7:30 صبح
عروض دانی نہیں آتی
تجھے رائگانی نہیں آتی۔
سید عمران — نومبر 21، 2017 9:38 صبح
مجھے یہ آنی جانی نہیں آتی!!!
سید عمران — نومبر 21، 2017 9:40 صبح
۔
ا۔س۔د — نومبر 21، 2017 10:59 صبح
جب نہیں چشم میں باقی آب
روئیں اسد اب گریہ خونناب۔
عروض کا علم رکھنے والے حضرات برائے کرم اس شعر کی رو سے کچھ جھا دیں۔
ا۔س۔د — نومبر 22، 2017 6:21 صبح
؟؟؟۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B3%D8%AF-%DB%8C%D9%88%D8%B3%D9%81.98958/