زنیرہ عقیل — جولائی 6، 2018 8:13 صبح
نجوم و گل چراغ سامنے سبھی تو ہیں مگر
ستارہ بین کی نگاہ میں یہ سب ستارے ہیں
زنیرہ گل
زنیرہ عقیل — جولائی 6، 2018 8:16 صبح
چھپائیں لاکھ زخمِ دل مگر سُن اے ”زنیرہ گُل”
اُڑی رنگت پہ اشکوں کا سمندر کون روکےگا
زنیرہ گل
زنیرہ عقیل — جولائی 6، 2018 8:20 صبح
مرے وجود پہ تاریک شب کا سایہ ہے
وگر نہ "گُل" تو منور مثال ہوتی تھی
زنیرہ "گُل"
زنیرہ عقیل — جولائی 6، 2018 8:27 صبح
وصل و ہجراں، منزلیں طے ہو گئیں
”گل” چلا ہے خاک میں ملنے کو ہے
زنیرہ "گُل"
شاہد شاہنواز — جولائی 19، 2018 2:44 شام
نجوم و گل چراغ سامنے سبھی تو ہیں مگر
ستارہ بین کی نگاہ میں یہ سب ستارے ہیں
زنیرہ گل
۔۔
مفاعلن مفاعلن مفاعلن مفاعلن
۔۔ میری نظر میں یہ کوئی مانوس بحر نہیں۔۔۔
خیر، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔
آپ کیا واضح کرنا چاہتی ہیں، اس شعر سے؟
شاہد شاہنواز — جولائی 19، 2018 2:46 شام
چھپائیں لاکھ زخمِ دل مگر سُن اے ”زنیرہ گُل”
اُڑی رنگت پہ اشکوں کا سمندر کون روکےگا
زنیرہ گل
صرف "گل" یا صرف "زنیرہ" کا استعمال بہتر ہوتا۔۔
۔اور کوئی مسئلہ نہیں لگتا۔