حسیب بسمل — جون 19، 2016 5:39 صبح
اےپاگل دل! عطا تجھ کو بصورت ہی یہ ممکن تھی
وہ کافر در تھا، تُو بھی، بن کہ واں کافر گیا ہوتا
کہاں لے گے ہو ساقی دورِ لطفِ جام تم مجھ سے
نظر کا جام تیرا ، میرا ساغر بھر گیا ہوتا
کی جس سے تُو نے بسمؔل! دل لگی ہی کی ہو گی آخر
جو تُو نے عشق کیا ہوتا ، ابھی تک مر گیا ہوتا
شاہد شاہنواز — جون 21، 2016 10:53 صبح
اےپاگل دل! عطا تجھ کو بصورت ہی یہ ممکن تھی
وہ کافر در تھا، تُو بھی، بن کہ واں کافر گیا ہوتا
کہاں لے گے ہو ساقی دورِ لطفِ جام تم مجھ سے
نظر کا جام تیرا ، میرا ساغر بھر گیا ہوتا
کی جس سے تُو نے بسمؔل! دل لگی ہی کی ہو گی آخر
جو تُو نے عشق کیا ہوتا ، ابھی تک مر گیا ہوتا
بحر کون سی ہے یہ طے کرنے میں مسئلہ درپیش ہے۔۔۔ اگر آپ بحر نہیں جانتے تو اسی وزن پر کہا گیا کوئی دوسرا کلام بتائیے گا جو آپ کے علم میں ہو۔۔۔
محمد ریحان قریشی — جون 21، 2016 12:59 شام
بحر ہزج مثمن سالم ہے۔ غالباََ عروض ڈاٹ کام کی مدد سے اشعار کہے ہیں۔ دوسرے شعر میں گئے کو گے باندھا گیا ہے جو کہ غلط ہے۔
آخری شعر میں کیا کو کیا سوال والا یعنی دو حرفی باندھا ہے ۔ کیا کرنے سے ماضی مطلق سہ حرفی ہے۔
محمد خلیل الرحمٰن — جون 21، 2016 1:27 شام
ہماری صلاح
کہاں لے جاچکے ہو دورِ لطفِ جام تم ساقی
۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوتا جو تو نے عشق اب تک مرگیا ہوتا
حسیب بسمل — جون 21، 2016 2:33 شام
شاہد شاہنواز صاحب۔۔۔
یہ بحر ہزج مثمن سالم ہے۔
حسیب بسمل — جون 21، 2016 2:35 شام
بحر کون سی ہے یہ طے کرنے میں مسئلہ درپیش ہے۔۔۔ اگر آپ بحر نہیں جانتے تو اسی وزن پر کہا گیا کوئی دوسرا کلام بتائیے گا جو آپ کے علم میں ہو۔۔۔
یہ بحر
ہزج مثمن سالم ہے۔
حسیب بسمل — جون 21، 2016 2:36 شام
فیض احمد فیض کا کلام۔ستم سکھلائے گا رسمِ وفا، ایسے نہیں ہوتا
صنم دکھلائيں گے راہِ خدا، ایسے نہیں ہوتا
محمد ریحان قریشی — جون 21، 2016 2:44 شام
بحر ہزج مثمن سالم ہے۔ غالباََ عروض ڈاٹ کام کی مدد سے اشعار کہے ہیں۔ دوسرے شعر میں گئے کو گے باندھا گیا ہے جو کہ غلط ہے۔
آخری شعر میں کیا کو کیا سوال والا یعنی دو حرفی باندھا ہے ۔ کیا کرنے سے ماضی مطلق سہ حرفی ہے۔
غیر متفق ہونے کی وجہ؟؟
حسیب بسمل
محمدابوعبداللہ — جون 21، 2016 5:58 شام
غیر متفق ہونے کی وجہ؟؟
حسیب بسمل
انگوٹھا تلک گیا لگدا
الف عین — جون 21، 2016 6:17 شام
ریحان نے ماشاء اللہ بحر پکڑ لی ورنہ یں تو پہلے ہی لفظ سے مایوس ہو گیا تھا۔ دو مرع خلیل نے وزن میں لا دئے ہیں۔ لیکن باقی کی بھی خامیاں بتا دوں۔
اے پاگل محض اِ پاگل باندھا گیا ہے جو غلط ہے۔
عطا تجھ کو بصورت ہی یہ ممکن تھی
مطلب سمجھ میں نہیں آتا۔
کہاں لے جاچکے ہو دورِ لطفِ جام تم ساقی
دور جام ہی کافی ہے۔ لطفِ جام کیوں؟
کی جس سے تُو نے بسمؔل! دل لگی ہی کی ہو گی آخر
تقطیع میں یوں آتا ہے
کِ جس سے تو نے بسمل دل لگی ہی کی ہُ گی آخر
کی ہو گی کو ’کی ہُُگی‘ بنانا اچھا نہیں۔ مصرع کے شروع میں بھی ’کی‘ کو ’کِ‘ کرنا شعر کو بوجھل بنا رہا ہے۔
شاہد شاہنواز — جون 22، 2016 6:40 صبح
فیض احمد فیض کا کلام۔
ستم سکھلائے گا رسمِ وفا، ایسے نہیں ہوتا
صنم دکھلائيں گے راہِ خدا، ایسے نہیں ہوتا
مجھے بحر سمجھنے میں مشکل پیش نہ آتی اگر اس میں اِس قدر اسقاط نہ پایا جاتا۔محترم الف عین سے متفق ہوں ۔۔۔ فی الحال ان کی رائے دیکھئے۔ ضرورت پڑی تو کچھ کہوں گا ۔۔۔
شاہد شاہنواز — جون 22، 2016 6:52 صبح
وہ غیر متفق کی ریٹنگ ختم کردیجئے، بصورتِ دیگر ان کو ملنے والے منفی پوائنٹ انہیں پریشان کرتے رہیں گے ۔۔
محمدابوعبداللہ — جون 22، 2016 7:35 صبح
وہ غیر متفق کی ریٹنگ ختم کردیجئے، بصورتِ دیگر ان کو ملنے والے منفی پوائنٹ انہیں پریشان کرتے رہیں گے ۔۔
میں نے کس کو غیر متفق ریٹنگ کی ہے ؟
شاہد شاہنواز — جون 22، 2016 8:31 صبح
میں نے کس کو غیر متفق ریٹنگ کی ہے ؟
معذرت۔۔ آپ نے نہیں ۔۔
حسیب بسمل نے کیا تھا ۔۔۔ غالبا
حسیب بسمل — جون 22، 2016 9:23 صبح
سمجھ گیا۔۔۔شکریہ۔۔۔ تقطیع پر در اصل سرسری نظر تھی۔۔۔ البتہ میں شعر لکھ کر۔۔۔ عروض کی ویب سائاٹ سے دیکھ لیتا یوں۔۔۔ اب لگتا ہے شاید وہ بھی درست نہیں
حسیب بسمل — جون 22، 2016 9:24 صبح
مجھے بحر سمجھنے میں مشکل پیش نہ آتی اگر اس میں اِس قدر اسقاط نہ پایا جاتا۔محترم الف عین سے متفق ہوں ۔۔۔ فی الحال ان کی رائے دیکھئے۔ ضرورت پڑی تو کچھ کہوں گا ۔۔۔
جی شکریہ۔۔ جناب کا۔۔