مانی عباسی — مئی 31، 2013 12:12 شام
شباب و حسن ہی گر میرا دیں ہے تو یقیں ہے تُو
زمانے نے کہا مجھ کو جبیں ہے تو زمیں ہے تُو
پرانے دیس کی باتیں سہانے وقت کی یادیں
وہی کوچے وہی گلیاں نہیں ہے تو نہیں ہے تُو
مری آنکھوں ک خوابوں میں مرے دل کی تمنّا میں
حقیقت میں اگر اب بھی کہیں ہے تو یہیں ہے تُو
بہت ہیں دوریاں پر بات یہ دعوے سے کہتا ہوں
وفا کی رسم کا کوئی امیں ہے تو امیں ہے تُو
الف عین — مئی 31، 2013 12:38 شام
اچھی غزل ہے، لیکن ہر جگہ مکمل ’تو‘ لانا اچھا نہیں لگ رہا ہے، اس کی جگہ ’اگر‘ ’گر‘ یا کچھ متبادل الفاظ استعمال کرو تو بہتر ہو۔ خیال رہے میں ’تُو‘ کی بات نہیں کر رہا ہوں!!
مانی عباسی — جون 1، 2013 6:43 شام
اچھی غزل ہے، لیکن ہر جگہ مکمل ’تو‘ لانا اچھا نہیں لگ رہا ہے، اس کی جگہ ’اگر‘ ’گر‘ یا کچھ متبادل الفاظ استعمال کرو تو بہتر ہو۔ خیال رہے میں ’تُو‘ کی بات نہیں کر رہا ہوں!!
تو کے استعمال میں کوئی عیب نہیں ہے میرے نزدیک تو۔۔۔۔۔مکمل تو سے مراد ؟؟؟؟؟
الف عین — جون 2، 2013 7:34 صبح
تو بمعنی اگر ، پھر وغیرہ صورت میں فصیح تر صورت تُ ہے، یعنی ایک حرفی، بجائے مکمل دو حرفی فع کے
مانی عباسی — جون 2، 2013 8:17 صبح
تو بمعنی اگر ، پھر وغیرہ صورت میں فصیح تر صورت تُ ہے، یعنی ایک حرفی، بجائے مکمل دو حرفی فع کے
ایک اور فورم پر میں نے یہ سوال پوچھا تو
مزمل شیخ بسمل نے کہا کہ دو حرفی لینا صحیح ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شوکت پرویز — جون 3، 2013 9:20 صبح
شباب و حسن ہی گر میرا دیں ہے تو یقیں ہے تُو
زمانے نے کہا مجھ کو جبیں ہے تو زمیں ہے تُو
اس مصرع کا مطلب؟؟؟
مانی عباسی — جون 4، 2013 8:25 صبح
یہ دو الگ معانی کے مصرعے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلے میں یہ کہا ہے کہ حسن پی میرا ایمان محبوب کی وجہ سے ہے ۔۔۔۔۔۔۔دوسرے میں کہا ہے کہ جیسے جبین اور زمین کا ملنا کامیابی کا سبب ہوتا ہے ویسے ہی محبت کی کامیابی کے لیے ہم بھی ملیں گے
یہ اس شعرکی خامی کہیں یا خوبی