کاش کے تم مجھے بھی پاس بلا کے روتے
اور پھر تم مجھے سینے سے لگا کے روتے
اک زمانہ سے ملاقات نہیں ہے اپنی
اب جو ملتے تو وہ سینے سے لگا کے روتے
ہم نے اس خوف میں چھوڑی نہیں تیری بستی
ہم بھی غالب کی طرح پھر کہی جا کے روتے
سر الف عین
اور پھر تم مجھے سینے سے لگا کے روتے
اک زمانہ سے ملاقات نہیں ہے اپنی
اب جو ملتے تو وہ سینے سے لگا کے روتے
ہم نے اس خوف میں چھوڑی نہیں تیری بستی
ہم بھی غالب کی طرح پھر کہی جا کے روتے
سر الف عین