اسلام و علیکم!
ماشاءاللہ بہت اچھا صفح ہے.
عرض ہے کے اگر کسی کو عروض کا علم نہ ہو (یعنی کہ میں) تو کیا وہ یہاں اصلاح کے لئے اپنی شاعری پوسٹ کر سکتا ہے
ابن رضا — دسمبر 20، 2014 6:46 صبح
وعلیکم السلام۔
السلامُ علیکم ایسے لکھا جاتا ہے۔ عروض کا اگر نہیں علم تو پہلے حاصل کر لیجیے۔ اس ربط پر موجود مضامین آپ کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔ http://www.aruuz.com/resources
فرحان عباس — دسمبر 20، 2014 7:19 صبح
شکریہ!
ایک اور بات غزل کا کسی مروجہ بحر میں ہونا لازمی ہے یا ردیف قافیہ اور وزن سے کام چل جاتا ہے؟
غزل کے لوازمات میں زمین (یعنی بحر قافیہ و "ردیف اختیاری") ہے مبتدی حضرات کے لیے مروجہ بحور میں ہی مشق تجویز کی جاتی ہے تاہم یہ لازمی نہیں کوئی بھی وزن اختیارکرنا شاعر کی صوابدید ہے تاہم منتخب ارکان کا عروض کے دائرے میں سے ہونا ضروری ہے ۔ مطلع غزل کے پہلے شعر کو کہا جاتا ہے جس میں دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں اور مقطع اس شعر کو کہا جاتا ہے جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے عموما" یہ آخری شعر ہوتا ہے۔ نثری نظم کہنے کے لیے کوئی پابندی نہیں۔
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 20، 2014 11:29 صبح
غزل کہنے کے لیے عروض کا علم جاننا ضروری نہیں ، البتہ غزل کے لیے ضرور ہے کہ وہ کسی بحر میں ہو اور ردیف و قافیہ درست ہوں۔
فرحان عباس — دسمبر 20، 2014 1:02 شام
عروض کے بغیر ہمیں بحر کا کے سے پتہ چلے گا؟
ابھی میں ردیف قافیہ استمعال کرتا ہو اور مصروں میں الفاظ گن کر کمی بیشی کرتا ہو؟ مثلا" اگر مطلع کے ایک مصرے میں ۷ الفاظ ہیں تو ہر مصرے میں ۷ ہی الفاظ رکھتا ہو.
کیا یہ طریقہ درست ہے؟
عروض کے بغیر ہمیں بحر کا کے سے پتہ چلے گا؟
ابھی میں ردیف قافیہ استمعال کرتا ہو اور مصروں میں الفاظ گن کر کمی بیشی کرتا ہو؟ مثلا" اگر مطلع کے ایک مصرے میں ۷ الفاظ ہیں تو ہر مصرے میں ۷ ہی الفاظ رکھتا ہو.
کیا یہ طریقہ درست ہے؟
نہیں، الفاظ کی تعداد نہیں ان کا ہم وزن ہونا ضروری ہے۔میرا مشورہ ہے کہ پہلے شد بد پیدا کریں تب غزل کہنا شوع کریں۔ ورنہ نثری نظم کہیں۔
فرحان عباس — دسمبر 21، 2014 3:08 صبح
جی شکریہ الف عین استاد صاحب!
ویسے تو ہمیں پانچ سال ہو گئے ہیں غزل کہنے میں لیکن نہ تو کو ئی استاد ملا نہ یہ پتہ چلا کہ آخر یہ مشاعرے ہوتے کہاں ہیں
اسی لئے اب تک ہم عروض لفظ سے بھی ناواقف رہے
اساتذہ سے درخواست ہے کہ اس کا وزن دیکھیں اور بحر کی نشاندہی کریں. شکریہ میاں ماحول سارا سیاسی ہوگیا
سب تجربہ شجربہ
بھاسی ہوگیا حضور کے من کو جو بھایا
وہ اٹھارہ تھا
اکاسی ہوگیا ہے یہاں جرم اپنی زباںابتو
سارا نضام اے بی
سی ہوگیا وردکرسی میں مگں رہتے ہیں
رہبروں کو
مرض کرسی ہو گیا شاعر: فرحان عباس فرحاں
اساتذہ سے درخواست ہے کہ اس کا وزن دیکھیں اور بحر کی نشاندہی کریں. شکریہ میاں ماحول سارا سیاسی ہوگیا
سب تجربہ شجربہ
بھاسی ہوگیا حضور کے من کو جو بھایا
وہ اٹھارہ تھا
اکاسی ہوگیا ہے یہاں جرم اپنی زباںابتو
سارا نضام اے بی
سی ہوگیا وردکرسی میں مگں رہتے ہیں
رہبروں کو
مرض کرسی ہو گیا شاعر: فرحان عباس فرحاں
ایک مصرع بحر میں ہے: وہ اٹھارہ تھا اکاسی ہو گیا، اور اچھا مصرع بھی ہے۔ کوشش کر کے باقی تمام مصرعے بھی اسی بحر میں لے آئیے۔ فاعلاتن فاعلاتن فاعلن÷فاعلات
فرحان عباس — دسمبر 22، 2014 8:16 صبح
شکریہ حجاز بھائی! ویسے میرے مطابق اگر اخفاء، اشباع کیا جائے تو پہلے ساتھ مصروں کا وزن دائیں سے بائیں
۱۱۱،۱۱۱،۰۱۱۱
ہوتا ہے جبکہ آٹھواں مصرع
۱۱۱،۱۱۱،۱۱۱۱
اساتذہ سے درخواست ہے کہ اس کا وزن دیکھیں اور بحر کی نشاندہی کریں. شکریہ میاں ماحول سارا سیاسی ہوگیا سب تجربہ شجربہ بھاسی ہوگیا حضور کے من کو جو بھایا وہ اٹھارہ تھا اکاسی ہوگیا ہے یہاں جرم اپنی زباںابتو سارا نضام اے بی سی ہوگیا وردکرسی میں مگں رہتے ہیں رہبروں کو مرض کرسی ہو گیا شاعر: فرحان عباس فرحاں
چونکہ آپ انجنیئر ہیں تو انگریزی تو آپ پڑھ ہی لیتے ہوں گے۔ انگریزی میں عروض پر یہ کتابچہ ہے، اس کا مطالعہ کرنے سے آپ کافی حد تک خود کفیل ہو جائیں گے۔ Urdu Meter: A Practical Guide
فرحان عباس — دسمبر 26، 2014 3:36 صبح
جی شکریہ. ویسے یہ کتابچہ آن لائن ریڈنگ کے لئے ہے. ڈاؤن لوڈ نہیں ہوتی نہ؟
فرحان عباس — دسمبر 26، 2014 3:37 صبح
جی شکریہ. ویسے یہ کتابچہ آن لائن ریڈنگ کے لئے ہے. ڈاؤن لوڈ نہیں ہوتی نہ؟
فرحان عباس — دسمبر 26، 2014 3:38 صبح
جی شکریہ. ویسے یہ کتابچہ آن لائن ریڈنگ کے لئے ہے. ڈاؤن لوڈ نہیں ہوتی نہ؟