اصلاح بہ اندازۂ ناپختگیِ ما؛ در ہر دو جہان نیست

محمد ریحان قریشی — مارچ 15، 2018 10:37 صبح
نہ پوچھ آج ہے کیا ملک میرے زیرِ نگیں
ہے عرش زیرِ فلک اور فلک ہے زیرِ زمیں
حقیقتوں کا فسانہ نہ پڑھ مرے آگے
حقیقتوں سے تو بڑھ کر خیال پر ہے یقیں
یہیں تمام عناصر بکھر گئے تھے مرے
ذرا سا غور کریں تو ملے گا دل بھی یہیں
جہانِ زشت کو زیبا بنا دیا تو نے
کوئی جہاں میں بھلا تجھ سے بڑھ کے ہوگا حسیں؟
ہر ایک لحظہ نئی طرز کا ہے نغمۂ کن
ہر ایک لحظہ ہے عالم کا وقتِ باز پسیں
تخیلات کی دولت ہے میرے پاس ابھی
تو خود کو کیسے کہوں میں غریب اور مسکیں؟
اٹھو، قریب ہوا عشق کی نماز کا وقت
کہیں سے کان تک آئی ہے بانگِ مرغِ حزیں
یہ اور بات کہ وہ خاک ہے ستاروں کی
مگر یہ سچ ہے کہ ریحانؔ بھی ہے خاک نشیں
اکمل زیدی — مارچ 15، 2018 11:07 صبح
واہ ۔ ۔ ۔ ہل من ناصر۔ ۔ ۔
اٹھو، قریب ہوا عشق کی نماز کا وقت
کہیں سے آئی ہیں کانوں میں میرے بانگِ حزیں
محمد ریحان قریشی — مارچ 15، 2018 5:07 شام
تکبندی سر الف عین کی نگاہِ التفات کی منتظر۔
فہد اشرف — مارچ 15، 2018 5:25 شام
بہت خوب اور مشکل غزل ہے۔ ریحان بھائی آپ کے لیے ڈھیروں داد۔
گستاخی تو ہو گی لیکن کہنا چاہوں گا کہ مقطع میں پہلے مصرعے کا مضمون دوسرے میں اور دوسرے کا پہلے میں ادا ہوا ہوتا تو کچھ اور ہی بات ہوتی
امان زرگر — مارچ 15، 2018 5:32 شام
کیا بات ہے۔۔۔ واہ!
محمد ریحان قریشی — مارچ 15، 2018 5:34 شام
بہت خوب اور مشکل غزل ہے۔ ریحان بھائی آپ کے لیے ڈھیروں داد۔
گستاخی تو ہو گی لیکن کہنا چاہوں گا کہ مقطع میں پہلے مصرعے کا مضمون دوسرے میں اور دوسرے کا پہلے میں ادا ہوا ہوتا تو کچھ اور ہی بات ہوتی
بہت شکریہ فہد بھائی پذیرائی کے لیے بے حد ممنون ہوں۔
مقطع کی بابت آپ درست فرماتے ہیں، بہتری کی کافی گنجائش موجود ہے۔
الف عین — مارچ 16، 2018 11:04 صبح
واہ واہ ریحان میاں۔ یہ نا پختگی شما ہے تو پختگی شما کیا ہو گی!!! اصلاح سخن کا زمرہ بخش دو مبتدیوں کے لیے ہی ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%A8%DB%81-%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2%DB%82-%D9%86%D8%A7%D9%BE%D8%AE%D8%AA%DA%AF%DB%8C%D9%90-%D9%85%D8%A7%D8%9B-%D8%AF%D8%B1-%DB%81%D8%B1-%D8%AF%D9%88-%D8%AC%DB%81%D8%A7%D9%86-%D9%86%DB%8C%D8%B3%D8%AA.100512/