ذیشان لاشاری — اکتوبر 1، 2018 8:45 صبح
عشق سے معمور ہو بس دل برشتہ ہی سہی
مے سے پر لبریز ہو ساغر شکستہ ہی سہی
سننے کو بے تاب ہیں ہم خامشی اب توڑ دو
کچھ تو بولو شیریں لب سے ناشائستہ ہی سہی
گر نہیں جلوہ دکھانا پردے میں آجاؤ تم
گر شگفتہ گل نہ دکھلاؤ تو غنچہ ہی سہی
مرنے کا ہم حوصلہ کر لیں تسلی گر ملے
یاں نہیں بس خلد میں ملنے کا وعدہ ہی سہی
عشق کے مذہب میں اپنا دل ہے مجنوں کا پیرو
جا نہیں محبوب کے دل میں تو صحرا ہی سہی
کیوں تکلّفِ چادرِ ابیض کہ دل ہے داغدار
میری میّت کے لئے یہ چاک کرتہ ہی سہی
بحث ہم سے نہ کرو جاؤ ہمیں منظور ہے
ہم گنہگارِ جہاں اور وہ فرشتہ ہی سہی
کارواں تک نہ بھی پہنچیں گرد تو پا لیں گے ہم
دکھ چھپانے کے لئے رخ پر یہ غازہ ہی سہی
قتل کرنا ہے تو یہ تلوار کیوں اے نازنیں
ظلم کرنا ہی ہے تو انداز شستہ ہی سہی
گر جنونِ عشق سے میرے انہیں کچھ خوف ہے
لے چلو اس در پہ ہم کو دست بستہ ہی سہی
اس جہاں میں قدر کیا آتش بیانی کی ہو شانؔ
یاں تو غالبؔ بھی تھا خستہ ہم بھی خستہ ہی سہی
الف عین — اکتوبر 1، 2018 10:45 صبح
قوافی پر غور کریں مطلع میں شتہ اور ستہ قوافی ہیں جو قوافی شاید ہو ہی نہیں سکتے
محمد ریحان قریشی
محمد ریحان قریشی — اکتوبر 1، 2018 11:51 صبح
برشتہ اور شکستہ میں حرفِ روی کا اختلاف ہے، اس لیے قوافی درست قرار نہیں دیے جا سکتے. بہتر ہو اگر مطلع میں ایسا قافیہ لائیں جس میں الف اصل روی ہو جیسے دریا، صحرا وغیرہ.
حسان خان — اکتوبر 1، 2018 12:20 شام
عشق کے مذہب میں اپنا دل ہے مجنوں کا پیرو
«پَیرَو» میں «ی» کا اِسقاط ہو رہا ہے۔ ایسا کوئی نمونہ میں نے فارسی شاعری میں نہیں دیکھا۔ کیا اردو شاعری میں ایسا جائز ہے؟ محمد ریحان قریشی
ضِمناً، فارسی میں اِس کا تلفُّظ «peyrow» (ایرانی) یا «payrav» (ماوراءالنہری) ہے۔
محمد ریحان قریشی — اکتوبر 1، 2018 3:19 شام
«پَیرَو» میں «ی» کا اِسقاط ہو رہا ہے۔ ایسا کوئی نمونہ میں نے فارسی شاعری میں نہیں دیکھا۔ کیا اردو شاعری میں ایسا جائز ہے؟ محمد ریحان قریشی
ضِمناً، فارسی میں اِس کا تلفُّظ «peyrow» (ایرانی) یا «payrav» (ماوراءالنہری) ہے۔
ی کا اسقاط صرف سنسکرت اور ہندی سے ماخوذ الفاظ میں جائز ہے وہ بھی صرف تب جب ی آخری حرف ہو. عربی اور فارسی الاصل الفاظ میں آخری 'ی' گرانا بھی غیر مستحسن ہے.
حسان خان — اکتوبر 1، 2018 3:30 شام
ی کا اسقاط صرف سنسکرت اور ہندی سے ماخوذ الفاظ میں جائز ہے وہ بھی صرف تب جب ی آخری حرف ہو.
لہٰذا کیا یہ کہنا درست ہے کہ جنابِ ذیشان نے اپنی غزل میں «پیرو» کو غلط منظوم کیا ہے؟
محمد ریحان قریشی — اکتوبر 1، 2018 3:42 شام
لہٰذا کیا یہ کہنا درست ہے کہ جنابِ ذیشان نے اپنی غزل میں «پیرو» کو غلط منظوم کیا ہے؟
جی بالکل.
غزل پر زیادہ غور نہیں کیا میں نے.
شکیب — اکتوبر 1، 2018 3:48 شام
برشتہ اور شکستہ میں حرفِ روی کا اختلاف ہے، اس لیے قوافی درست قرار نہیں دیے جا سکتے. بہتر ہو اگر مطلع میں ایسا قافیہ لائیں جس میں الف اصل روی ہو جیسے دریا، صحرا وغیرہ.
روی کا تعین کیسے کر رہے ہیں؟
محمد ریحان قریشی — اکتوبر 1، 2018 4:01 شام
روی کا تعین کیسے کر رہے ہیں؟
پتا نہیں شکیب بھائی، عین ممکن ہے کہ غلطی پر ہوں. شکستہ اور برشتہ میں "تہ" مشترک ہے اگر اسے ایسے ہی رکھنا ہے تو شکستہ کے ساتھ خستہ، بستہ وغیرہ درست قوافی ہوں گے اور برشتہ کے ساتھ نوشتہ، رشتہ وغیرہ. ایسی صورت میں حروفِ روی بالترتیب س اور ش ہوں گے.
ذیشان لاشاری — اکتوبر 2، 2018 7:09 صبح
برشتہ اور شکستہ میں حرفِ روی کا اختلاف ہے، اس لیے قوافی درست قرار نہیں دیے جا سکتے. بہتر ہو اگر مطلع میں ایسا قافیہ لائیں جس میں الف اصل روی ہو جیسے دریا، صحرا وغیرہ.
بھائی محمد ریحان قریشی صاحب! بہت شکریہ۔آپ نے جو توجہ دلائی ہے اس کے تحت تو مجھے بقیہ قوافی بھی مشکوک لگ رہے ہیں۔مہربانی فرما کر پوری غزل میں رہنمائی فرما دیں۔
محمد ریحان قریشی — اکتوبر 2، 2018 3:28 شام
بھائی محمد ریحان قریشی صاحب! بہت شکریہ۔آپ نے جو توجہ دلائی ہے اس کے تحت تو مجھے بقیہ قوافی بھی مشکوک لگ رہے ہیں۔مہربانی فرما کر پوری غزل میں رہنمائی فرما دیں۔
مطلع میں ایسا قافیہ لائیں جس میں الف اصل روی ہو جیسے دریا، صحرا وغیرہ.
اگر اس تجویز پر عمل کریں تو سب درست ہو جائیں گے.
ذیشان لاشاری — اکتوبر 3، 2018 5:11 صبح
شکریہ بھائی جان
مزید کچھ اصلاح چاہتا ہوں۔ میں نے اس غزل میں ’’ہ‘‘ یا ’’الف‘‘ کو حرفِ روی رکھا ہے۔ کیا اس حساب سے بھی مطلع میں نقص ہے؟
ذیشان لاشاری — اکتوبر 3، 2018 5:13 صبح
برشتہ اور شکستہ میں حرفِ روی کا اختلاف ہے، اس لیے قوافی درست قرار نہیں دیے جا سکتے. بہتر ہو اگر مطلع میں ایسا قافیہ لائیں جس میں الف اصل روی ہو جیسے دریا، صحرا وغیرہ.
بھائی میں نے اپنی سمجھ میں یہاں الف کو حرفِ روی رکھا ہے۔ کیا اس کی گنجائش نہیں ہے؟
الف عین — اکتوبر 4، 2018 6:02 صبح
بھائی میں نے اپنی سمجھ میں یہاں الف کو حرفِ روی رکھا ہے۔ کیا اس کی گنجائش نہیں ہے؟
تفہیم درست نہیں روی کی۔ الف نہیں یہاں ستہ یا شتہ ہے جو مطلع میں ہے
ذیشان لاشاری — اکتوبر 4، 2018 6:04 صبح
تفہیم درست نہیں روی کی۔ الف نہیں یہاں ستہ یا شتہ ہے جو مطلع میں ہے
جی سمجھ گیا۔
بہت نوازش