Iftikhar A Aqab — مارچ 21، 2017 11:40 شام
بہت باتیں کیا کرتے تھے اب بولو
جلایا ہے کہاں دل کو یہ سب بولو
کہاں جھلسے؟ کہاں پر آگ سے کھیلے؟
بھکاری تم وفا کے تھے، سبب بولو
ستاروں کے جہاں تک بات بن جاتی
ہوئے محرم سے مجرم کیوں ؟ سبب بولو
اگر دل درد سے خالی تمھارا ہے
تو پھرکیوں ہے طبیعت مضطرب بولو
کہاں سے لاؤ گے تم کوئی ہم جیسا
نگاہے ناز، اے رنگ طرب بولو
الف عین — مارچ 22، 2017 6:48 صبح
پہلے خوش آمدید۔ اپنا تعارف دیں۔
زمین ہی ایسی منتخب کی ہے کہ عیب تنافر ہوتا ہے۔ ’ب بولو‘ میں ب کی تکرار کی وجہ سے۔ ’اب بولو‘ محاورے کے عین مطابق ہے، اس لئے وہ شعر تو گوارا ہو سکتا ہے۔
کہاں جھلسے؟ کہاں پر آگ سے کھیلے؟
بھکاری تم وفا کے تھے، سبب بولو
۔۔وفا کے بھکاری کا باقی باتوں سے ربط؟
ستاروں کے جہاں تک بات بن جاتی
ہوئے محرم سے مجرم کیوں ؟ سبب بولو
÷÷یہ شعر بھی دو لخت ہے۔
اگر دل درد سے خالی تمھارا ہے
تو پھرکیوں ہے طبیعت مضطرب بولو
÷÷
تمہارا دل اگر ہے درد سے خالی
یا
اگر دل ہے تمہارا درد سے خالی
روانی میں بہتر ہوں گے۔
کہاں سے لاؤ گے تم کوئی ہم جیسا
نگاہے ناز، اے رنگ طرب بولو
÷÷نگاہِ ناز؟ یہ شعر بھی دو لخت ہے
Iftikhar A Aqab — مارچ 22، 2017 9:37 صبح
السلام و علیکم ورحمتہ اللہ و براکتہ
جناب، شاعری کے شوق میں طفیلی پودے کی طرح علم عروض سے چمٹا ہوا ہوں لیکن مکمل رہنمائی شاید اس لئے نہیں ممکن کہ مصروفیت ہی جان نہیں چھوڑ رہی۔
آپ اگر مزید رہنمائی فرماتے رہیں تو امید لگ چکی ہے کہ نکھار آ جائے گا۔
تعارف : نا چیز حصول روزگار کے سلسلے میں تارکین وطن ہے، تعلیمی اعتبار سے فنانس میں ماسٹر کر رکھا ہے لیکن سلسلہ روزگار فنانس سے الگ ہے۔ آزادکشمیر کے گاؤں نکیال کا رہنے والا ہوں لیکن فی الحال برطانیہ میں مقیم ہوں
Iftikhar A Aqab — مارچ 22، 2017 10:22 صبح
جناب صد احترام الف عین صاحب
اشعار کی ترتیب اور ربط درست کرنے کی کوشش کی ہے۔ جو درج ذیل ہے۔ مزید کے لئے رہنمائی فرما دیں۔ جزاک اللہ
بہت باتیں کیا کرتے تھے اب بولو
ہوئے محرم سے مجرم کیوں ؟ سبب بولو
کہاں جھلسے؟ کہاں پر آگ سے کھیلے؟
جلایا آشیاں کیسے ، یہ سب بولو
تمھارا دل اگر ہے درد سے خالی
تو کیوں ہے پھر طبیعت مضطرب بولو
خدا آباد ہے آدم کے سینے میں
نہ ہرگز درد دل کو بے ادب بولو
سنا دینا وفا کی داستاں افتی
اگر کوئی تمھیں پوچھے ، طلب بولو