اصلاح درکار ہے

ذیشان لاشاری — اکتوبر 9، 2018 8:30 صبح
یوں نہ جینا تھا ہمیں جیسے جیے جاتے ہیں ہم
زخم سینے تھے ہمیں اور لب سیے جاتے ہیں ہم
یہ غم و اندوہ میرے یوں تو ٹلنے سے رہے
زہر پینا تھا ہمیں اور مے پیے جاتے ہیں ہم
ان کے آنے کی خبر تھی ہم چراغاں گھر کئے
آکے کہتے ہیں بجھا کے سب دیے جاتے ہیں ہم
لوگ کہتے تھے کہ مر کے سب یہیں رہ جائے گا
حسرت و یاس و الم سب کچھ لیے جاتے ہیں ہم
اس جہانِ نو میں الفت کے طریقے اور ہیں
یاں وفا چلتی نہیں اب جو کیے جاتے ہیں ہم
ایک جھوٹی بھی تسلی تک نہ دی جس نے ہمیں
شانؔ اس بیداد گر کو جاں دیے جاتے ہیں ہم
ذیشان لاشاری — اکتوبر 14، 2018 8:30 صبح
کوئی دوست اصلاح فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔
حمیرا عدنان — اکتوبر 14، 2018 8:56 صبح
محمد تابش صدیقی
الف عین
محمد ریحان قریشی
محمد ریحان قریشی — اکتوبر 14، 2018 9:07 صبح
مجموعی طور پر غزل درست معلوم ہوتی ہے۔
ان کے آنے کی خبر تھی ہم چراغاں گھر کئے
آکے کہتے ہیں بجھا کے سب دیے جاتے ہیں ہم
بس اک یہ شعر کچھ عجزِ بیاں کا شکار ہے۔
الف عین — اکتوبر 15، 2018 8:45 صبح
مجھے بھی یہی شعر روانی کا خواست گار لگا
اگر یوں کر دو تو شاید مدعا واضح ہو جائے
ان کے آنے کا سنا، ہم نے چراغاں کر دیا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%AF%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%DB%81%DB%92.103601/