اصلاح درکار ہے

محمد بلال اعظم — مئی 28، 2012 1:52 شام
بحر خفیف میں ایک بےتکی کوشش ، اصلاح فرمائیے۔​
کیا تقطیع درست ہے:​
فا—عَ—لا—تُن—مُ -- فا—عِ—لُن—فَع – لَن
چا۔۔ہت۔۔کا۔۔سد۔۔ا۔۔پر۔۔چَ۔۔رکَ۔۔رتِ۔۔رو​
دی۔۔وَ۔۔نو۔۔دل۔۔بِ۔۔قر۔۔ا۔۔رکِ۔۔رتِ۔۔رو​
اد۔۔ا۔۔سی۔۔کا۔۔یِ۔۔دو۔۔ر۔۔کم۔۔کم۔۔ہِ​
خو۔۔ا۔۔بو۔۔کا۔۔ا۔۔عت۔۔بَ۔۔رکِ۔۔رتِ۔۔رو​
اشعار یہ ہیں:​
چاہت کا پرچار کرتے رہو​
دیوانو! دل بے قرار کرتے رہو​
اداسی کا یہ دور کم کم ہے​
خوابوں کا اعتبار کرتے رہو​
الف عین — مئی 28، 2012 7:34 شام
نہیں بھئی، ےقطیع درست نہیں کر رہے ہو۔ سبب اور وتد کی غلطی ہے۔
چاہت۔ فعلن ہے، فاعلاتن کا فاع سہ حرفی ہے 2، 1۔ جیسے درد، اس طرح محض چاہ درست تقطیع ہے۔ محض ’کرتے رہو‘ درست ’لُن فعلن‘ ہے لیکن اس طرح نہیں جس طرح تم نے کی ہے۔ کر۔ لُن، تِ رَ ہو۔ فعلن۔ پہلا مصرع اس طرح اس بحر میں کیا جا سکتا ہے۔
چاہتوں کا پرچار کرتے رہو۔ یہاں ’پرچار‘ کا تلفظ ہندی سنسکرت کے حساب سے ہے، یعنی ’پر‘ یک حرفی۔ یعنی اس کی تقطیع میں محض ’پچار‘ آئے گا۔
چا۔ فا
ہتو۔ علا
کا۔ تن
پچار۔ مفاع۔
کر۔لن
تِ رہو۔ فعلن
محمد بلال اعظم — مئی 29، 2012 6:22 صبح
نہیں بھئی، ےقطیع درست نہیں کر رہے ہو۔ سبب اور وتد کی غلطی ہے۔
چاہت۔ فعلن ہے، فاعلاتن کا فاع سہ حرفی ہے 2، 1۔ جیسے درد، اس طرح محض چاہ درست تقطیع ہے۔ محض ’کرتے رہو‘ درست ’لُن فعلن‘ ہے لیکن اس طرح نہیں جس طرح تم نے کی ہے۔ کر۔ لُن، تِ رَ ہو۔ فعلن۔ پہلا مصرع اس طرح اس بحر میں کیا جا سکتا ہے۔
چاہتوں کا پرچار کرتے رہو۔ یہاں ’پرچار‘ کا تلفظ ہندی سنسکرت کے حساب سے ہے، یعنی ’پر‘ یک حرفی۔ یعنی اس کی تقطیع میں محض ’پچار‘ آئے گا۔
چا۔ فا
ہتو۔ علا
کا۔ تن
پچار۔ مفاع۔
کر۔لن
تِ رہو۔ فعلن

اب بات سمجھ میں آتی جا رہی ہے۔
اور باقی اشعار کا کیا معاملہ ہے۔
محمد اظہر نذیر — مئی 29، 2012 10:36 صبح
آنکھ ساجن سے چار کرتے رہو
دل ہی ہے، بے قرار کرتے رہو
ایسا بھی کیا ، اُداس رہتے ہو
خواب پر اعتبار کرتے رہو
آ-ک-سا-جن۔۔۔۔۔۔ س-چا-ر-کر۔۔۔۔۔۔۔۔ت-ر-ہو
دل-ہ-ہے-بے۔۔۔۔۔۔ ق-را-ر-کر۔۔۔۔۔۔۔ت -ر-ہو
ای-س-بی-کا۔۔۔۔۔۔۔۔اُ-دا-س-رہ۔۔۔۔۔۔۔۔ت-ہو
خا-ب-پر-اع۔۔۔۔۔۔۔ت-با-ر-کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ت-ر-ہو
الف عین — مئی 29، 2012 7:33 شام
اظہر کے اشعار درست بحر میں ہیں، بلال کے باقی اشعار بھی کسی بحر میں نہیں۔
محمد بلال اعظم — مئی 30، 2012 9:59 صبح
آنکھ ساجن سے چار کرتے رہو
دل ہی ہے، بے قرار کرتے رہو
ایسا بھی کیا ، اُداس رہتے ہو
خواب پر اعتبار کرتے رہو
آ-ک-سا-جن۔۔۔ ۔۔۔ س-چا-ر-کر۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ت-ر-ہو
دل-ہ-ہے-بے۔۔۔ ۔۔۔ ق-را-ر-کر۔۔۔ ۔۔۔ ۔ت -ر-ہو
ای-س-بی-کا۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔اُ-دا-س-رہ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ت-ہو
خا-ب-پر-اع۔۔۔ ۔۔۔ ۔ت-با-ر-کر۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ت-ر-ہو

اظہر بھائی بہت خوب، اب میں اپنے الفاظ کی غلطیوں کو ان سے دیکھتا ہوں۔
محمد بلال اعظم — مئی 30، 2012 12:04 شام
لگے ہاتھوں ایک چیز اور پوچھ لوں۔
یہ مصرع ہے ایک
زندگی گزر جانے لگی ہے
کیا اس کی یہ بحر درست ہے:
فاعلن۔۔۔فاعلن۔۔۔فاعلن۔۔۔فع
محمد اظہر نذیر — مئی 30، 2012 12:23 شام
غلط ہے
محمد بلال اعظم — مئی 30، 2012 12:47 شام

مجھے بھی یہی امید تھی۔
مجھے کچھ سمجھائیں کہ میں کہاں سے شروع کروں۔ سرور صاحب کے اسباق جو اردو انجمن پہ موجود ہیں، ان سے مدد مل سکتی ہے کیا؟
الف عین — مئی 30، 2012 4:35 شام
لگے ہاتھوں ایک چیز اور پوچھ لوں۔
یہ مصرع ہے ایک
زندگی گزر جانے لگی ہے
کیا اس کی یہ بحر درست ہے:
فاعلن۔۔۔ فاعلن۔۔۔ فاعلن۔۔۔ فع
اس وزن پر یہ مصرع بلکہ خیال یوں ہو گا۔
زندگی بیت جانے لگی
زندگی۔ فاعلن
بیت جا۔ فاعلن
نے لگی۔ فاعلن
محمد بلال اعظم — مئی 30، 2012 4:36 شام
اس وزن پر یہ مصرع بلکہ خیال یوں ہو گا۔
زندگی بیت جانے لگی
زندگی۔ فاعلن
بیت جا۔ فاعلن
نے لگی۔ فاعلن

ایک چیز سمجھ نہیں آئی،
بیت اور گزر دونوں ہی تین حرفی ہیں، پھر فرق کی سمجھ نہیں آئی۔
الف عین — مئی 30، 2012 4:53 شام
محض حروف کی تعداد سے ہی ارکان نہیں چنے جاتے۔ ان کی آواز اور تلفظ بھی۔ بیت پر غور کرو، یہ 2،1 ہے ، پہلے بی۔ یعنی دو حروف، اور پھر ت۔ ایک حرفی۔ گزر میں گُ پہلے ہے ایک حرفی، اس کے بعد زر۔ دو حرفی دو آوازوں والا۔ یہ سلیبل والا حساب بھی کرنا پڑے گا۔’گزر جا‘ فعولن ہوتا ہے، ایک1 ، دو 2اور دو2 ۔فاعلن کے وزن پر ’بیت جا‘۔ فعولن۔ دو2 ایک 1دو 2 ہے،
محمد بلال اعظم — مئی 30، 2012 5:01 شام
بہتر جناب، سلیبل پہ بھی توجہ دینی ہو گی۔
کافی مشکل کام ہے۔
الف عین — جون 1، 2012 6:32 شام
اس لئے ضروری ہے کہ خوب کلام پڑھا جائے مستند شعرا کا۔ تاکہ طبیعت میں ہی موزونیت پیدا ہو جائے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%AF%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%DB%81%DB%92.51708/