اصلاح درکار ہے

Shahzad hussain — ستمبر 21، 2015 10:45 شام
ستاد گرامی غزل کو چیک کیجیے اور جہاں اصلاح کی ضرورت مہربانی فرما کے کر دیجیئےدیجیئے
زلف محبوب کا کیا خوب نظارہ ہو گا
ڈوبتے وقت ہمیں کچھ تو سہارا ہو گا
وہ تجھے بھول گیا بھولنے دے غم نہ کر
تیری قسمت میں کوئی اور ستارہ ہو گا
رات کی نیند گئی دن کا سکوں کھو بیٹھے
بیٹھے ہیں تاک میں کب ہم کو اشارہ ہو گا
دِل کا سودا ہے منافع نہیں تکتے اِس میں
گھاٹے میں ہم رہیں کب ان کو گوارا ہو گا
سائل اب لوٹ چلو بیٹھنے سے کیا حاصل
شام ڈھلنے سے ذرا پہلے پکارا ھو گا
کاظمی بابا — ستمبر 22، 2015 2:55 صبح
بہت خوب
وہ تجھے بھول گیا بھولنے دے غم نہ کر
تیری قسمت میں کوئی اور ستارہ ہو گا
Shahzad hussain — ستمبر 22، 2015 4:58 صبح
شکریہ کاظمی صاحب
x boy — ستمبر 22، 2015 8:02 صبح
خوب
زلف محبوب کا کیا خوب نظارہ ہو گا
ڈوبتے وقت ہمیں کچھ تو سہارا ہو گا
دور سے بہت اچھے لگتے ہیں جب رات پنکھے کی ہوا ان زلفوں کو منہ اڑا پھرتے ہیں تو پتا چلتا زلف اچھی ہوتی ہے یا نیند حرام ہونا۔
images
Shahzad hussain — ستمبر 22، 2015 8:51 صبح
نوازش ھے جناب
خالد محمود چوہدری — ستمبر 22، 2015 9:15 صبح
شام ڈھلنے سے ذرا پہلے پکارا ھو گا

نہیں بھئی شام ڈھلنے سے پہلے نہیں پکارا تھا، کسی اور وقت پکارا ہوگا:)
Shahzad hussain — ستمبر 22، 2015 11:50 صبح
چوھدری صاحب یھاں بھتر کیا ھو گا
Shahzad hussain — ستمبر 22، 2015 2:00 شام
کوی صا حب نظر دیکھ کے بتا دے
الف عین — ستمبر 23، 2015 5:27 شام
اچھی غزل ہے، اصلاح کی بہت زیادہ ضورورت تو نہیں۔ لیکن دو باتیں پھر بھی
ای ۔۔ سہارا ہونا محاورہ نہیں سنا۔ سہارا ملے گا بولا جاتا ہے میرے خیال میں۔
اور یہ
دِل کا سودا ہے منافع نہیں تکتے اِس میں
گھاٹے میں ہم رہیں کب ان کو گوارا ہو گا
منافع ’تکنا‘ چہ معنی دارد؟ گھاٹے میں ۔۔ کی ’ے‘ کا اسقاط بھی گوارا نہیں
Shahzad hussain — ستمبر 25، 2015 3:06 شام
شکریہ الف عین صاحب
عمر سیف — ستمبر 25، 2015 4:20 شام
خوب
محمد فہد — ستمبر 25، 2015 4:50 شام
بہت خوب
ابن رضا — ستمبر 25، 2015 5:33 شام
بہت خوب ۔ بیتِ ثانی کے مصرع اولٰی میں "نہ" کو ہجائے بلند باندھا گیا ہے جب کہ یہ کوتاہ باندھا جاتا ہے
اس طرف شاید سر الف عین کا دھیان نہیں گیا
ابن سعید — ستمبر 25، 2015 5:54 شام
ای ۔۔ سہارا ہونا محاورہ نہیں سنا۔ سہارا ملے گا بولا جاتا ہے میرے خیال میں۔
چاچو، سہارا ملنا یقیناً محاورہ ہے لیکن ہم نے "سہارا ہونا" بھی مستعمل پایا ہے۔ اب یہ کتنا فصیح ہے اس پر کوئی رائے دینے سے قاصر ہیں۔ مثلاً عام بول چال میں کہا جاتا ہے کہ "اے رب اب تیرا ہی سہارا ہے"۔ اسی طرح ایک غزل میں بھی کچھ یوں سنا ہے:
ہر چند سہارا ہے ، تیرے پیار کا دل کو
رہتا ہے مگر ، ایک عجب خوف سا دل کو
ویسے آپس کی بات ہے کہ ہم نے بھی اپنی ایک تک بندی میں اسے کچھ یوں استعمال کیا ہے:
رہگزر زیست کی لمبی سہی دشوار سہی
سہل ہو جاتی اگر تیرا سہارا ہوتا
:) :) :)
Shahzad hussain — ستمبر 25، 2015 7:04 شام
شکریہ سب صاحبوں جنہوں اس بندہ نا چیز کے کلام کو اس قابل سمجھا کے اس پہ بات کی جا سکے
الف عین — ستمبر 26، 2015 7:20 صبح
سعود میاں کی بات سے متفق ہوں، ’کا سہارا ہے‘ تو درست ہے لیکن میرا اعتراض
ڈوبتے وقت ہمیں کچھ تو سہارا ہو گا
یعنی ’کو سہارا‘ پر اعتراض تھا،
ہاں ’نہ‘ بطور ’نا‘ استعمال پر اعتراض اکثر میں چھوڑ دیا کرتا ہوں، اگرچہ یہ مجھے پسند نہیں!!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%AF%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%DB%81%DB%92.84769/