اصلاح درکار ہے برائے غزل

ذیشان لاشاری — اکتوبر 16، 2018 5:43 صبح
کچھ خطا ہم سے ہو گئی ہوگی
خوامخواہ تو نہ وہ گئی ہوگی
اس سے الفت کی بات کی تونے
وہ تو یکدم سے کھو گئی ہو گی
محفلِ شعر و شاعری ہے وہاں
لے کے امید تو گئی ہوگی
ہم ملے تھے جہاں پہ پہلی بار
اس جگہ آ کے رو گئی ہوگی
ہوگی محفل میں کھوئی کھوئی سی
سب کے کہنے پہ گو گئی ہوگی
ہاتھ کی نرم سی ہتھیلی پر
گال رکھ کر وہ سو گئی ہوگی
شانؔ جو بات تو نے خط میں کہی
اس کی آنکھیں بھگو گئی ہوگی
الف عین — اکتوبر 16، 2018 10:52 صبح
وہ قافیہ درست نہیں، واؤ پر ختم ہونا ضروری ہے
ایک اور شعر میں'گو' قافیہ گئی کے ساتھ صوتی طور پر ناخوشگوار لگتا ہے
باقی اشعار درست ہیں
ذیشان لاشاری — اکتوبر 17، 2018 4:59 صبح
وہ قافیہ درست نہیں، واؤ پر ختم ہونا ضروری ہے
ایک اور شعر میں'گو' قافیہ گئی کے ساتھ صوتی طور پر ناخوشگوار لگتا ہے
باقی اشعار درست ہیں

بہت بہتر استاد جی
’وہ‘ کو یوں ’وو‘ بھی لکھ سکتے ہیں؟
اور غالبؔ کے اس شعر میں کیا ’وو‘ کا مطلب ’وہ‘ ہے؟
کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئے
یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی "کہ وو آئے"
الف عین — اکتوبر 18، 2018 8:19 صبح
بہت بہتر استاد جی
’وہ‘ کو یوں ’وو‘ بھی لکھ سکتے ہیں؟
اور غالبؔ کے اس شعر میں کیا ’وو‘ کا مطلب ’وہ‘ ہے؟
کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئے
یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی "کہ وو آئے"
تو اسی طرح لکھنا تھا اگرچہ اب چچا کا زمانہ نہیں ہے اور نہ چچا کے معیار کے لوگ ہیں جو زبان کے ساتھ کھیلیں تب بھی سند بن سکے
ذیشان لاشاری — اکتوبر 18، 2018 11:52 صبح
تو اسی طرح لکھنا تھا اگرچہ اب چچا کا زمانہ نہیں ہے اور نہ چچا کے معیار کے لوگ ہیں جو زبان کے ساتھ کھیلیں تب بھی سند بن سکے
ہہہہ
بہت بہتر
جناب چچا جی تو دلوں میں بستے ہیں ہمارے۔
عابد علی خاکسار — اکتوبر 18، 2018 12:59 شام
وہ قافیہ درست نہیں، واؤ پر ختم ہونا ضروری ہے
ایک اور شعر میں'گو' قافیہ گئی کے ساتھ صوتی طور پر ناخوشگوار لگتا ہے
باقی اشعار درست ہیں
سر اپنی رہنمائی کے لیے عرض ہے کہ تو (آپ) قافیہ کیا درست ہے سو رو وغیرہ کے ساتھ
یاسر شاہ — اکتوبر 19، 2018 5:17 صبح
کچھ خطا ہم سے ہو گئی ہوگی
خوامخواہ تو نہ وہ گئی ہوگی
خوامخواہ کا یہ تلفّظ بھلا نہیں -"بے سبب تو نہ وہ گئی ہوگی" بھی کیا جا سکتا ہے
ہم ملے تھے جہاں پہ پہلی بار
اس جگہ آ کے رو گئی ہوگی
"ملے تھے جہاں" کافی ہے- ''ملے تھے جہاں پہ " ٹھیک نہیں لگا کم از کم مجھے -یوں کہہ سکتے ہیں : "جس جگہ ہم ملے تھے پہلی بار "
ہوگی محفل میں کھوئی کھوئی سی
سب کے کہنے پہ گو گئی ہوگی
وہی محترمی الف عین صاحب کی بات -"گوگئی " اچھا نہیں -
ہاتھ کی نرم سی ہتھیلی پر
گال رکھ کر وہ سو گئی ہوگی
کیا پاؤں کی ہتھیلی بھی ہوتی ہے ؟-یہ ہاتھ کی ہتھیلی تو "پھولوں کا گلدستہ" +"شب قدر کی رات" کی قبیل سے لگا -ہاتھ کی>>جانے کب
شانؔ جو بات تو نے خط میں کہی
اس کی آنکھیں بھگو گئی ہوگی
"خط میں لکھی" کا مقام ہے -
الف عین — اکتوبر 19، 2018 11:03 صبح
تو الٹے پیش کے ساتھ ہے، اس کا قافیہ کو بکو. گفتگو، گلو وغیرہ ہوں گے رو، دھو کے ساتھ درست نہیں۔
یاسر کی باتیں صائب ہیں، ان سے روانی میں اضافہ ہوتا ہے. 'پہ پہلی' میں پ کی تکرار بھی اچھی نہیں لگتی وہاں بھی یاسر کی اصلاح پسند آئی
ذیشان لاشاری — اکتوبر 20، 2018 4:51 صبح
تو الٹے پیش کے ساتھ ہے، اس کا قافیہ کو بکو. گفتگو، گلو وغیرہ ہوں گے رو، دھو کے ساتھ درست نہیں۔
یاسر کی باتیں صائب ہیں، ان سے روانی میں اضافہ ہوتا ہے. 'پہ پہلی' میں پ کی تکرار بھی اچھی نہیں لگتی وہاں بھی یاسر کی اصلاح پسند آئی
استادِ محترم ’’تو‘‘ یہاں پہ مخاطب والا نہیں ہے۔
’’تو‘‘ وہی ’’جو‘‘ والا ہی ہے۔
الف عین — اکتوبر 20، 2018 9:30 صبح
سر اپنی رہنمائی کے لیے عرض ہے کہ تو (آپ) قافیہ کیا درست ہے سو رو وغیرہ کے ساتھ
تمہارے الفاظ سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ تو تخاطبی ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%AF%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%DB%81%DB%92-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%BA%D8%B2%D9%84.103720/