اصلاح سخن: عید کی ہرخوشی ہو مبارک تجھے

فاخر — جون 4، 2019 11:23 شام
عید کی ہرخوشی ہو مبارک تجھے
حضرت الف عین مدظلہ العالی سے نظر کرم کی خصوصی درخواست کے ساتھ:
فاخر ؔ
اس غزل میں ’نگار ِ پری پیکر سے عید کی مبارک بادی‘کے ضمن میں ’’خطاب‘ہے۔
جشن کی یہ گھڑی، ہو مبارک تجھے
عید کی ہر خوشی ، ہو مبارک تجھے
اے مرے دلربا ، ساقیا ، دل نشیں!
زیست کی خسروی ، ہو مبارک تجھے
فسق سے پاک ہے ، میری یہ عاشقی
دل کی پاکیزگی ، ہو مبارک تجھے
ہر تعیش ترے، دم بدم ہوں نگیں
ایسی ہی سروری ، ہو مبارک تجھے
نذر کیا میں کروں ؟ اک دعا کے سوا
رخ کی تابندگی، ہو مبارک تجھے
ہجر کے اشک ہیں میری تر دامنی
تحفۂ عاشقی ، ہو مبارک تجھے
یہ مخطط جبیں، ہے یہ ایماں مرا
رب کی کاری گری ، ہو مبارک تجھے
سید عاطف علی — جون 4، 2019 11:49 شام
نذر کیا کروں ؟ اک دعا کے سوا
یہ مصرع وزن میں نہیں شاید کتابت میں 'میں' چھوٹ گیا۔
باقی سب ٹھیک ہیں۔
آخری شعر میں دولختی تو نہیں البتہ ربط کمزور ضرور ہے۔
فاخر — جون 5، 2019 1:06 صبح
یہ مصرع وزن میں نہیں شاید کتابت میں 'میں' چھوٹ گیا۔
باقی سب ٹھیک ہیں۔
آخری شعر میں دولختی تو نہیں البتہ ربط کمزور ضرور ہے۔
ٹائپنگ میں ’’میں‘‘ چھوٹ گیا تھا،اب اس کی تدوین کردی ہے نیز مقطع کے مصرعہ اولیٰ میں بھی تبدیلی کی ہے۔
ارشد چوہدری — جون 5، 2019 1:47 صبح
بہت خوبصورت
الف عین — جون 5، 2019 6:03 صبح
مقطع میری سمجھ میں نہیں آیا. مخطط کن معنوں میں؟
سید عاطف علی — جون 5، 2019 10:38 صبح
مقطع میری سمجھ میں نہیں آیا. مخطط کن معنوں میں؟
سجدے کا داغ مراد ہے ۔ لکیر کی شکل میں بھی ہوتا ہے۔ غالبا یہی مراد ہے ذرا لفظی تکلف کے ساتھ۔
فاتح — جون 5، 2019 11:32 صبح
مخطط تو چہرہ یا رخسار ہوتا ہے، جبیں پر خط نہیں اگتا۔
بقول میر
تیرا رخِ مخطط قرآن ہے ہمارا
بوسہ بھی لیں تو کیا ہے ایمان ہے ہمارا
سید عاطف علی — جون 5، 2019 2:54 شام
مخطط تو چہرہ یا رخسار ہوتا ہے، جبیں پر خط نہیں اگتا۔
بقول میر
تیرا رخِ مخطط قرآن ہے ہمارا
بوسہ بھی لیں تو کیا ہے ایمان ہے ہمارا
ارے زبردست۔
شاعر صاحب کے بطن میں دیکھیں کیا معنی ہے ۔ افتخاررحمانی فاخر صاحب۔
فاتح — جون 5، 2019 4:35 شام
ارے زبردست۔
شاعر صاحب کے بطن میں دیکھیں کیا معنی ہے ۔ افتخاررحمانی فاخر صاحب۔
ہو سکتا ہے ان کےپری پیکر کو ہارمونل پرابلمز ہوں۔
ویسے تو آپ نے انہیں معنی عطا کر دیے ہیں:
سجدے کا داغ مراد ہے ۔ لکیر کی شکل میں بھی ہوتا ہے۔ غالبا یہی مراد ہے ذرا لفظی تکلف کے ساتھ۔
لیکن جو عمر افتخار صاحب کی تصویر میں لگ رہی ہے تقریباً اسی عمر کا ان کا پری پیکر بھی ہو گا اور اس عمر میں ماتھے پر سجدے کا داغ پڑنا طبی طور پر ممکن نہیں۔
سید عاطف علی — جون 5، 2019 5:44 شام
ہو سکتا ہے ان کےپری پیکر کو ہارمونل پرابلمز ہوں۔
ویسے تو آپ نے انہیں معنی عطا کر دیے ہیں:
لیکن جو عمر افتخار صاحب کی تصویر میں لگ رہی ہے تقریباً اسی عمر کا ان کا پری پیکر بھی ہو گا اور اس عمر میں ماتھے پر سجدے کا داغ پڑنا طبی طور پر ممکن نہیں۔
دنیا پہاڑ کھود کے چوہا برآمد کرتی ہے آپ چوہے میں پہاڑ نکال لائے۔ :D
ویسے نمائندہ تصویر پر سمند ادراک کو اتنا قوی مہمیز دینا گمراہ کن ہو سکتا ہے۔ :LOL:
عرفان سعید — جون 5، 2019 6:43 شام
لگتا ہے کہ مصلحین کو محفل پر عید کی بھی چھٹی نہیں!
:)
فاتح — جون 5، 2019 9:46 شام
لگتا ہے کہ مصلحین کو محفل پر عید کی بھی چھٹی نہیں!
:)
ارے یہ آڑ میں اصلاح کی بس
یونہی چھٹی گزاری جا رہی ہے
فاتح — جون 5، 2019 10:01 شام
ویسے نمائندہ تصویر پر سمند ادراک کو اتنا قوی مہمیز دینا گمراہ کن ہو سکتا ہے۔ :LOL:
افتخار صاحب شاید ادراک اور سمند دونوں سے متفق نہ ہوں اور اسے حمارِ جنون پر محمول کریں۔ :rollingonthefloor:
فاخر — جون 6، 2019 5:59 صبح
افتخار صاحب کی تصویر میں لگ رہی ہے تقریباً اسی عمر کا ان کا پری پیکر بھی ہو گا
تمام اہل ایمان کو اولاً: ’’عید مبارک تقبل اللہ منا و منکم الاعمال الصالحۃ‘‘
عید کی چھٹی اور احباب سے ملاقات کی وجہ سے اتنی فرصت نہیں ملی کہ کل ان تمام تبصرہ جات کے جوابات ر قم کرتا ،خیر ! دیر آید درست آید ۔
شاید آپ کو یاد ہو یا نہ ہو ؛لیکن اس سے قبل کئی بار عرض کرچکا ہوں کہ :’ نمائندہ تصویر میرے عزیز از جان بھتیجے احمدنیازی سلمہ اللہ کی ہے‘‘۔ میں نے اپنی تصویر بھی اس سے قبل پوسٹ کی تھی ؛لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ میری پہچان میرے اس بھتیجے سے ہی وابستہ ہے۔
پری پیکر تو محض ایک خیالی شی ہے ،جو شاعرانہ وجدان کے تحت متموج ہوا کرتا ہے ،جس کی کوئی ’’صداقت‘‘ نہیں ہے۔
فاخر — جون 6، 2019 6:03 صبح
خطط تو چہرہ یا رخسار ہوتا ہے، جبیں پر خط نہیں اگتا۔
بقول میر
تیرا رخِ مخطط قرآن ہے ہمارا
بوسہ بھی لیں تو کیا ہے ایمان ہے ہمارا
آپ نے نبض پکڑلی ،جب میں چاند رات یہ غزل لکھ رہا تھا تو میرے ذہن میں میرؔ تقی میرؔ کا یہی شعر گردش کرر ہا تھا اور یہ سچ ہے کہ ’’ یہ مخطط جبیں ہے یہ ایماں مرا‘‘ میرؔ کے اس شعر سے متأثر ہے۔ تاہم اب اس شعر کو بدل کر یوں کردیا ہے:’’خالِ مشکیں ترا، ہے یہ ایماں مرا ---رب کی کاری گری، ہو مبارک تجھے ‘‘
فاخر — جون 6، 2019 6:09 صبح
مقطع میری سمجھ میں نہیں آیا. مخطط کن معنوں میں؟
پہلے عید کی مبارک بادی قبول فرمائیں! تقبل اللہ منا و منکم الاعمال الصالحۃ‘‘
درست فرمایا اب شعر کو بدل دیا ہے ۔اب یہ شعر ’’خالِ مشکیں ترا ،یہ ہے ایماں مرا---رب کی کاری گری ،ہو مبارک تجھے‘‘
فاخر — جون 6، 2019 6:20 صبح
یہ مخطط جبیں، ہے یہ ایماں مرا
رب کی کاری گری ، ہو مبارک تجھے
مقطع میں تبدیلی کی گئی ہےاب اس کو یوں پڑھیں:
خالِ مشکیں ترا ہے یہ ایماں مرا
رب کی کاری گری ،ہو مبارک تجھے
فاتح — جون 6، 2019 12:15 شام
شاید آپ کو یاد ہو یا نہ ہو ؛لیکن میں اس سے کئی بار قبل بھی عرض کرچکا ہوں کہ :’ نمائندہ تصویر میرے عزیز از جان بھتیجے احمدنیازی سلمہ اللہ کی ہے۔ میں نے اپنی تصویر بھی اس سے قبل پوسٹ کی تھی ؛لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ میری پہچان میرے اس بھتیجے سے ہی وابستہ ہے۔
نمائندہ تصویر دیکھ کر بچہ جان کے غلط فہمی کے باعث تخاطب میں کوئی گستاخی نہ سرزد ہو۔ اس لیے بہتر ہو گا کہ اپنی عمر ضرور بتا دیں :)
میں نے یہ تمام مراسلے واقعی آپ کو بچہ سمجھ کر ہی کیے۔
فاخر — جون 6، 2019 12:21 شام
نمائندہ تصویر دیکھ کر بچہ جان کے غلط فہمی کے باعث تخاطب میں کوئی گستاخی نہ سرزد ہو۔ اس لیے بہتر ہو گا کہ اپنی عمر ضرور بتا دیں :)
میں نے یہ تمام مراسلے واقعی آپ کو بچہ سمجھ کر ہی کیے۔

میری عمر تقریباً 27-28سال ہوگی۔لیکن پھر بھی آنجناب مصلحین کےسامنے بچہ ہی ہوں اور بڑوں کےسامنے ہمیشہ بچہ ہی رہوں گا۔
الف عین — جون 7، 2019 9:28 صبح
خالِ مشکیں بھی عجیب ترکیب ہے، واقعی خال ہے یا خوشبو والی بریانی کا تھال ہے! اس پر ایمان! بس اس خال سے ہی رب کی کاریگری کا ثبوت ملتا ہے اور اسی کے باعث وہ دلربا اور دلنشیں ہے؟
.. مقطع تو ہے ہی نہیں اس غزل میں، اس آخری شعر کو مقطع کہنا غلط ہے، مقطع میں تخلص ضروری ہے
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%B3%D8%AE%D9%86-%D8%B9%DB%8C%D8%AF-%DA%A9%DB%8C-%DB%81%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%B4%DB%8C-%DB%81%D9%88-%D9%85%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DA%A9-%D8%AA%D8%AC%DA%BE%DB%92.107105/