اصلاح سخن : یہ عشوہ گری ، یہ ہے تیرا تصدق

فاخر — جنوری 28، 2019 11:40 صبح
استادنا مخدومنا حضرت قبلہ الف عین صاحب مدظلہ سے نظر عنایت کی گزارش :
غزل

افتخار رحمانی فاخرؔ
یہ عشوہ گری، یہ ہے تیرا تصدق
ہے میری خوشی،یہ ہے تیراتصدق
خدا نے ہمیں جو سلیقہ دیا ہے
نوازش بھی کی ، یہ ہے تیرا تصدق
ثناخواں تھی کل شب ، مئے ارغواں بھی
یہ شیشہ گری ، یہ ہے تیرا تصدق
کروں رشک میں اس تہی دامنی پر
تہی دامنی ،یہ ہے تیرا تصدق
نہ پوچھو کبھی مجھ سے غم ہائے سودا
نمی آنکھ کی، یہ ہے تیرا تصدق !
تری نذر ہے میرا ہر حرف ہمدم
مری شاعری، یہ ہے تیرا تصدق
تخیل ،تغزل ، تکلم ، ترنم
یہ افسوں گری ، یہ ہے تیرا تصدق
یہ بلبل کی کو کو ، فضاؤں کی خوشبو
یہ نغمہ گری ، یہ ہے تیرا تصدق
فلسفی — جنوری 28، 2019 11:48 صبح
تخیل ،تغزل ، تکلم ، ترنم
یہ افسوں گری ، یہ ہے تیرا تصدق
واہ، داد قبول کیجیے۔ خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمہ اللہ کا شعر یاد آ گیا
خوشامد، درآمد، تضرّع، تملّق
سبھی کچھ کیا دل سے مجبور ہو کر
محمد عدنان اکبری نقیبی — جنوری 28، 2019 11:50 صبح
کروں رشک میں اس تہی دامنی پر
تہی دامنی ،یہ ہے تیرا تصدق
واہ بہت اعلی ۔
عمدہ غزل پیش کی افتخار بھائی۔
محمد خالد خان — جنوری 28، 2019 12:07 شام
کیا کہنے بہت خوب
فاخر — جنوری 28، 2019 3:38 شام
واہ، داد قبول کیجیے۔ خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمہ اللہ کا شعر یاد آ گیا
خوشامد، درآمد، تضرّع، تملّق
سبھی کچھ کیا دل سے مجبور ہو کر
شکریہ !!!!!!!!!!!! شاید خواجہ مجذوب الحسن رحمۃ اللہ علیہ کے اسی ردیف ’’مجبور ہوکر‘‘ میں شہنشاہ تغزل حضرت جگر مرادآبای علیہ الرحمہ والغفران کی بھی ایک غزل ہے ،اس کا ایک مصرعہ مجھے یاد آرہا ہے : ’’ یہاں تک تو پہنچے وہ مجبور ہوکر‘‘ ۔
فاخر — جنوری 28، 2019 3:40 شام
آپ تمام حضرات کا تہہ دل سے شکریہ !!
مجھے اسی وقت یقین آئے گا جب حضرت قبلہ الف عین صاحب ’ہاں‘ کہہ دیں :D
فاخر — جنوری 28، 2019 3:41 شام
واہ بہت اعلی ۔
عمدہ غزل پیش کی افتخار بھائی۔
جزاک اللہ !!!! بہت بہت تہہ دل سے شکریہ !!!
فاخر رضا — جنوری 28، 2019 6:55 شام
بہت اچھا لکھا
مجھے نثر لکھنا بھی تو نے سکھایا
مری شاعری یہ ہے تیرا تصدق
الف عین — جنوری 29، 2019 4:44 صبح
آپ تمام حضرات کا تہہ دل سے شکریہ !!
مجھے اسی وقت یقین آئے گا جب حضرت قبلہ الف عین صاحب ’ہاں‘ کہہ دیں :D
کیا نکاح کا ایجاب و قبول ہے؟ اگر میں 'نہیں' کہہ دوں تو؟ مذاق برطرف، واقعی ردیف مجھے بہت پسند نہیں آئی
سب ترا ہی کرم ہے
قسم کی کچھ بہتر ہوتی
غزل واقعی اچھی ہے اور کوئی کمی محسوس نہیں ہوتی سوائے مطلع کے۔ عشوہ گری کس کی؟
فاخر — جنوری 29، 2019 8:30 صبح
کیا نکاح کا ایجاب و قبول ہے؟ اگر میں 'نہیں' کہہ دوں تو؟ مذاق برطرف،
:LOL::LOL::LOL::LOL::LOL::LOL::LOL::LOL::ROFLMAO::ROFLMAO::ROFLMAO::ROFLMAO::ROFLMAO::ROFLMAO::ROFLMAO::ROFLMAO:
ھا ھأ ھا ھھھا ھا ھا گرچہ رشتہ ’’ایجاب و قبول‘‘ کا نہیں؛لیکن جس رشتہ کے لیے آپ کو دل نے قبول کیا ہے وہ دنیا کے تمام رشتوں سے بڑھ کر ہے :in-love::in-love::in-love:۔ اللہ تعالیٰ آپ کا سایہ ھما ہم طفلانِ مکتب پر دیر تک رکھے آمین ثم آمین ۔
فاخر — جنوری 29، 2019 8:32 صبح
اور کوئی کمی محسوس نہیں ہوتی سوائے مطلع کے
جی جی درست فرمایا ۔ :khoobsurat: بہت کچھ آپ لوگوں کی معیت با برکت میں سیکھنے کو ملا ان شاء اللہ یہ خامی بھی دور ہوجائے گی ۔
فاخر — جنوری 29، 2019 5:37 شام
مطلع میں ترمیم اور مقطع کے ساتھ ایک بار پھر حضرت قبلہ الف عین صاحب زید مجدہ کو زحمت ! امید کہ نظر عنایت فرمائیں گے ۔
غزل
افتخارر حمانی،فاخرؔ

تری کج روی،یہ ہے تیرا تصدق
یہ قسمت مری،یہ ہے تیرا تصدق
خدا نے ہمیں جو سلیقہ دیا ہے
نوازش بھی کی ، یہ ہے تیرا تصدق
ثناخواں تھی کل شب ، مئے ارغواں بھی
یہ شیشہ گری ، یہ ہے تیرا تصدق
کروں رشک میں اس تہی دامنی پر
تہی دامنی ،یہ ہے تیرا تصدق
نہ پوچھو کبھی مجھ سے غم ہائے سودا
نمی آنکھ کی، یہ ہے تیرا تصدق!
تری نذر ہے میراہر حرف ہم دم
مری شاعری، یہ ہے تیرا تصدق
تخیل ،تغزل ، تکلم ، ترنم
یہ افسوں گری ، یہ ہے تیرا تصدق
یہ بلبل کی کو کو ، فضاؤں کی خوشبو
یہ نغمہ گری ، یہ ہے تیرا تصدق
ستم گر! تومیراہے ایمان لیکن
تری کافری ،یہ ہے تیرا تصدق
شکستہ کیا جب بتوں کو ، صنم (1)پھر
ہوئی بندگی، یہ ہے تیرا تصدق
تو فاخرؔ کے لفظوںمیں پنہاں ،ہے میری
یہ خوش قسمتی ، یہ ہے تیرا تصدق
(1) اس فرسودہ لفظ’’صنم‘‘ کے استعمال پر حضرت الاستاد سے معذرت !!!
سردار محمد نعیم — جنوری 29، 2019 6:02 شام
یہ عشوہ گری، یہ ہے تیرا تصدق
ہے میری خوشی،یہ ہے تیراتصدق
خدا نے ہمیں جو سلیقہ دیا ہے
نوازش بھی کی ، یہ ہے تیرا تصدق
ثناخواں تھی کل شب ، مئے ارغواں بھی
یہ شیشہ گری ، یہ ہے تیرا تصدق
کروں رشک میں اس تہی دامنی پر
تہی دامنی ،یہ ہے تیرا تصدق
واہ واہ بہت خوب!!!
الف عین — جنوری 30، 2019 5:52 صبح
نئے شعر میں لفظ صنم پر اعتراض نہیں بلکہ 'بتوں' کے ساتھ اچھا لگ رہا ہے
البتہ مطلع اب بھی میرے خیال میں جم نہیں رہا
فاخر — جنوری 30، 2019 7:48 صبح
نئے شعر میں لفظ صنم پر اعتراض نہیں بلکہ 'بتوں' کے ساتھ اچھا لگ رہا ہے
البتہ مطلع اب بھی میرے خیال میں جم نہیں رہا
رات میں بہت سرکھپایا ،کئی ترکیب کو ’’الٹ پلٹ‘‘ کر دیکھا، کئی مقتدر شعراء مثلاً حافظؔ ،رومیؔ ، سعدیؔ، امیر خسروؔ ، غالبؔ وغیرہ کی غزلیں کھنگالی ، اس امید کے ساتھ کہ کوئی ’’حل ‘‘ نکل آئے ؛لیکن ناکام رہا،(سرقہ کی ناپاک ’جسارت‘ اور ’کوشش‘ نہیں کی ؛بلکہ ان غزلوں سے استفادہ اور حل ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی:p:LOL:) جو کمی آپ بتارہے ہیں وہ مجھے بھی محسوس ہوتی رہی اور اب بھی محسوس ہورہی ہے ۔ ان شاءاللہ آئندہ غزلوں میں اس کمی کو دور کرنے کی کوشش کروں گا ۔ دعاء کی درخواست ہے۔:in-love::in-love::in-love:
فاخر — جنوری 30، 2019 7:57 صبح
یہ عشوہ گری، یہ ہے تیرا تصدق
ہے میری خوشی،یہ ہے تیراتصدق
خدا نے ہمیں جو سلیقہ دیا ہے
نوازش بھی کی ، یہ ہے تیرا تصدق
ثناخواں تھی کل شب ، مئے ارغواں بھی
یہ شیشہ گری ، یہ ہے تیرا تصدق
کروں رشک میں اس تہی دامنی پر
تہی دامنی ،یہ ہے تیرا تصدق
واہ واہ بہت خوب!!!
بہت بہت شکریہ !!!!یہ ’’کرم گستری، یہ ہے تیرا تصدق ‘‘ :in-love::in-love::in-love::in-love::in-love:

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%B3%D8%AE%D9%86-%DB%8C%DB%81-%D8%B9%D8%B4%D9%88%DB%81-%DA%AF%D8%B1%DB%8C-%D8%8C-%DB%8C%DB%81-%DB%81%DB%92-%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D8%AA%D8%B5%D8%AF%D9%82.105238/