اصلاح طلب اشعار

زنیرہ عقیل — ستمبر 6، 2018 11:49 صبح
گل کی فطرت میں نازکی ہے بہت
پھر بھی خوشبو ثبات ہے گل کی
زنیرہ گُل​
زنیرہ عقیل — ستمبر 6، 2018 11:57 صبح
گل کے کھلنے اور مرجھانے کی عمر اتنی ہے
گل پہ دل آئے کسی کا اور اس کو توڑ دے
زنیرہ گل​
الف عین — ستمبر 7، 2018 11:34 صبح
گل کی فطرت میں نازکی ہے بہت
پھر بھی خوشبو ثبات ہے گل کی
زنیرہ گُل​
ثبات مذکر ہے
گل کے کھلنے اور مرجھانے کی عمر اتنی ہے
گل پہ دل آئے کسی کا اور اس کو توڑ دے
زنیرہ گل​
پھول کھلنے... کہا جائے تو بہتر ہے دونوں مصرعوں میں گل کا دہرایا جانا اچھا نہیں لگتا ہے
پہلے مصرعے میں 'ہی' شاید چھوٹ گیا ہے
زنیرہ عقیل — ستمبر 7، 2018 12:02 شام
بہت بہت شکریہ محترم
ثبات مذکر ہے
پھول کھلنے... کہا جائے تو بہتر ہے دونوں مصرعوں میں گل کا دہرایا جانا اچھا نہیں لگتا ہے
پہلے مصرعے میں 'ہی' شاید چھوٹ گیا ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D8%B7%D9%84%D8%A8-%D8%A7%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1.103138/