اصلاح فرمائیں: ایک بلبل قفس میں جو چہکی ہے آج

محمد عبدالرؤوف — مئی 31، 2021 5:20 شام
الف عین ، محمّد احسن سمیع :راحل: ، سید عاطف علی ، یاسر شاہ
محترم استاتذہ کرام، اصلاح کی درخواست ہے
کیوں خلش میرے سینے میں ہوتی ہے آج
کیا کلی کوئی گلشن میں مہکی ہے آج
حسرتِ مرگ تھی یا پیامِ حیات
ایک چڑیا قفس میں جو چہکی ہے آج
دھول اڑاتی زمیں بھی مہکنے لگی
بن کے برکھا کوئی آنکھ برسی ہے آج
اک قیامت بپا آسمانوں پہ ہے
آہ کوئی سرِ عرش پہنچی ہے آج
خرچ جتنا کیا وہ تھی تیری متاع
یہ ہے اوروں کا جو تیری پونجی ہے آج
سب لرزتے ہوئے حشر میں ہوں گے پیش
وہ بھی، حاصل جنہیں گو خدائی ہے آج
یاسر شاہ — مئی 31، 2021 6:44 شام
اچھی غزل ہے ما شاء اللہ عبدالرؤوف بھائی۔۔
محمد عبدالرؤوف — مئی 31، 2021 6:47 شام
اچھی غزل ہے ما شاء اللہ عبدالرؤوف بھائی۔۔
آپ کی توجہ اور حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ :)
فاخر رضا — مئی 31، 2021 8:55 شام
زبردست
کچھ اشعار مسحور کن ہیں
گُلِ یاسمیں — مئی 31، 2021 8:58 شام
زبردست روؤٖف بھائی
بہت خوبصورت غزل۔
عرفان سعید — مئی 31، 2021 9:01 شام
دھول اڑاتی زمیں بھی مہکنے لگی
بن کے برکھا کوئی آنکھ برسی ہے آج
بہت اعلی!
محمد عبدالرؤوف — مئی 31، 2021 9:02 شام
زبردست
کچھ اشعار مسحور کن ہیں
زبردست روؤٖف بھائی
بہت خوبصورت غزل۔
آپ دوستوں کی پسندیدگی کا بہت بہت شکریہ
محمد احسن سمیع راحلؔ — مئی 31، 2021 10:49 شام
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے بھائی عبدالرؤوف. تقریبا سبھی اشعار اچھے کہے ہیں آپ نے.
مجھے بس اس شعر کے پہلے مصرعے میں کچھ تردد ہوا کہ دھول اڑانا خود زمین کے لیے کہا جا سکتا ہے کیا؟ دوسرے یہ برسات کے معاملے میں میرے خیال میں آنکھ کو ابر سے تشبیہ دینا شاید زیادہ مناسب رہتا
دھول اڑاتی زمیں بھی مہکنے لگی
بن کے برکھا کوئی آنکھ برسی ہے آج
الف عین — جون 1، 2021 6:38 صبح
اچھی غزل ہے، دھول اڑاتی زمین بھی مجھے تو درست لگی۔ آنکھ کو ابر کی جگہ برکھا ہی کہہ دینا مجھے شاعر کی مرضی پر لگتا ہے۔
.. یہ تھی تیری متاع
میں تنافر محسوس ہوتا ہے
یہ ترا مال تھا
یہ تری تھی متاع
وغیرہ کر کے دیکھیں
محمد عبدالرؤوف — جون 1، 2021 6:49 صبح
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے بھائی عبدالرؤوف. تقریبا سبھی اشعار اچھے کہے ہیں آپ نے.
مجھے بس اس شعر کے پہلے مصرعے میں کچھ تردد ہوا کہ دھول اڑانا خود زمین کے لیے کہا جا سکتا ہے کیا؟ دوسرے یہ برسات کے معاملے میں میرے خیال میں آنکھ کو ابر سے تشبیہ دینا شاید زیادہ مناسب رہتا
آپ کی حوصلہ افزائی اور توجہ کا بہت شکریہ
آپ کی تجویز کے بعد میں استاد صاحب کا انتظار کر رہا تھا
محمد عبدالرؤوف — جون 1، 2021 6:50 صبح
اچھی غزل ہے، دھول اڑاتی زمین بھی مجھے تو درست لگی۔ آنکھ کو ابر کی جگہ برکھا ہی کہہ دینا مجھے شاعر کی مرضی پر لگتا ہے۔
.. یہ تھی تیری متاع
میں تنافر محسوس ہوتا ہے
یہ ترا مال تھا
یہ تری تھی متاع
وغیرہ کر کے دیکھیں
بہت بہتر استاد صاحب، شکریہ
محمد عبدالرؤوف — جون 1، 2021 8:57 صبح
اشرف علی بھائی ٹوٹی پھوٹی کاوش پسند کرنے کے لیے ممنون ہوں
زوجہ اظہر — جون 1، 2021 11:03 صبح
الف عین ، محمّد احسن سمیع :راحل: ، سید عاطف علی ، یاسر شاہ
محترم استاتذہ کرام، اصلاح کی درخواست ہے
کیوں خلش میرے سینے میں ہوتی ہے آج
کیا کلی کوئی گلشن میں مہکی ہے آج
حسرتِ مرگ تھی یا پیامِ حیات
ایک چڑیا قفس میں جو چہکی ہے آج
دھول اڑاتی زمیں بھی مہکنے لگی
بن کے برکھا کوئی آنکھ برسی ہے آج
اک قیامت بپا آسمانوں پہ ہے
آہ کوئی سرِ عرش پہنچی ہے آج
خرچ جتنا کیا وہ تھی تیری متاع
یہ ہے اوروں کا جو تیری پونجی ہے آج
سب لرزتے ہوئے حشر میں ہوں گے پیش
وہ بھی، حاصل جنہیں گو خدائی ہے آج

واہ بہت اچھے
سید عاطف علی — جون 1، 2021 12:20 شام
کیوں خلش میرے سینے میں ہوتی ہے آج
اصلاح کے دھاگے کی مناسبت سے ۔
یہ اسلوب اگرچہ بالکل درست ہے لیکن اس سے مطلع اٹھتا نہیں ۔ اس اک خلش میرے سینے میں اٹھی ہے ۔ بہتر ہو گا ۔ اور کلی کے لیے مہکنے سے زیادہ مناسب چٹکنا ہو گا ۔مہکنا پھول کے لیے مناسب ہے ۔ کیوں کہ کلی کی خوشبو تو کچی ہوتی ہے ۔ ویسے یہ کوئی عیب نہیں بس ایک رائے ہے ۔
بن کے برکھا کوئی آنکھ برسی ہے آج
لفظ برکھ گیتوں اور گانوں کا سا لفظ لگتا ہے ۔اچھی غزل میں کچھ عجیب محسوس ہوتا ہے (مجھے)۔
خرچ جتنا کیا وہ تھی تیری متاع
"وہ تھی" کی جگہ "تھی وہ" زیادہ بہتر ہو گا ۔
اور ہاں چڑیا کی جگہ بلبل کیوں نہیں ۔ اگر چہ گل کا ذکر نہیں لیکن پھر بھی ۔۔۔
ویسے پوری ہی غزل پسند آئی ۔
محمد عبدالرؤوف — جون 1، 2021 2:05 شام
بہت شکریہ بہنا
محمد عبدالرؤوف — جون 1، 2021 2:16 شام
آپ کی پسندیدگی اور آراء دونوں میرے لیے بہت قیمتی ہیں
پہلے میں مطلع میں "اٹھی" لفظ لایا لیکن عروض ڈاٹ کام سے مجھے تلفظ کا دھوکا ہوا تو اسے ترک کر دیا کیونکہ وہاں پر 21 وزن آ رہا تھا، اور چٹکنا بھی اچھا مشورہ ہے
لفظ برکھ گیتوں اور گانوں کا سا لفظ لگتا ہے ۔اچھی غزل میں کچھ عجیب محسوس ہوتا ہے (مجھے)
پہلے برکھا کی جگہ لفظ بادل لگایا ہوا تھا لیکن برکھا مجھے پرکشش لگ رہا تھا شاید وہی فلمی نغموں کا اثر تھا :)
ویسے راحل بھائی نے بھی اس لفظ کی طرف توجہ دلائی تھی
"وہ تھی" کی جگہ "تھی وہ" زیادہ بہتر ہو گا ۔
اور ہاں چڑیا کی جگہ بلبل کیوں نہیں ۔ اگر چہ گل کا ذکر نہیں لیکن پھر بھی ۔۔
بالکل بہتر، استاد صاحب نے بھی ان الفاظ کی ترتیب بدلنے کا فرمایا تھا
گُلِ یاسمیں — جون 1، 2021 2:20 شام
ی
اور ہاں چڑیا کی جگہ بلبل کیوں نہیں ۔ اگر چہ گل کا ذکر نہیں لیکن پھر بھی ۔۔۔
محمد عبدالرؤوف — جون 1، 2021 2:21 شام
اک خلش میرے سینے میں اُٹھی ہے آج
کیا کلی کوئی گلشن میں چٹکی ہے آج
حسرتِ مرگ تھی یا پیامِ حیات
ایک بلبل قفس میں جو چہکی ہے آج
دھول اڑاتی زمیں بھی مہکنے لگی
ابر بن کر کوئی آنکھ برسی ہے آج
اک قیامت بپا آسمانوں پہ ہے
آہ کوئی سرِ عرش پہنچی ہے آج
خرچ جتنا کیا تھی وہ تیری متاع
یہ ہے اوروں کا جو تیری پونجی ہے آج
سب لرزتے ہوئے حشر میں ہوں گے پیش
وہ بھی، حاصل جنہیں گو خدائی ہے آج
سید عاطف علی — جون 1، 2021 5:01 شام
اس مراسلے کو دیکھ کے ایک مصرع ذہن میں آرہا ہے۔
کوئی محفل ہو 'اپنا' رنگ محفل دیکھ لیتے ہیں ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%A8%D9%84%D8%A8%D9%84-%D9%82%D9%81%D8%B3-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AC%D9%88-%DA%86%DB%81%DA%A9%DB%8C-%DB%81%DB%92-%D8%A2%D8%AC.116469/