اصلاح و تنقید کی درخواست

امان زرگر — اپریل 28، 2017 12:10 شام
قلزم درد اک رواں دل میں
آرزو بھی کہیں نہاں دل میں
منزلیں کھو گئیں، سفر جاری
عشق جویائے لامکاں دل میں
ایک وحشت ہے دشت میں چھائی
حسنِ احوال اب کہاں دل میں
تم کو شاہِ جنوں بلاتے ہیں
چل مرے ساتھ آسماں دل میں
نقش باقی ہیں اب تلک تیرے
عہد پارینہ جاوداں دل میں
امان زرگر — اپریل 28، 2017 2:15 شام
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
الف عین — اپریل 28، 2017 3:04 شام
قلزم درد اک رواں دل میں
آرزو بھی کہیں نہاں دل میں
÷÷کچھ دو لخت لگتا ہے۔
منزلیں کھو گئیں، سفر جاری
عشق جویائے لامکاں دل میں
÷÷ٹھیک
ایک وحشت ہے دشت میں چھائی
حسنِ احوال اب کہاں دل میں
÷÷حسن احوال؟ عجیب سی ترکیب لگ رہی ہے۔ غلط تو نہیں۔
تم کو شاہِ جنوں بلاتے ہیں
چل مرے ساتھ آسماں دل میں
÷÷یہ بھی واضح نہیں۔
نقش باقی ہیں اب تلک تیرے
عہد پارینہ جاوداں دل میں
÷÷عہد پارینہ کے بعد خطابیہ لگاؤ تو واضح ہو جائے
عہد پارینہ! جاوداں دل میں
امان زرگر — اپریل 28، 2017 3:06 شام
قلزم درد اک رواں دل میں
آرزو بھی کہیں نہاں دل میں
÷÷کچھ دو لخت لگتا ہے۔
منزلیں کھو گئیں، سفر جاری
عشق جویائے لامکاں دل میں
÷÷ٹھیک
ایک وحشت ہے دشت میں چھائی
حسنِ احوال اب کہاں دل میں
÷÷حسن احوال؟ عجیب سی ترکیب لگ رہی ہے۔ غلط تو نہیں۔
تم کو شاہِ جنوں بلاتے ہیں
چل مرے ساتھ آسماں دل میں
÷÷یہ بھی واضح نہیں۔
نقش باقی ہیں اب تلک تیرے
عہد پارینہ جاوداں دل میں
÷÷عہد پارینہ کے بعد خطابیہ لگاؤ تو واضح ہو جائے
عہد پارینہ! جاوداں دل میں
قلزمِ درد اک رواں دل میں
دھڑکنیں موجِ خستہ جاں دل میں
منزلیں کھو گئیں، سفر جاری
عشق جویائے لامکاں دل میں
ایک وحشت ہے دشت میں چھائی
یار تھے خوب مہرباں دل میں
تم کو شاہِ جنوں بلاتے ہیں
چل خرد کے اے آسماں دل میں
نقش باقی ہیں اب تلک تیرے
عہدِ پارینہ! جاوداں دل میں
عاطف ملک
محمد ریحان قریشی
الف عین — اپریل 29، 2017 7:27 صبح
شاہ جنوں والا مصرع تو لا جواب ہے۔ بس گرہ ٹھیک نہیں بیٹھ رہی۔
باقی درست ہیں۔
امان زرگر — اپریل 29، 2017 12:53 شام
شاہ جنوں والا مصرع تو لا جواب ہے۔ بس گرہ ٹھیک نہیں بیٹھ رہی۔
باقی درست ہیں۔
تم کو شاہِ جنوں بلاتے ہیں
ذوق دیوانگی! وہاں دل میں
الف عین — اپریل 29، 2017 1:11 شام
تم کو شاہِ جنوں بلاتے ہیں
ذوق دیوانگی! وہاں دل میں
یہ بھی بس بھرتی کا ہی مصرع ہے
امان زرگر — اپریل 29، 2017 1:33 شام
یہ بھی بس بھرتی کا ہی مصرع ہے
لگتا ہے خرد کے لئے ہی بلاوا ہے اسی کو کہتا ہوں مگر کیسے! یہ سوچتا ہوں
امان زرگر — اپریل 29، 2017 4:40 شام
شاہ جنوں والا مصرع تو لا جواب ہے۔ بس گرہ ٹھیک نہیں بیٹھ رہی۔
باقی درست ہیں۔
بزم شاہِ جنوں سجاتے ہیں
چل اے سالارِ مے کشاں دل میں
یا
بزمِ شاہِ جنوں ہے جوبن پر
چل اے سالارِ مے کشاں دل میں
یا
بزمِ شاہِ جنوں ہے جوبن پر
محو سالارِ مے کشاں دل میں​
الف عین — اپریل 29، 2017 5:43 شام
یہ مکیسا رہے گا
تجھ کو شاہِ جنوں بلاتے ہیں
آخرد ہو جا میہماں دل میں
امان زرگر — اپریل 29، 2017 6:14 شام
یہ مکیسا رہے گا
تجھ کو شاہِ جنوں بلاتے ہیں
آخرد ہو جا میہماں دل میں
جی سر زبردست مجھے تگ و دو کے بعد بھی قافیہ نہیں مل رہا تھا جو خرد کو مدعو کرتا مگر آپ نے کرم نوازی کی شکریہ. غزل مکمل ہو گئی سر
امان زرگر — اپریل 30، 2017 2:33 صبح
اصلاح کے بعدمکمل غزل پیشِ خدمت ہے۔
قلزمِ درد اک رواں دل میں
دھڑکنیں موجِ خستہ جاں دل میں
منزلیں کھو گئیں، سفر جاری
عشق جویائے لامکاں دل میں
ایک وحشت ہے دشت میں چھائی
یار تھے خوب مہرباں دل میں
تجھ کو شاہِ جنوں بلاتے ہیں
آ خرد ہو جا میہماں دل میں
نقش باقی ہیں اب تلک تیرے
عہدِ پارینہ! جاوداں دل میں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B1%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%AA.96074/