اصلاح و نقد

فاخر — ستمبر 21، 2018 3:58 شام
شعر میں مشورے کے لیے اے صنم
گھس گئیں جوتیاں ، دوڑتے دوڑتے!!
اور اس کے ساتھ ایک سنجیدہ شعر:

جستجو تھی وہ کیا ، م۔۔۔۔اه رو كى مجھے
آبلے پڑگئے ، ڈھونڈتے ڈھونڈتے
محمد ریحان قریشی — ستمبر 21، 2018 4:04 شام
غزل کا درست تلفظ ز متحرک کے ساتھ غَزَل ہے۔
فاخر — ستمبر 21، 2018 4:10 شام
تو اس کی جگہ یوں کرلیتے ہیں ، شعر میں مشورے کے لیے ،،،جوتیاں گھِس گئیں، دوڑتے دوڑتے :sneaky::khoobsurat:
سید عاطف علی — ستمبر 21، 2018 4:40 شام
تو اس کی جگہ یوں کرلیتے ہیں ، شعر میں مشورے کے لیے ،،،جوتیاں گھِس گئیں، دوڑتے دوڑتے :sneaky::khoobsurat:
جوتیاں چلنے سے گھستی ہیں دوڑنے سے تو ٹوٹتی ہیں ۔ :)
فاخر — ستمبر 21، 2018 5:44 شام
ھا ھا ھا ہمارے ہندوستان میں دوڑنے سے جوتیاں گھس جاتی ہیں ؛کیوں کہ ہندوستانی پشاور کا چیل استعمال کرتے ہیں جو گھس تو جاتا ہے ،مگر ٹوٹتا نہیں :D:D:D بھائی یہ ویسے ہی ہے جیسے بنگالیوں کے یہاں پانی اور چائے کھائی جاتی ہے پی نہیں جاتی، جب کہ ہندوستان میں بشمول یوپی (اتر پردیش)، دہلی، بہار وغیرہ میں چائے اور پانی پیا ہی جاتا ہےٖ،کھایا نہیں جاتا۔
جوتیاں چلنے سے گھستی ہیں دوڑنے سے تو ٹوٹتی ہیں ۔ :)
محمد ریحان قریشی — ستمبر 21، 2018 5:44 شام
کیا(حرفِ استفہام) کا درست وزن فع ہے.
فاخر — ستمبر 21، 2018 5:51 شام
جوتیاں چلنے سے گھستی ہیں دوڑنے سے تو ٹوٹتی ہیں ۔ :)
اصل میں ہمارے یہاں جب کسی کے پاس جا جا کرتھک جاتے ہیں تو"كہتے ہیں کہ دوڑ دوڑ کر جوتی گھس گئی۔ اس لیے اس تعبیر کو یہاں استعمال کیا ہے ۔
محمد تابش صدیقی — ستمبر 21، 2018 6:04 شام
اصل میں ہمارے یہاں جب کسی کے پاس جا جا کرتھک جاتے ہیں تو"كہتے ہیں کہ دوڑ دوڑ کر جوتی گھس گئی۔ اس لیے اس تعبیر کو یہاں استعمال کیا ہے ۔
پیارے بھائی، سیکھنے میں تو آبلہ پائی کی نوبت بھی آ جاتی ہے، جوتیاں گھسنا تو شروعات ہیں۔ :)
الف عین — ستمبر 22، 2018 5:40 صبح
اور اگر یہ دو اشعار غزل کے ہیں تو ان میں قافیہ بھی ضروری ہے، دوڑتے اور ڈھونڈتے قافیے غلط ہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%D9%88-%D9%86%D9%82%D8%AF.103327/