Imran Niazi — اگست 21، 2009 10:13 صبح
سلام
جدا ہو نے کےموسم میں جدا ہونا بھی پڑتا ہے
جسے مشکل سے پایا ہو اسے کھونا بھی پڑتا ہے
خودی پہ مان اتنا ہے کبھی مڑ کر نہیںدیکھا
جسے کہہ دوںکہ میرا ہے اُسے ہونا بھی پڑتا ہے
ابھی تو فصلِ گل ہے، مثلِ گل ہو سوچ کہ رکھنا
کہ جب وقتِ خزاںآئے تو پھر رونا بھی پڑتا ہے
مجھے نیندیںنہیںبھاتیں کہ مثلِ مرگ ہوتی ہیں
مگر اِک خواب کے لالچ میںپھر سونا بھی پڑتا ہے
ہمیشہ ہنستا رہتا ہوں چھپا کہ غم زمانے سے
مگر جب تیرا نام آئے تو پھر رونا بھی پڑتا ہے
فرخ منظور — اگست 21، 2009 10:17 صبح
بہت اچھی غزل ہے عمران صاحب لیکن اس میں بھی کچھ املا کی اغلاط ہیں۔ 
مغزل — اگست 21، 2009 10:35 صبح
اچھی غزل ہے عمران نیازی صاحب ، ماشا اللہ ، مگر یہ آپ نے بطور عنوان ’’ سلام ‘‘ کیوں لکھا ہے ،۔ ؟؟
الف عین — اگست 21، 2009 11:38 صبح
میرے خیال میں عمران نے پہلے پڑھنے والوں یا اساتذہ کو سلام کہا ہے تو اس کا جواب تو دیا جائے۔۔ وعلیکم السلام
غزل اچھی ہے، مکمل وزن میں ہے، بس وہ فرخ ۔ سخنور۔ کی بات پہر غور کریں۔ شاید ’کر‘ کی جگہ ’کہ‘ لکھ گئے ہیں۔
یہ شعر تو بہت عمدہ ہے، پسند آیا
مجھے نیندیںنہیںبھاتیں کہ مثلِ مرگ ہوتی ہیں
مگر اِک خواب کے لالچ میںپھر سونا بھی پڑتا ہے
ایم اے راجا — اگست 21، 2009 10:03 شام
مجھے نیندیںنہیںبھاتیں کہ مثلِ مرگ ہوتی ہیں
مگر اِک خواب کے لالچ میںپھر سونا بھی پڑتا ہے
واہ واہ لاجواب شعر ہے، بہت خوب عمران صاحب، واہ واہ
عثمان رضا — اگست 21، 2009 10:07 شام
بہت خوب جناب
Imran Niazi — اگست 22، 2009 2:27 صبح
اچھی غزل ہے عمران نیازی صاحب ، ماشا اللہ ، مگر یہ آپ نے بطور عنوان ’’ سلام ‘‘ کیوں لکھا ہے ،۔ ؟؟
جی میں نے آپ سب کو سلام کہا تھا،
بہت بہت شکریہ حوصلہ افزائی کا
Imran Niazi — اگست 22، 2009 2:31 صبح
اچھی غزل ہے عمران نیازی صاحب ، ماشا اللہ ، مگر یہ آپ نے بطور عنوان ’’ سلام ‘‘ کیوں لکھا ہے ،۔ ؟؟
میرے خیال میں عمران نے پہلے پڑھنے والوں یا اساتذہ کو سلام کہا ہے تو اس کا جواب تو دیا جائے۔۔ وعلیکم السلام
غزل اچھی ہے، مکمل وزن میں ہے، بس وہ فرخ ۔ سخنور۔ کی بات پہر غور کریں۔ شاید ’کر‘ کی جگہ ’کہ‘ لکھ گئے ہیں۔
یہ شعر تو بہت عمدہ ہے، پسند آیا
مجھے نیندیںنہیںبھاتیں کہ مثلِ مرگ ہوتی ہیں
مگر اِک خواب کے لالچ میںپھر سونا بھی پڑتا ہے
بہت بہت شکریہ حوصلہ افزائی کے لیئے جی،
دوست — اگست 22، 2009 2:33 صبح
واہ جی واہ۔ بہت اچھی غزل ہے۔
Imran Niazi — اگست 22، 2009 2:33 صبح
مجھے نیندیںنہیںبھاتیں کہ مثلِ مرگ ہوتی ہیں
مگر اِک خواب کے لالچ میںپھر سونا بھی پڑتا ہے
واہ واہ لاجواب شعر ہے، بہت خوب عمران صاحب، واہ واہ
بہت بہت شکریہ راجا صاحب
Imran Niazi — اگست 22، 2009 2:40 صبح
واہ جی واہ۔ بہت اچھی غزل ہے۔
بہت بہت شکریہ دوستو
مغزل — اگست 22، 2009 6:23 صبح
بہت شکریہ نیازی صاحب
خرم شہزاد خرم — اگست 22، 2009 6:18 شام
بہت بہت شکریہ راجہ صاحب
یہ راجا صاحب الف والے ہیں ہ والے نہیں
