اصلاح کا متمنی ہوں کوئی دوست مدد فرما دیں

ذیشان لاشاری — اکتوبر 3، 2018 5:48 صبح
بلبل کی عنایت ہے جو یہ رنگِ چمن ہے
قربان لہو کر کے جو گلشن میں دفن ہے
کچھ ظلم ہوا ہم پہ جو اب ترکِ وفا ہے
اک سوز ہے دل میں بھی جو یہ گرم سخن ہے
لے دے کے فقط دل تھا پسند وہ بھی نہ آیا
کہتے ہیں کہ دل آپ کا خستہ ہے کہن ہے
افکار و خیالات گرفتار ہیں جس میں
اس زلف کا تحفہ ہے جو ماتھے پہ شکن ہے
دوزخ کے گڑھے سے بھی نکل آتے ہیں باہر
پر میں ہوں پڑا جس میں وہ اک چاہِ ذقن ہے
پردہ ہو اگر رخ پہ تو تشبیہیں بہت ہیں
پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ چاند گہن ہے
ہر روز نئے رنج نئے سوز لے آئے
یہ دل ہے مرا یا کوئی ناسورِ بدن ہے
وابستہ تھی اس ایک سے ہر رونقِ محفل
وہ آنکھ نہیں آج تو محفل میں امن ہے
سانسوں کو مری شانؔ معطر کئے جائے
اس تن کی یہ خوشبو ہے کہ یہ مشکِ ختن ہے
سید عاطف علی — اکتوبر 3، 2018 5:59 صبح
قربان لہو کر کے جو گلشن میں دفن ہے
دفن کا تلفظ غلط ہے یہاں۔
لے دے کے فقط دل تھا پسند وہ بھی نہ آیا
پسند کا تلفظ اس طرح نہیں آسکتا ۔ترتیب بدلنی ہو گی ۔
لے دے کے فقط دل تھا پسند آیا نہ وہ بھی
وہ آنکھ نہیں آج تو محفل میں امن ہے
یہاں بھی وہی دفن والا مسئلہ ۔
ذیشان لاشاری — اکتوبر 3، 2018 6:03 صبح
دفن کا تلفظ غلط ہے یہاں۔
پسند کا تلفظ اس طرح نہیں آسکتا ۔ترتیب بدلنی ہو گی ۔
لے دے کے فقط دل تھا پسند آیا نہ وہ بھی
بہت نوازش
یہاں بھی وہی دفن والا مسئلہ ۔

مسئلہ کس نوعیت کا ہے۔کچھ مزید اصلاح فرما دیں۔
ذیشان لاشاری — اکتوبر 3، 2018 6:04 صبح
بہت نوازش
سید عاطف علی — اکتوبر 3، 2018 6:14 صبح
مسئلہ کس نوعیت کا ہے۔کچھ مزید اصلاح فرما دیں۔
دفن کا ف ساکن ہوتا ہے اور آپ نے اس پر زبر کے ساتھ استعمال کیا ہے ۔ جو درست نہیں ۔
پسند کا وزن فعول ہونا چاہیئے۔ جبکہ آپ کے مصرع میں "فعو" آ رہا ہے۔
ذیشان لاشاری — اکتوبر 3، 2018 6:23 صبح
دفن کا ف ساکن ہوتا ہے اور آپ نے اس پر زبر کے ساتھ استعمال کیا ہے ۔ جو درست نہیں ۔
پسند کا وزن فعول ہونا چاہیئے۔ جبکہ آپ کے مصرع میں "فعو" آ رہا ہے۔

اوہ اچھا
بہت شکریہ بھائی جان۔
سید عاطف علی — اکتوبر 3، 2018 6:28 صبح
اوہ اچھا
بہت شکریہ بھائی جان۔
اور ہاں لاشاری صاحب ۔
باقی اشعار اچھے ہیں ۔
ذیشان لاشاری — اکتوبر 3، 2018 7:35 صبح
اور ہاں لاشاری صاحب ۔
باقی اشعار اچھے ہیں ۔
نوازش بھائی جان
الف عین — اکتوبر 3، 2018 8:51 صبح
عاطف کی درست نشاندہی کے علاوہ باقی اشعار درست ہیں لیکن پہلے دونوں اشعار کا ابلاغ درست نہیں ہوتا
ذیشان لاشاری — اکتوبر 4، 2018 6:01 صبح
عاطف کی درست نشاندہی کے علاوہ باقی اشعار درست ہیں لیکن پہلے دونوں اشعار کا ابلاغ درست نہیں ہوتا
بہت نہتر استاذی المحترم
ذیشان لاشاری — اکتوبر 11، 2018 9:59 صبح
عاطف کی درست نشاندہی کے علاوہ باقی اشعار درست ہیں لیکن پہلے دونوں اشعار کا ابلاغ درست نہیں ہوتا

استاد جی
اس غزل میں کچھ اور اشعار لکھے ہیں۔رہنمائی فرمادیں
عاطف کی درست نشاندہی کے علاوہ باقی اشعار درست ہیں لیکن پہلے دونوں اشعار کا ابلاغ درست نہیں ہوتا
استاد جی
اس غزل میں کچھ اور اشعار شامل کئے ہیں
رہنمائی فرمادیں
اب روح مری مجھ سے بھی وارستگی چاہے
اس جسم کےزنداں میں یہ کہتی ہے گھٹن ہے
اس بلبلِ پر سوختہ کا تحفہ ہے شبنم
جو گل کی طراوت کے لئے سایہ فگن ہے
اس ملکِ پریشاں میں سخن کس کو سنائیں
یاں اردو زباں ہے پر بے ذوق وطن ہے
ہے امن و سکوں محفلِ عشاق میں قائم
وہ آنکھ نہیں آج کہ جو روحِ فتن ہے
الف عین — اکتوبر 13، 2018 6:56 صبح
پہلا شعر درست بلکہ عمدہ ہے
دوسرا اور چوتھا سمجھ میں نہیں آیا
تیسرا بحر سے خارج دوسرا مصرع
ذیشان لاشاری — اکتوبر 13، 2018 8:38 صبح
تیسرا بحر سے خارج دوسرا مصرع
یوں درست ہے؟
ہے اردو زباں پھر بھی یہ بے ذوق وطن ہے
الف عین — اکتوبر 14، 2018 7:13 صبح
یوں درست ہے؟
ہے اردو زباں پھر بھی یہ بے ذوق وطن ہے
بے ذوق وطن بے معنی ترکیب ہے شاید کہنا یہ ہے کہ وطن کے لوگ بے ذوق ہو گئے ہیں لیکن اس کا صرف میں اندازہ لگا رہا ہوں الفاظ سے تو کچھ ظاہر نہیں ہوتا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%D8%AA%D9%85%D9%86%DB%8C-%DB%81%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA-%D9%85%D8%AF%D8%AF-%D9%81%D8%B1%D9%85%D8%A7-%D8%AF%DB%8C%DA%BA.103498/