اصلاح کی امید میں

محمد مبین امجد — دسمبر 10، 2015 3:21 شام
لیں احباب تازہ تازہ توے سے اترا ہوا شعر۔۔۔۔۔۔۔ ایک متشاعر کی کاوش
کھلیں گے تجھ پہ زیروزبر اس جہان کے
مستغرق ہو کسی اہل نظر کی طرح۔۔۔
الف عین — دسمبر 11، 2015 10:05 شام
شعر کی اصلاح کرنے کے لئے بھی اہلِ نظر ہونا ضروری ہے، جو کم از کم یہ بندہ نہیں ہے۔
شعر تو اچھا ہے بس اوزان سے خارج ہے۔ پہلا تو آسانی سے
کھل جائیں تجھ پہ زیر و زبر اس جہان کے
(مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن)
درست ہو سکتا ہے۔ یکن ’مستغرق‘ ایسی کسی بحر میں نہیں آ سکتا۔ ویسے دونوں مصرعوں میں ربط کی بھی ضرورت ہے ، مثلاً ’جو‘ کی۔
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 12، 2015 6:25 صبح
اگر تو سوچنا چاہے مری جاں
کھلیں گے تجھ پہ اسرار اِس جہاں کے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF-%D9%85%DB%8C%DA%BA.86306/