اس غزل کے قوافی غلط ہیں۔ قوافی کا یہ اصول ہے کہ مشترک حروف سے فوراً پہلے جو حرف ہو وہ متحرک ہو، یعنی اس پر زیر، زبر یا پیش ہو۔ اس غزل میں تکنا اور نکلنا قوافی بنائے گئے ہیں، جن میں مشترک حروف 'نا' ہے، اور ان سے پہلے کاف اور لام ساکن ہیں۔ البتہ تکنا، لٹکنا قوافی ہو سکتے ہیں جن میں 'کنا' مشترک ہے اور اس سے پہلے ت، ک پر زبر ہے۔ لیکن چُکنا قافیہ نہیں ہو سکتا کہ چ پر پیش ہے، یعنی حرکت یا اعراب بھی یکساں ہونے چاہئیں۔ بہلنا، مچلنا نکلنا قوافی کا ایک گروپ ہے، تکنا، سکنا، دھڑکنا ایک اور گروپ، اور بکھرنا،سنورنا، گزرنا ایک تیسرا گروپ۔ اور ہر گروپ کے الفاظ خلط ملط نہیں کیے جا سکتے
جنابِ محترم !
غزل دوبارہ پیشِ خدمت ہے:
بیوفائی کو وفا بلکہ ادا مانیں گے
ہم یہی کلیہ و دستورِ وفا مانیں گے
آج کے زندہ حوالے ہی رہیں پیشِ نظر
کل کی تابندہ مثالوں کو خطا مانیں گے
شمع کچھ اپنی زباں سے نہ کہے حال اپنا
اب نہ پروانے اسے دل کی صدا مانیں گے
آرزوؤں کے گہر ہوتے ہی بے آب میاں!
لوگ اس کو بھی دغا نا کہ خطا مانیں گے
وہ جو اٹھتی ہے ڈبونے کے لیے موجِ سراب
پیاس کے صحرا میں اس کو بھی روا مانیں گے
جب نہ پروانوں میں ہو گرمیٔ کردار کہیں
پھر اُجالوں کو وہ کیوں قبلہ نُما مانیں گے
اے شکیل آپ جو لکھ لائے ہیں یہ ایک غزل
کیا اسے حضرتِ اعجاز بجا مانیں گے؟